Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20933

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ

حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔

الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ← أَبَا حَاجِبٍ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20934

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ وَكِلَاهُمَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَعْلَمُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ نَعَمْ قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ

زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

لِلْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ وَكِلَاهُمَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ يَوْمَ ← نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ← حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← سَأَلْتُ مُحَمَّدًا ← يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20934

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20935

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ فَقَالَ لَهُ لِمَ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ قَعْ فِي النَّارِ فَأَدْرَكَ فَاحْتَبَسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ

زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسُ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20935

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20936

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ وَقَالَ لِأَخِي رَافِعٍ هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ

حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرا بھائی رافع بن عمر و امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے مہندی کا خضاب کیا ہوا تھا اور میرے بھائی نے زرد رنگ کا تو حضرت عمر نے مجھ سے فرمایا یہ اسلام کا خضاب ہے اور میرے بھائی رافع سے فرمایا کہ یہ ایمان کا خضاب ہے۔

لِأَخِي رَافِعٍ هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ ← لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ ← مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ ← وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← دَخَلْتُ ← الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20936

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20937

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ فَقَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَدِدْتُ أَنِّي أَلْقَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ فَلَقِيَهُ فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ أَمَا عَلِمْتَ أَوَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ بَلَى قَالَ فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَكَ

زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی نافرمانی نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے فرمایا کہ میں آپ کو یہی حدیث یاد کرانا چاہتا تھا۔

فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ لَكَ ← بَلٰی ← لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ عِمْرَانُ أَمَا عَلِمْتَ أَوَمَا ← فَلَقِيَهُ ← عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَدِدْتُ أَنِّي أَلْقَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ← ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ← غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَيُّوبُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20937

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20938

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّوْمِ فَقَالَ صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَاسْتَزَادَهُ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى فَزِدْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَمَا كَانَ أَنْ يَزِيدَهُ فَاسْتَزَادَهُ فَقَالَ صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا فَمَا كَانَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلْحَمَ عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ

حضرت ابوعقرب سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو میں نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہوتا ہے کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے ہر مہینے میں دو روزے رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں کچھ اضافہ کردیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہوتا ہے کہ اضافہ کردیں بس ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔

بأبي أنت وأمي ← «صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ» ← بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى فَزِدْنِي ← «صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ» فَاسْتَزَادَهُ، ← الصوم ← أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ، ← أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20938

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20939

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَوْفَلِ بْنَ أَبِي عَقْرَبٍ يَقُولُ سَأَلَ أَبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّوْمِ فَقَالَ صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي زِدْنِي قَالَ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زِدْنِي زِدْنِي صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي زِدْنِي فَإِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا قَالَ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا قَالَ فَأَلْحَمَ أَيْ أَمْسَكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَنْ يَزِيدَنِي قَالَ ثُمَّ قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ

حضرت ابوعقرب سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو میں نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہوتا ہے کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے اس سے زیادہ طاقت ہے ہر مہینے میں دوروزے رکھ لیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں کچھ اضافہ کردیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ہوتا ہے کہ اضافہ کردیں بس ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔

الصَّوْمِ فَقَالَ صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ ← سَأَلَ أَبِي رَسُولَ اللَّهِ ← أَبَا نَوْفَلِ بْنَ أَبِي عَقْرَبٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20939

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20940

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا فَأَتَى عَلَى الْحَيِّ فَحَدَّثَهُمْ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِيَاعَتَنَا ثُمَّ قُلْتُ لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا قَالَ إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزًا لَهَا وَصِيصِيَتَهَا كَانَتْ تَنْسِجُ بِهَا قَالَ فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِهَا وَصِيصِيَتَهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِي وَصِيصِيَتِي وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصِيَتِي قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصِيَتُهَا وَمِثْلُهَا وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ قَالَ قُلْتُ بَلْ أُصَدِّقُكَ

حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ طفاوہ قبیلے کا ایک آدمی ہمارے پاس سے گزرتا تھا ایک دن وہ ہمارے قبیلے میں آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنے ایک قافلے کے ساتھ مدینہ منورہ گیا تھا وہاں ہم نے اپنا سامان تجارت بیچا پھر میں نے سوچا کہ میں اس شخص یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلتا ہوں تاکہ واپس آکر اپنے پیچھے والوں کو ان کے متعلق بتاؤں چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑا وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایک گھر دکھاتے ہوئے فرمانے لگے کہ اس گھر میں ایک عورت رہتی تھی ایک مرتبہ وہ مسلمانوں کے ایک لشکر کے ساتھ نکلی اور اپنے پیچھے بارہ بکریاں اور ایک کپڑا بننے کا کونچ جس سے وہ کپڑے بنتی تھی چھوڑ گئی۔ جب وہ واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی ایک بکری اور وہ کونچ غائب ہے اس نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ پروردگار تو اپنی راہ میں جہاد کے لئے نکلنے والوں کا ضامن ہے کہ ان کی حفاظت کرے گا اب میری ایک بکری اور کونچ گم ہوگیا ہے میں تجھے قسم دیتی ہوں کہ میری بکری اور وہ کونچ واپس دلا دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شدت مناجات کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ اگلے دن اسے اس کی بکری اور اس جیسی ایک اور بکری مل گئی اسی طرح اس کا کونچ اور اس جیسا ایک اور کونچ بھی مل گیا۔ آؤ اگر چاہو تو اس عورت سے خود پوچھ لو میں نے عرض کیا کہ میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔

كَانَ رَجُلٌ مِنْ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا فَأَتَى عَلَى الْحَيِّ ← حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20940

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20941

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بَنَ حِذْيَمٍ جَدِّي أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحِذْيَمٍ اجْمَعْ لِي بَنِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَقَالَ حِذْيَمٌ يَا أَبَتْ إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ إِنَّمَا نُقِرُّ بِهَذَا عِنْدَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ قَالَ فَبَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ حِذْيَمٌ رَضِينَا فَارْتَفَعَ حِذْيَمٌ وَحَنِيفَةُ وحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ وَهُوَ رَدِيفٌ لِحِذْيَمٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حِذْيَمٍ قَالَ هَذَا وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ حِذْيَمٍ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَفْجَأَنِي الْكِبَرُ أَوْ الْمَوْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُوصِيَ وَإِنِّي قُلْتُ إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ لَا لَا لَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ وَإِلَّا فَعَشْرٌ وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ وَإِلَّا فَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُونَ فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ قَالَ فَوَدَعُوهُ وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا وَهُوَ يَضْرِبُ جَمَلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ قَالَ حَنْظَلَةُ فَدَنَا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيهِ قَالَ ذَيَّالٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوْ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعُ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ ذَيَّالٌ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ

حضرت حنظلہ بن حذیم کہتے ہیں کہ ان کے دادا حنیفہ نے انکے والد حذیم سے ایک مرتبہ کہا کہ میرے سارے بیٹوں کو یہاں اکٹھا کرو تاکہ میں انہیں وصیت کروں چنانچہ انہوں نے ان سب کو اکٹھا کیا تو حنیفہ نے کہا میں سب سے پہلے وصیت تو یہ کرتا ہوں کہ میرا یہ یتیم بھتیجا جو میری پرورش میں ہے اسے سو اونٹ دے دیئے جائیں جنہیں ہم زمانہ جاہلیت میں مطیہ کہتے تھے حذیم نے کہا کہ اباجان میں نے آپ کے بیٹوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ والد کے سامنے تو ہم اس کا اقرار کرلیں گے لیکن ان کے مرنے کے بعد اپنی بات سے پھر جائیں گے حنیفہ نے کہا میرے اور تمہارے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حذیم نے کہا کہ ہم راضی ہیں۔ چنانچہ حذیم اور حنیفہ اٹھے ان کے ساتھ حنظلہ بھی تھے جو نوعمر لڑکے تھے اور حذیم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے یہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنیفہ سے پوچھا اے ابوحذیم کیسے آنا ہوا انہوں نے کہا اس کی وجہ سے یہ کہہ کر حذیم کی ران پر ہاتھ مارا اور کہا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اچانک مجھے موت نہ آجائے اس لئے میں نے سوچا کہ وصیت کردوں چنانچہ میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ میری سب سے پہلی وصیت یہ ہے کہ میرا یہ یتیم بھتیجا جو میری پرورش میں ہے اسے سو اونٹ دیئے جائیں جنہیں ہم زمانہ جاہلیت میں مطیہ کہتے تھے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے اور غصہ کے آثار ہم نے چہرہ مبارک پر دیکھے آپ پہلے بیٹھے ہوئے تھے پھر گھٹنوں کے بل جھک گئے اور تین مرتبہ یہ فرمایا نہیں، نہیں، نہیں، صدقہ پانچ اونٹوں کا ہے ورنہ دس اونٹ ، ورنہ پندرہ اونٹ، ورنہ بیس، ورنہ تیس، ورنہ پنتیس، ورنہ چالیس اور اگر بہت زیادہ بہت زیادہ بھی ہو تو ۔ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اس یتیم کے پاس ایک لاٹھی تھی اور وہ اس کے ایک اونٹ کو مار رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا بڑی بات ہے یہ یتیم کا سونٹا ہے حنظلہ کہتے ہیں کہ پھر وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور عرض کیا کہ میرے کچھ بیٹے جوان اور کچھ اس سے کم ہیں یہ ان میں سب سے چھوٹا ہے آپ اس کے لئے اللہ سے دعا کردیجیے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے۔ ذیال کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت حنظلہ بن حذیم کے پاس کوئی ورم آلود چہرے والا آدمی لایا جاتا یا ورم آلود تھنوں والا کوئی جانور تو وہ اپنے ہاتھوں پر اپنا لعاب لگاتے اور بسم اللہ کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے اور یوں کہتے، علی موضع کف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور اس کے اوپر پھیر دیتے تو اس کا ورم دور ہوجاتا۔

حَنْظَلَةَ بَنَ حِذْيَمٍ جَدِّي ← ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20941

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20942

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيةَ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَقُلْتُ لَهُ بِيَمِينِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَا جَمِيعًا فِي الْحَدِيثِ وَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ

حضرت ابوغادیہ جہنی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے یوم عقبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو قیامت تک لوگوں کی جان ومال کو ایک دوسرے پر حرام کردیا جاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور شہر میں ہے کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ لوگوں نے تائید کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ یاد رکھو میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← جَمِيعًا فِي الْحَدِيثِ وَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ← نَعَمْ ← أَبُو سَعِيدٍ فَقُلْتُ لَهُ بِيَمِينِكَ ← بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبَا غَادِيةَ ← أَبِي ← رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ ← أَبُو سَعِيدٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20942

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20943

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحُسَيْنٌ قَالَا ثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ وَجَدْتُ مِرْثَدَ بْنَ ظَبْيَانَ قَالَ جَاءَنَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا وَجَدْنَا لَهُ كَاتِبًا يَقْرَؤُهُ عَلَيْنَا حَتَّى قَرَأَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا

حضرت مرثد سے مروی ہے کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا تو ہمیں کوئی پڑھا لکھا آدمی نہیں مل رہا تھا جو ہمیں وہ خط پڑھ کر سناتا بالآخر بنوضبیعہ کے ایک آدمی نے وہ خط پڑھ کر سنایا جس کا مضمون یہ تھا کہ اللہ کے رسول کی طرف سے بکر بن وائل کی طرف اسلام قبول کرلو سلامتی پاجاؤگے۔

وَجَدْتُ مِرْثَدَ بْنَ ظَبْيَانَ ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ وَحُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20943

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20944

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَبَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ اقْرِرْهُ حَتَّى تَلْقَانِي قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَبَضَ قَبْضَةً بِيَمِينِهِ فَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِ وَقَبْضَةً أُخْرَى يَعْنِي بِيَدِهِ الْأُخْرَى فَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِ فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا

ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی جن کا نام ابو عبداللہ لیا جاتا تھا کے پاس ان کے کچھ ساتھی عیادت کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی اور کہنے لگے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مونچھیں تراشو پھر مستقل ایسا کرتے رہو یہاں تک کہ مجھ سے آملو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے مٹھی بھری اور فرمایا یہ (مٹھی) ان (جنتیوں) کی ہے اور یہ (مٹھی) جہنمیوں کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔

أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20944

chevron_left Previous
1…242526…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter