Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21065

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَمْشِي فِي نَعْلَيْنِ بَيْنَ الْقُبُورِ فَقَالَ يَا صَاحِبَ السَّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا

حضرت بشیر بن خصاصیہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قبرستان میں جوتیاں پہن کر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اے سبتی جوتیوں والے انہیں اتار دو۔

بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← أَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21065

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21066

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ قَالَ قُلْنَا لِبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا إِنَّ لَنَا جِيرَةً مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا تَشُدُّ لَنَا قَاصِيَةٌ إِلَّا ذَهَبُوا بِهَا وَإِنَّهَا تَجِيءُ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَشْيَاءُ أَفَنَأْخُذُهَا قَالَ لَا

بنوسدوس کے ایک آدمی دیسم کا کہنا ہے کہ ہم نے حضرت بشیر بن خصاصیہ جن کا اصل نام بشیر نہیں تھا ان کا یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا سے پوچھا کہ ہمارے کچھ بنوتمیم کے ہمسایہ ہیں ہماری جو بکری بھی ریوڑ سے جدا ہوتی ہے وہ اسے پکڑ کر لے جاتے ہیں بعض اوقات ان کے مال میں سے کچھ ان کی نظروں سے چھپ کر ہمارے پاس آجاتا ہے تو کیا ہم بھی اس کو پکڑ سکتے ہیں انہوں نے کہا نہیں۔

قُلْنَا لِبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ ← رجل من بنى سدوس يقال له ديسم ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بهز وعفان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21066

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21067

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ وَكَانَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ بَشِيرًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

بنوسدوس کے ایک آدمی دیسم کا کہنا ہے کہ ہم نے حضرت بشیر بن خصاصیہ جن کا اصل نام بشیر نہیں تھا ان کا یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا سے پوچھا کہ ہمارے کچھ بنوتمیم کے ہمسایہ ہیں ہماری جو بکری بھی ریوڑ سے جدا ہوتی ہے وہ اسے پکڑ کر لے جاتے ہیں بعض اوقات ان کے مال میں سے کچھ ان کی نظروں سے چھپ کر ہمارے پاس آجاتا ہے تو کیا ہم بھی اس کو پکڑ سکتے ہیں انہوں نے کہا نہیں۔

بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ وَكَانَ أَتَى النَّبِيَّ فَسَمَّاهُ بَشِيرًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← شَيْخٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ دَيْسَمٌ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21067

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21068

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِهِ فَقَالَ لِي يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَهُ قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ آخِذًا بِيَدِهِ قَالَ قُلْتُ مَا أَصْبَحْتُ أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ خَيْرٍ قَالَ فَأَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَتَيْنَا عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُهَا قَالَ فَبَصُرَ بِرَجُلٍ يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِ سِبْتِيَّتَكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَنَظَرَ الرَّجُلُ فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ

حضرت بشیر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام کر چل رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابن خصاصیہ تم نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ تم اللہ سے ناراض ہو تم نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تم اللہ کے پیغمبر کے ساتھ چل رہے ہو میں نے عرض کیا واقع ہی میں نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ میں اللہ سے ناراض ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے ہر خیر عطا فرما رکھی ہے پھر ہم لوگ مشرکین کی قبروں کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ان لوگوں سے بہت ساری خیر آج بڑھ گئی تو پھر مسلمانوں کی قبروں کے پاس پہنچے تو تین مرتبہ فرمایا کہ ان لوگوں نے بہت ساری خیر حاصل کرلی اسی دوران آپ کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتیاں پہنے چل رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بھائی سبتی جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتاردو دو تین مرتبہ فرمایا کہ اس آدمی نے مڑ کر دیکھا جونہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظریں پڑیں تو اس نے اپنی جوتیاں اتار دیں۔

بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ بَشِيرِ رَسُولِ اللَّهِ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← أَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21068

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21069

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سُمَيْرٍ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ قَالَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ زَحْمٌ قَالَ لَا بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ فَكَانَ اسْمَهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو شَيْبَانَ وَهُوَ الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ أَحْسَبُهُ قَالَ آخِذًا بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي مَا أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِ سِبْتِيَّتَكَ

حضرت بشیر جن کا زمانہ جاہلیت میں نام زحم بن معبد تھا جب انہوں نے ہجرت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا نام پوچھا انہوں نے فرمایا کہ زحم۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں تمہارا نام بشیر ہے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام کر چل رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابن خصاصیہ تم نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ تم اللہ سے ناراض ہو تم نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تم اللہ کے پیغمبر کے ساتھ چل رہے ہو میں نے عرض کیا واقعی میں نے اس حال میں صبح نہیں کی کہ میں اللہ سے ناراض ہوں کیونکہ اللہ نے مجھے ہر خیر عطا فرما رکھی ہے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ارے بھائی سبتی جوتیوں والے اپنی جوتیاں اتار دو۔

بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدِ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21069

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21070

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فَقَدِمَتْ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ أَنَّ أُخْتَهَا كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَتْ أُخْتِي غَزَوْتُ مَعَهُ سِتَّ غَزَوَاتٍ قَالَتْ كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى فَسَأَلَتْ أُخْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ تَخْرُجَ فَقَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا وَلْتَشْهَدْ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَسَأَلْتُهَا أَوْ سَأَلْنَاهَا هَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا إِلَّا قَالَتْ بَيْبًا فَقَالَتْ نَعَمْ بَيْبًا قَالَ لِيَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوْ قَالَتْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى فَقُلْتُ لِأُمِّ عَطِيَّةَ الْحَائِضُ فَقَالَتْ أَوَلَيْسَ يَشْهَدْنَ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا

حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں کہ ہم اپنی نوجوان لڑکیوں کو باہر نکلنے سے روکتے تھے اسی زمانہ میں ایک عورت آئی اور قصر بن خلف میں قیام پذیر ہوئی اس نے بتایا کہ اس کی بہن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے نکاح میں تھی جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں حصہ لیا تھا جن میں سے میری بہن کہتی ہے میں نے بھی حصہ لیا ہے میری بہن کا کہنا ہے کہ ہم لوگ زخمیوں کا علاج کرتیں تھیں اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتیں تھیں پھر ایک مرتبہ میری بہن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کیا اگر ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو اور وہ نماز عید کے لئے نہ نکل سکے تو کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی سہیلی کوچاہئے کہ اسے اپنی چادر میں شریک کرلے اور وہ بھی خیر اور مسلمانوں کی دعاء کے موقع پر حاضرہو۔ حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں پھر جب حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ آئیں تو ہم نے ان سے پوچھا تو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کچھ فرماتے ہوئے سناہے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب بھی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتیں تویوں ضرورکہتیں میر اباپ ان پر قربان ہو چنانچہ انہوں نے اب بھی فرمایا جی ہاں میر اباپ ان پر قربان ہو انہوں نے فرمایا نوجوان پردہ نشین لڑکیوں اور ایام والی عورتوں کو بھی نماز کے لئے نکلنا چاہئے تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا کے موقع پر شریک ہوسکیں البتہ ایام والی عورتیں نمازیوں کی صفوں سے دور رہیں میں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے ایام والی عورت کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ کیا یہ عورتیں عرفات میں نہیں جاتیں اور فلاں فلاں موقع پر حاضر نہیں ہوتیں۔

كنا نمنع عواتقنا ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21071

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ عَلَيْهَا السَّلَام فَقَالَ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ قَالَ وَقَالَتْ حَفْصَةُ قَالَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا قَالَ وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کو غسل دے رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسے تین یا اس سے زیادہ طاق عدد میں غسل دو اگر مناسب سمجھو تو پانی میں بیری کے پتے ملادو اور سب سے آخر میں اس پر کافور لگا دینا۔ اور جب ان چیزوں سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے بتا دینا چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تہبند ہماری طرف پھینک کر فرمایا کہ اس کے جسم پر سر سے پہلے لپیٹ دو ام عطیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہم نے حضرت زینب کے بالوں میں کنگھی کرکے تین چوٹیاں بنا دیں۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21071

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21072

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كَانَ فِيمَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا تَنُحْنَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسِ نِسْوَةٍ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت جو شرائط لگائی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ تم نوحہ نہیں کروگی لیکن پانچ عورتوں کے علاوہ ہم میں سے کسی نے اس وعدے کو وفا نہیں کیا۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21073

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ وَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأَقُومُ عَلَى مَرْضَاهُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاهُمْ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزاوت میں حصہ لیا ہے اور میں خیموں میں رہ کر مجاہدین کے لئے کھانا تیار کرتی تھی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21073

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21074

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْ نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ قِيلَ أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ فَلْتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں نوجوان پردہ نشین لڑکیوں اور ایام والی عورتوں کو نماز کے لئے نکلنا چاہیے تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا کے موقع پر شریک ہوسکیں البتہ ایام والی عورتیں نمازیوں کی صفوں سے دور رہیں کسی شخص نے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو وہ کیا کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اس کی بہن اپنی چادر اڑھا دے۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← هِشَامٌ وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21074

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21075

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا قَالَ يَزِيدُ أَوْ فِي طُهْرِهَا فَإِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے البتہ شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن سوگ منائے اور عصب کے علاوہ کسی رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے سرمہ نہ لگائے اور خوشبو نہ لگائے الاّ یہ کہ پاکی کے ایام آئے تو لگالے۔ یعنی جب وہ اپنے ایام سے پاک ہو تو تھوڑی عصب یا ازفار نامی خوشبو لگالے۔

أُمِّ عَطِیَّۃَ الأَنصَارِیَّۃِ، ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← هِشَامٌ وَيَزِيدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21075

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21076

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ لَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا وَاجْعَلْنَ فِي الْخَامِسَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا غَسَّلْتُنَّهَا فَأَعْلِمْنَنِي قَالَتْ فَأَعْلَمْنَاهُ فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ وَقَالَ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےحضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب کو غسل دے رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اسے تین یا اس سے زیادہ طاق عدد میں غسل دو اگر مناسب سمجھو تو پانی میں بیری کے پتے ملادو اور سب سے آخر میں اس پر کافور لگا دینا۔ اور جب ان چیزوں سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے بتا دینا چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تہبند ہماری طرف پھینک کر فرمایا کہ اس کے جسم پر سر سے پہلے لپیٹو۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21076

chevron_left Previous
1…353637…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter