Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20945

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا غَاضِرَةُ بْنُ عُرْوَةَ الْفُقَيْمِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو عُرْوَةَ قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَجِلًا يَقْطُرُ رَأْسُهُ مِنْ وُضُوءٍ أَوْ غُسْلٍ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِينَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي يُسْرٍ ثَلَاثًا يَقُولُهَا وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً جَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ فِي كَذَا مَا نَقُولُ فِي كَذَا

حضرت عروہ فقیمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے وضو یا غسل کی وجہ سے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ پوچھنے لگے کہ یارسول اللہ کیا اس معاملے میں ہم پر کوئی تنگی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو اللہ کے دین میں آسانی ہی آسانی ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔

أبو عروة ← غاضرة بن عروة الفقيمي ← عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20945

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20946

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ الدِّيلِيُّ عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ فَمَرِضَ فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ قَالَ بِخَيْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَتُعِينَنِي قَالَ بَلَى إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ قَالَ عَلِيٌّ وَمَا هُوَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا جَارِيَةُ هَاتِ سَيْفِي فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ غِمْدًا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ طَائِفَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَلَيْهِ السَّلَام وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ اتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَهَذَا سَيْفِي فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ وَلَمْ يَدْخُلْ

عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ان کے گھر میں تھے کہ وہ بیمار ہوگئے جب انہیں اپنے مرض سے افاقہ ہوا تو کچھ ہی عرصے بعد حضرت علی بصرہ میں تشریف لائے اور ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر سلام کیا والد صاحب نے انہیں جواب دیا حضرت علی نے ان سے پوچھا ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ خیریت سے ہوں حضرت علی نے فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد نہیں کرتے انہوں نے کہا کیوں نہیں بشرطیکہ آپ اس چیز پر راضی ہوجائیں جو میں آپ کو دوں گا حضرت علی نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا لڑکی میری تلوار لاؤ میں نے نیام سمیت ان کی تلوار نکالی اور ان کی گود میں رکھ دی انہوں اس کا کچھ حصہ سے نیام سے باہر نکلا پھر سر اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونماہونے لگے تو میں لکڑی کی تلواربنا لوں یہ میری تلوار حاضر ہے اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیارہوں حضرت علی نے فرمایا فی الحال ہمیں آپ کی یا آپ کی تلوار کی فوری ضرورت نہیں ہے پھر وہ کمرے کے دروازے سے باہر تشریف لے گئے اور دوبارہ اس حوالے سے نہیں آئے۔

عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ الدِّيلِيُّ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20946

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20947

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْقَسْمَلِيِّ عَنْ ابْنَةِ أُهْبَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَتَى أُهْبَانَ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ مِنْ اتِّبَاعِي فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكِ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَتَكُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَةٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَقَدْ وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ وَالْفُرْقَةُ وَكَسَرْتُ سَيْفِي وَاتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يُكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا قَالَ فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ

عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ان کے والد کے پاس آئے اور فرمایا آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد کیوں نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونما ہونے لگے تو میں اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لوں اس وقت فتنے رونما ہورہے ہیں اس لئے میں نے اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی بنالی ہے پھر مرض الوفات میں انہوں نے اپنے اہل خانہ کو وصیت کی کہ انہیں کفن تو دیں لیکن قمیص نہ پہنائیں راوی کہتے ہیں کہ ہم انہیں قمیص پہنا دیں صبح ہوئی تو وہ کپڑے ٹانگنے والی لکڑی پر پڑی ہوئی تھی۔

ما يمنعك من اتباعي ← ابْنَةِ أُهْبَانَ،أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَتَى أُهْبَانَ، ← أَبِي عَمْرٍو الْقَسْمَلِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20947

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20948

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ شَيْءٌ فَأَعْطَاهُ نَاسًا وَتَرَكَ نَاسًا وَقَالَ جَرِيرٌ أَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا قَالَ فَبَلَغَهُ عَنْ الَّذِينَ تَرَكَ أَنَّهُمْ عَتِبُوا وَقَالُوا قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي أُعْطِي نَاسًا وَأَدَعُ نَاسًا وَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ رِجَالًا قَالَ عَفَّانُ قَالَ ذِي وَذِي وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الَّذِي أُعْطِي أُعْطِي أُنَاسًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ وَكُنْتُ جَالِسًا تِلْقَاءَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ

حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز آئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دے دیا اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا ہے وہ کچھ خفا ہیں اور باتیں کررہے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں حالانکہ جسے چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جسے دیتا ہوں میں کچھ لوگوں کو صرف اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دل بے صبری سے اور بخل سے لبریز ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اس غنا اور خیر کے حوالے کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے ان ہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے میں اس وقت بالکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے پسند نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمے کے عوض مجھے سرخ اونٹ بھی ملیں۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20948

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20949

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُعْطِي أَقْوَامًا وَأَرُدُّ آخَرِينَ وَالَّذِينَ أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الَّذِينَ أُعْطِي أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَخَافُ مِنْ هَلَعِهِمْ قَالَ وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قُلُوبِهِمْ مِنْ الْغِنَى وَالْخَيْرِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ قَالَ عَمْرٌو فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ

حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں حالانکہ جسے چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جسے دیتا ہوں میں کچھ لوگوں کو صرف اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دل بے صبری سے اور بخل سے لبریز ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اس غنا اور خیر کے حوالے کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے ان ہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے میں اس وقت بالکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے پسند نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمے کے عوض مجھے سرخ اونٹ بھی ملیں۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20949

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20950

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ ثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَلَتُقَاتِلُنَّ قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ

حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہونگے اور تم ایک ایسی قوم سے بھی قتال کروگے کہ جن کے چہرے چیٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہوں گے۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20950

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20951

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ

حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے چہرے چپٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہوں گے۔

مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20951

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20952

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ

حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہونگے۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرٌ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20952

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20953

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ قَالَ سَمَعَتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ أَوْ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ

حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہونگے اور تم ایک ایسی قوم سے بھی قتال کروگے کہ جن کے چہرے چیٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہونگے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20953

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20954

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ سَمِعَ جَرْمُوزًا الْهُجَيْمِيَّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ أُوصِيكَ أَنْ لَا تَكُونَ لَعَّانًا

حضرت جرموز سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ مجھے وصیت کیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ لعن طعن کرنے والے نہ بنو۔

قُلْتُ ← جَرْمُوزًا الْهُجَيْمِيَّ ← رَجُلٌ: ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ هَوْذَةَ الْقُرَيْعِيُّ أَنَّهُ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20954

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20955

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ وَأَصْدَقُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ

حیہ تمیمی کے والد کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردے کی کھوپڑی میں کسی چیز کے ہونے کی حقیقت نہیں نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے۔

لا شيء في الهام والعين حق وأصدق الطير الفأل ← النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى ← عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20955

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20956

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنِي حَيَّةُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ وَأَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ

حیہ تمیمی کے والد کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردے کی کھوپڑی میں کسی چیز کے ہونے کی حقیقت نہیں نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے۔

لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ وَأَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ ← النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← حَيَّةُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى ← حَرْبٌ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20956

chevron_left Previous
1…252627…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter