Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17151

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَسْلَمَ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ فَقُلْتُ وَهَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ أُخْرَى قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَك حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ لِنِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ انْهَهُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ بَيْنِ ذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانَ هُوَ وَقَلْبُهُ وَوَجْهُهُ أَوْ كُلُّهُ نَحْوَ الْوَجْهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ انْصَرَفَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ عَشْرًا أَوْ عِشْرِينَ مَا حَدَّثْتُ بِهِ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ پر کون لوگ اسلام لائے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزاد بھی اور غلام بھی (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ نے آپ کو جو علم دیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیجئے؟ کیا کوئی وقت زیادہ افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کا آخری پہر سب سے زیادہ افضل ہے، اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور نماز قبول ہوتی ہے، جب تم فجر کی نماز پڑھ چکو تو طلوع آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ، جب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھو جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں ، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو، کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیدا ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کو دہکایا جاتا ہے، البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو، کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو، نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفار سجدہ کرتے ہیں ۔ انسان جب وضو کرتا ہے اور ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جب بازو دھوتا اور سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے بازو اور سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، اور جب دل اور چہرے کی مکمل توجہ کے ساتھ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس طرح واپس لوٹتا ہے کہ اس کی ماں نے اسے ابھی جنم دیا ہو، کسی نے ان سے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دو نہیں ، بیس مرتبہ یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو کبھی بیان نہ کرتا۔

أتيت رسول الله قلت ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17151

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17152

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ قَالَ فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ قَالَ وَمَا الْإِيمَانُ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ قَالَ الْهِجْرَةُ قَالَ فَمَا الْهِجْرَةُ قَالَ تَهْجُرُ السُّوءَ قَالَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ الْجِهَادُ قَالَ وَمَا الْجِهَادُ قَالَ أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ قَالَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَمَلَانِ هُمَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِهِمَا حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ أَوْ عُمْرَةٌ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسلام کیا ہے؟ فرمایا تمہارا دل اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور مسلمان تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ سے محفوظ رہیں ، اس نے پوچھا سب سے افضل اسلام کون سا ہے؟ فرمایا ایمان! اس نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کہ اللہ پر، اس کے فرشتوں ، کتابوں ، پیغمبروں اور مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین رکھو، اس نے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے؟ فرمایا ہجرت، اس نے پوچھا کہ ہجرت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا گناہ چھوڑ دو، اس نے پوچھا کہ سب سے افضل ہجرت کیا ہے؟ فرمایا جہاد، اس نے پوچھا کہ جہاد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کافر سے آمنا سامنا ہونے پر قتال کرنا، اس نے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کیا ہے؟ فرمایا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس شخص کا اپنا خون بہا دیا جائے، پھر فرمایا کہ اس کے بعد دو عمل سب سے زیادہ افضل ہیں الاّ یہ کہ کوئی شخص وہی عمل کرے ایک حج مقبول اور دوسرا عمرہ۔

رَجُلٌ: ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17152

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17153

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ ثُمَّ قَالَ لَهُ ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ حَتَّى يُمَكِّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ قَالَ وَكَانَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَرُبُعُ الْإِسْلَامِ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کے ساتھ اس دین پر اور کون لوگ ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزاد بھی ہیں اور غلام بھی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی قوم میں واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو غلبہ عطاء فرما دے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں چوتھائی اسلام تھا، (اسلام قبول کرنے والوں میں سے چوتھا فرد)

قُلْتُ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17153

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17154

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ قَالَ عُثْمَانُ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِالنَّبْلِ قَالَ عُثْمَانُ رَمَى بِنَبْلٍ لَأَبْصَرَ مَوَاقِعَهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے، اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا۔

عُثْمَانُ رَمَى بِنَبْلٍ لَأَبْصَرَ مَوَاقِعَهَا ← كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ الْمَغْرِبَ وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِالنَّبْلِ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُثْمَانُ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ← صَالِحٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← حَجَّاجٌ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17154

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17155

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَعْلَى وَيَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا صَلُّوا فِيهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو، بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو ۔

لا تتخذوا بيوتكم قبورا صلوا فيها ← النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَعْلَى وَيَزِيدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17155

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17156

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ح وَيَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ يَزِيدُ أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں ایک مسلمان فوت ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو، یہ سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا (کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح انکار فرمانا اس شخص کے حق میں اچھی علامت نہ تھی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کیفیت بھانپ کر فرمایا تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں نکل کر بھی (مال غنیمت میں ) خیانت کی ہے، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایک رسی ملی جس کی قیمت صرف دو درہم کے برابر تھی۔

فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ ← صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ. ← لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ وَأَنَّهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدُ أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُ ← ابْنِ أبي عَمْرَة ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17156

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17157

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ وَقَالَ مُحَمَّدٌ لَوْلَا أَنْ يُشَقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نماز عشاء ایک تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھتا اور انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى، وَمُحَمَّدٌ، ابْنَا عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17157

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17158

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے ، اس کے لئے روزہ دار کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذراسی کمی بھی نہیں کی جائے گی ، اور جو شخص کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور مجاہد میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔

لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا ← "من فطَّر صَائِمًا ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17158

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17159

وَيَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِنْ غَيْرِ أَنْ لَا يُنْتَقَصُ

حضرت زید بن خالد ؓ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے ، اس کے لئے روزہ دار کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذراسی کمی بھی نہیں کی جائے گی ، اور جو شخص کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور مجاہد میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔

مِنْ غَيْرِ أَنْ لَا يُنْتَقَصُ ← إِلَّا أَنَّهُ ← وَيَزِيدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17159

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17160

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص نے ایک مرغے پر اس کے چیخنے کی وجہ سے لعنت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے

النَّبِيُّ لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ ← لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17160

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17161

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں بارش کے اثرات میں نماز پڑھائی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ الصُّبْحَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17161

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17162

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ مَوْلًى لِفَارِسَ وَقَالَ حَجَّاجٌ مَوْلَى الْفَارِسِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا قَالَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَالَ يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں مجھے عصر کے بعد دو سنتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھ کر دوران نماز ہی درے سے مارنا شروع کر دیا، نماز سے فارغ ہو کر زید نے عرض کیا امیر المومنین! میں نے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اللہ کی قسم! میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور فرمایا اے زید بن خالد! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ اسے رات تک نماز کے لئے سیڑھی بنالیں تو میں ان رکعتوں پر کبھی نہ مارتا۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← حَجَّاجٌ مَوْلَى الْفَارِسِيِّ ← ابْنُ بَكْرٍ مَوْلًى لِفَارِسَ ← رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ ← أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17162

chevron_left Previous
1…181920…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter