Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21041

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ سَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ

حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو فرما رہے تھے اس لئے جواب نہیں دیا جب وضو فرماچکے تو میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی لیکن میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بے وضو ہونے کی حالت میں اللہ کا نام لوں۔

لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ← سَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ ← الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ ← حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21041

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21042

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ابْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ

حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو فرما رہے تھے اس لئے جواب نہیں دیا جب وضو فرماچکے تو میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی لیکن میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بے وضو ہونے کی حالت میں اللہ کا نام لوں۔

الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ← حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21042

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21043

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ أَوْ قَدْ بَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى تَوَضَّأَ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ

حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کررہے تھے یا کرچکے تھے میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کرلیا اور پھر مجھے جواب دیا۔

الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21043

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21044

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ وَحَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ حِينَ حَضَرَ فَمَرَّ رَجُلٌ فِي أَقْصَى الدَّارِ قَالَ فَأَبْصَرْتُهُ فِي وَجْهِ قَتَادَةَ قَالَ وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ كَانَ عَلَى وَجْهِهِ الدِّهَانُ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ وَجْهَهُ

ابوعلاء بن عمیر کہتے ہیں کہ میں اس وقت حضرت قتادہ بن ملحان کے پاس موجود تھا جب ان کے انتقال کا وقت قریب آیا اس لمحے گھر کے آخری کونے سے ایک آدمی گذرا میں نے اسے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دیکھا کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو جب بھی دیکھتا تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کے چہرے پر روغن ملا ہوا ہو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔

وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ مَسَحَ وَجْهَهُ ← وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ كَانَ عَلَى وَجْهِهِ الدِّهَانُ ← فَأَبْصَرْتُهُ فِي وَجْهِ قَتَادَةَ ← كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ حِينَ حَضَرَ فَمَرَّ رَجُلٌ فِي أَقْصَى الدَّارِ ← أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ الْجُرَيْرِيِّ ← وَحَدَّثَ أَبِي ← مُعْتَمِرٌ ← عَارِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21044

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21045

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا ثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ قَالَ أَبِي عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

ابوعلاء بن عمیر کہتے ہیں کہ میں اس وقت حضرت قتادہ بن ملحان کے پاس موجود تھا جب ان کے انتقال کا وقت قریب آیا اس لمحے گھر کے آخری کونے سے ایک آدمی گذرا میں نے اسے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دیکھا کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو جب بھی دیکھتا تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کے چہرے پر روغن ملا ہوا ہو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔

أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← أَبِي ← مُعْتَمِرٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21045

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21046

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ أَوْ قَالَ تَقْرَءُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ قَالَ خَالِدٌ وَحَدَّثَنِي بَعْدُ وَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ إِنْ شَاءَ قَالَ لَا أَذْكُرُهُ

ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ واقع ہی ہم ایسا کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔

لَا أَذْكُرُهُ ← خَالِدٌ وَحَدَّثَنِي بَعْدُ وَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ إِنْ شَاءَ ← فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ ← نَعَمْ ← تَقْرَءُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ ← أَتَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ أَوْ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← أَبَا قِلَابَةَ ← خَالِدٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21046

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21047

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ قَالَ بَهْزٌ إِنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ قَالَ ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا قَالَ فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْ الْبَابِ الْآخَرِ قَالَ فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُغِيرَةُ قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ قَالُوا فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَكَانَ يَقُولُ أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کے وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے لوگ کہنے لگے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کس طرح پڑھیں حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ایک گروہ ایک گروہ کی شکل میں داخل ہوں چنانچہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درود وسلام پڑھتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا گیا تو حضرت مغیرہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کی جانب کچھ حصہ رہ گیا ہے جسے صحیح نہیں کیا گیا لوگوں نے کہا پھر آپ ہی قبر میں اتر کر صحیح کردیں چنانچہ وہ قبر میں اترے اور اپنا ہاتھ قبر میں ڈالا جب قدم مبارک کو چھوا توکہنے لگے کہ آج میری طرف سے مٹی ڈالو لوگوں نے مٹی ڈالنا شروع کردی یہاں تک کہ وہ ان کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچ گیا۔ پھر وہ باہر نکلے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب کا زمانہ مجھے ملا ہے۔

بَهْزٌ ← أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ ← أبي عمران يعنى الجوني ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ، وَأَبُو كَامِلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21048

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي وَرَحْمَةٌ لَهُمْ وَرِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِينَ

حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد جبرائیل بخار اور طاعون کو لے کر آئے میں نے بخار کو مدینہ منورہ ہی میں روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا اب طاعون میری امت کے لئے شہادت اور رحمت ہے اور جب کہ کافروں کے لئے عذاب ہے۔

أَبَا عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21049

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ أَطْعِمْنَا بُسْرًا فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ أَوْ حَجَرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنْ الْحَرِّ وَالْقُرِّ

حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو میرے پاس سے گذرتے ہوئے مجھے بھی بلا لیا میں ہمراہ ہولیا پھر حضرت ابوبکر کی طر ف گذرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے پھر حضرت عمر کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکرم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا ہمیں کچی پکی کھجوریں کھلاؤ وہ ایک خوشہ لے کر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھیوں نے اسے تناول فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوا کر وہ نوش فرمایا اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق بھی سوال ہوگا یہ سن کر حضرت عمر نے وہ خوشہ پکڑا اور زمین پر دے مارا جس سے کھجوروں کے دانے بکھر گئے اور ان سے کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی چلے گئے پھر وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ قیامت کے دن ہم اس کے متعلق بھی پوچھا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سوائے تین چیزوں کے ایک وہ کپڑا جس سے آدمی اپنی شرمگاہ کو چھپائے روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے اپنی بھوک مٹائے یا وہ سوراخ جس میں گرمی، سردی سے بچاؤ کے وہ داخل ہوجائے۔

أبي عسيب ← أَبِي نُصَيْرَةَ ← حَشْرَجٌ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21049

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21050

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَرِّ عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي فَقَالَ ابْنُكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ

حضرت خشخاش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے میں نے عرض کی جی ہاں میں اس کی گواہی دیتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔

لاَ يَجْنِي عَلَيْكَ وَلاَ تَجْنِي عَلَيْهِ، ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعِي ابْنٌ لِي فَقَالَ ابْنُكَ ← الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ← مُخْبِرٌ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21050

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21051

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ تَرَوْنَ هَذَا الشَّيْخَ يَعْنِي نَفْسَهُ كَلَّمْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ وَرَأَيْتُ الْعَلَامَةَ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَهِيَ فِي طَرَفِ نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى كَأَنَّهُ جُمْعٌ يَعْنِي الْكَفَّ الْمُجْتَمِعَ وَقَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَهَيْئَةِ الثَّآلِيلِ

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ اس شیخ کو دیکھ رہے ہو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کی ہیں آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کی طرح تھی انہوں نے ہاتھ سے مٹھی کاشارہ کیا اور اس پر مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21051

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21052

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21052

chevron_left Previous
1…333435…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter