Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21005

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ نُبَيْشَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْ يَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا

حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے منع اس لئے کیا تھا کہ وہ تم سب تک پہنچ جائے اب اللہ نے وسعت فرمادی ہے لہذا اسے کھاؤ، ذخیرہ کرو اور تلاوت کرو۔

نُبَيْشَةَ ← أبي مليح بن أسامة، ← خَالِدٌ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21005

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21006

أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

اور یاد رکھو کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔

الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21006

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21007

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ خَالِدٌ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِالْخَيْرِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا

حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے ممانعت اس لئے کر رکھی ہے کہ وہ تم سب تک پہنچ جائے اب اللہ نے وسعت فرمادی ہے لہذا اسے کھاؤ ، ذخیرہ کرو اور تجارت کرو۔

إني كنت نهيتكم ← نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← خَالِدٌ: وَأَحْسَبُنِي قَدْ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21007

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21008

وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرٍ لِلَّهِ تَعَالَى

اور یاد رکھو کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔

للَّهِ تعالى ← وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21008

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21009

فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا فَقَالَ اذْبَحُوا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا فَقَالَ رَجُلٌ آخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنْ الْغَنَمِ فَرَعٌ تَغْذُوهُ غَنَمُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ

حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں ایک قربانی کیا کرتے تھے آپ اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نام پر جس مہینے میں چاہو ذبح کرسکتے ہو، اللہ کے لئے نیکی کیا کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو ۔ ایک اور آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ زمانہ جاہلیت میں ہم لوگ پہلونٹھی کا جانور بھی ذبح کردیا کرتے تھے اس حوالے سے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چرنے والے جانور کا پہلونٹھی بچہ ہوتا ہے جسے تم کھلاتے پلاتے ہو، جب وہ بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجائے تم اسے ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرو،غالبا یہ فرمایا مسافر پر کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔

رَجُلٌ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21009

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21010

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ وَهُوَ يَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَهَا قَالَ فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً

حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ مجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔

فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ ← «هَلْ تَعْرِفُونَهَا؟» ← وَھُوَ ← انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ يَوْمَ عَرَفَةَ ← حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21010

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21011

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٌٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو رَمْلَةَ عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ رَوْحٌ الْغَامِدِيُّ قَالَ وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةُ

حضرت مخنف بن سلیم سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب آپ نے میدان عرفات میں وقوف کیا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے لوگو ہر سال ہر گھرانے پر قربانی اور عتیرہ واجب ہے راوی نے پوچھا کہ جانتے ہو کہ عتیرہ سے کیا مراد ہے یہ وہی قربانی ہے جسے لوگ رحبیہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ۔ ابتداء میں جاہلیت سے ماہ رجب میں قربانی کی رسم چلی آرہی تھی اسے عتیرہ اور رحبیہ کہا جاتا ہے بعد میں اس کی ممانعت ہو کر صرف عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا حکم باقی رہ گیا۔

وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ بِعَرَفَةَ ← رَوْحٌ الْغَامِدِيُّ ← مِخْنَف بن سُلَيم ← أَبُو رَمْلَةَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21011

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21012

حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَزْرَةُ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتَرِبْ مِنِّي فَاقْتَرَبْتُ مِنْهُ فَقَالَ أَدْخِلْ يَدَكَ فَامْسَحْ ظَهْرِي قَالَ فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي قَمِيصِهِ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ فَوَقَعَ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَقَالَ شَعَرَاتٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ

حضرت ابوزید انصاری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے قریب آؤ میں قریب ہوا تو فرمایا اپنے ہاتھ کو ڈال کر میری کمر کو چھو کر دیکھو چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیمص میں ہاتھ ڈال کر پشت مبارک پرہاتھ پھیرا تو مہر نبوت میری دو انگلیوں کے درمیان آ گئی جو بالوں کا ایک گچھا تھی۔

خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَقَالَ شَعَرَاتٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ← فَسُئِلَ ← فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي قَمِيصِهِ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ فَوَقَعَ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ اقْتَرِبْ مِنِّي فَاقْتَرَبْتُ مِنْهُ فَقَالَ أَدْخِلْ يَدَكَ فَامْسَحْ ظَهْرِي ← أَبُو زَيْدٍ، ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، ← عَزْرَةُ الْأَنْصَارِيُّ ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21012

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21013

حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْنُ مِنِّي قَالَ فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ وَأَدِمْ جَمَالَهُ قَالَ فَلَقَدْ بَلَغَ بِضْعًا وَمِائَةَ سَنَةٍ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَيَاضٌ إِلَّا نَبْذٌ يَسِيرٌ وَلَقَدْ كَانَ مُنْبَسِطَ الْوَجْهِ وَلَمْ يَنْقَبِضْ وَجْهُهُ حَتَّى مَاتَ

حضرت ابوزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے قریب آؤ پھر میرے سر اور داڑھی پر اپنا دست مبارک پر پھیرا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ اسے حسن وجمال عطا فرما اور اس کے حسن کو دوام عطا فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوزید کی عمر سو سال سے بھی اوپر ہوئی لیکن ان کے سر اور ڈارھی کے چند بال ہی سفید تھے اور آخردم تک وہ ہمیشہ مسکراتے ہی رہے اور کبھی ان کے چہرے پر انقباض کی کیفیت نہیں دیکھی گئی۔

اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ وَأَدِمْ جَمَالَهُ ← ثُمَّ ← فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ ادْنُ مِنِّي ← "أبو زيد" الأنصاري ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، ← عُزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيُّ ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21013

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21014

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ هَذَا يَوْمٌ الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ فَذَبَحْتُ لِآكُلَ وَأُطْعِمَ جِيرَانِي قَالَ فَأَعِدْ قَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنْ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَاذْبَحْهَا وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

حضرت ابوزید انصاری سے مروی ہے کہ عیدالاضحی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں کے درمیان سے گذر رہے تھے کہ آپ کو گوشت بھونے جانے کی خوشبو محسوس ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس نے جانور ذبح کیا ہے ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور عرض کیا یا رسول اللہ اس دن کھانا ایک مجبوری ہوتا ہے سو میں نے بھی اپنا جانور ذبح کرلیا تاکہ خود بھی کھاؤں اور اپنے ہمسایوں کو بھی کھلاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی دوبارہ کرو اس نے کہا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں میرے پاس تو بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے یا حمل ہے۔ اس نے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کو ذبح کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے کفایت نہیں کرسکے گا۔

فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا ← مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ ← مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا ← أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21014

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21015

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ الرِّيَاحِيُّ عَنِ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَعَثَ نُقَادَةَ الْأَسَدِيَّ إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً لَهُ وَأَنَّ الرَّجُلَ رَدَّهُ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى رَجُلٍ آخَرَ سِوَاهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ فَلَمَّا أَبْصَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ بِهَا نُقَادَةُ يَقُودُهَا قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ أَرْسَلَ بِهَا قَالَ نُقَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا قَالَ وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ وَوَلَدَهُ يَعْنِي الْمَانِعَ الْأَوَّلَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍ يَعْنِي صَاحِبَ النَّاقَةِ الَّذِي أَرْسَلَ بِهَا

حضرت نقادہ اسدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک آدمی کے پاس اونٹنی لینے کے لئے بھیجا لیکن اس شخص نے اونٹنی دینے سے انکار کردیا پھر کسی دوسرے آدمی کے پاس بھیجا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹنی روانہ کردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ نقادہ اونٹنی لے آئے ہیں تو فرمایا اے اللہ اس اونٹنی میں اور اسے بھیجنے والے کو برکت عطا فرما نقادہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کے لئے بھی تو دعا کردیجیے جو اسے لے کر آیا ہے نبی نے فرمایا اور اسے لانے والے کو بھی برکت عطا فرما پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے دوہا گیا تو اس نے خوب دودھ دیا نبی نے اس پہلے آدمی جس نے اونٹنی دینے سے انکار کردیا تھا حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ فلاں شخص کے مال اور اولاد میں اضافہ فرمایا اور دوسرے آدمی جس نے اونٹنی بھجوائی تھی کے حق میں فرمایا اے اللہ روزانہ اور تدریجا رزق عطا فرما۔

نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ، ← الْبَرَاءِ السُّلَيْطِيِّ، ← سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ الرِّيَاحِيُّ ← غَسَّانَ بْنُ بَرْزِينَ، ← يُونُسُ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21015

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21016

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ فَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ الضَّالُّونَ يَعْنِي النَّصَارَى قَالَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ أَوْ قَالَ غُلَامُكَ فُلَانٌ قَالَ بَلْ هُوَ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا

ایک صحابی سے مروی ہے کہ وادی قری میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار تھے بنوقین کے کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مغضوب علیھم ہیں اور یہودیوں کی طرف اشارہ فرمایا اس نے پوچھا پھر یہ کون ہے فرمایا یہ گمراہ ہیں اور نصاری کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کافلاں غلام شہید ہوگیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ جہنم میں اپنی چادر کھینچ رہا ہے یہ سزا ہے اس چادر کی جو اس نے مال غنیمت خیانت کرکے لی تھی۔

النَّبِيَّ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينٍ فَقَالَ ← مَنْ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ أَنَّهُ ← بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيُّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21016

chevron_left Previous
1…303132…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter