Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20921

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا شِمْرٍ الضُّبَعِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ نَعَمْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء 'حنتم' مزفت اور نقیر سے منع فرمایا ہے۔

نَعَمْ ← أَبِي قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْمُزْنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عائذ بن عمرو ← أَبَا شِمْرٍ الضُّبَعِيَّ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20921

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20922

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ خَلِيفَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْغُبَرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَلَحَّ عَلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْمَنْزِلَ وَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْحُجْرَةِ وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ فِي الْمَسْأَلَةِ مَا سَأَلَ رَجُلٌ رَجُلًا وَهُوَ يَجِدُ لَيْلَةً تُبِيتُهُ فَأَمَرَ لَهُ بِطَعَامٍ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور بڑی منت سماجت سے سوال کرنے لگا وہ کہہ رہا تھا یارسول اللہ مجھے کچھ کھلا دیجئے یارسول اللہ مجھے کچھ دے دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھر میں چلے گئے اور اپنے حجرے کے دونوں کواڑ پکڑ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تمہیں وہ بات معلوم ہوتی جو سوال کرنے سے مجھے معلوم ہے تو کوئی آدمی اپنے پاس ایک رات گزارنے کے بقدر سامان ہونے کی صورت میں کسی دوسرے سے سوال نہ کرتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔

بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا إِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَلَحَّ عَلَيْهِ فِي الْمَسْأَلَةِ ← عائذ بن عمرو المزنى. ← خَلِيفَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْغُبَرِيَّ، ← بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20922

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20923

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا ثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ شَيْخٌ لَهُ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ وَقَالَ يُونُسُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس شخص کو اس رزق میں سے کچھ حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں کشادگی کرے اور اگر اس کو اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو۔

مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ ← النَّبِيِّ ← عائذ بن عمرو ← عَبْدُ الصَّمَدِ:، شَيْخٌ لَهُ، ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← يُونُسُ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20923

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20924

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ قَالَ قَالَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَرَضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيُوَسِّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس شخص کو اس رزق میں سے کچھ حاصل ہو اسے چاہئے کہ اس کے ذریعے اپنے رزق میں کشادگی کرے اور اگر اس کو اس کی ضرورت نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو دے دے جو اس سے زیادہ ضرورت مند ہو۔

النَّبِيِّ ← عائذ بن عمرو ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20924

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20925

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ أُرَاهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رِزْقًا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَلْيَقْبَلْهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي مَا الْإِشْرَافُ قَالَ تَقُولُ فِي نَفْسِكَ سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ سَيَصِلُنِي فُلَانٌ

حضرت عائذ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے جس شخص کو اس کے رزق میں سے بن مانگے کچھ حاصل ہو اسے چاہیے کہ اسے قبول کرلے۔

أَبُو الْأَشْهَبِ أُرَاهُ ← عائذ بن عمرو ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20925

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20926

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنْ الْجَنَّةِ

حضرت رافع بن عمرو سے مروی ہے کہ میں جس وقت خدمت گزاری کی عمر میں تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور صخرہ بیت المقدس جنت سے آئے ہیں۔

الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنْ الْجَنَّةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، ← عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيَّ ← مُشْمَعِلَّ بْنَ إِيَاسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20926

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20927

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ ثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنْ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ بِالسُّوَرِ فَتَعْرِفُ مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مُنْذُ كَمْ حَدَّثَنِيهِ حَدَّثَنِي مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةٍ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سننے والے صحابی سے مروی ہے کہ ہر سورت کو رکوع سجود میں سے اس کا حصہ دیا کرو۔

مَنْ ← أَبُو الْعَالِيَةِ، ← عَاصِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20927

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20928

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ

نافع کہتے ہیں کہ بعض اوقات حضرت ابن عمر ہمیں نماز میں ایک ہی رکعت میں دو دو تین تین سورتیں پڑھا دیتے تھے۔

رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20929

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ اسْتُعْمِلَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَى خُرَاسَانَ قَالَ فَتَمَنَّاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ حَتَّى قِيلَ لَهُ يَا أَبَا نُجَيْدٍ أَلَا نَدْعُوهُ لَكَ قَالَ لَا فَقَامَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ تَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ

زیادنے حکم بن عمروغفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20930

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا قَالَ فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِحَرِّهَا وَتُصَلُّونَ بِبَرْدِهَا إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي قَالَ فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا قَالَ فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِي الْحَكَمَ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلَّهِ الْحَمْدُ أَوْ اللَّهُ أَكْبَرُ

عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ زیاد نے حضرت عمران بن حصین کو خراسان کا گورنر مقرر کرنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کردیا ان کے دوستوں نے ان سے کہا تم خراسان کا گورنر بننے سے انکار کررہے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ واللہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کی گرمی کا شکار ہوجاؤں اور تم اس کی سردی کا شکار ہوجاؤ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں دشمن کے سامنے ہوا اور میرے پاس زیاد کا کوئی خط آجائے اب اگر میں اسے نافذ کروں تو ہلاک ہوتاہوں اور اگر نافذ نہ کروں تو میری گردن اڑادی جائے۔ پھر زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو اس پر مقرر کرنا چاہا تو وہ تیار ہوگئے حضرت عمران بن حصین کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ کوئی آدمی جا کر حضرت حکم کو میرے پاس بلا لائے چنانچہ ایک قاصد گیا اور حضرت حکم آ گئے وہ ان کے گھر میں آئے تو حضرت عمران نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت عمران نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ اکبر کہا۔

أراد زياد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20930

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20931

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي غِفَارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ

حضرت حکم بن عمرو سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے چھوڑے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ← أَبِي حَاجِبٍ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20931

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20932

حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ اسْتُعْمِلَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَى خُرَاسَانَ فَتَمَنَّاهُ عِمْرَانُ حَتَّى قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَلَا نَدْعُوهُ لَكَ فَقَالَ لَهُ لَا ثُمَّ قَامَ عِمْرَانُ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ عِمْرَانُ إِنَّكَ قَدْ وُلِّيتَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمًا ثُمَّ أَمَرَهُ وَنَهَاهُ وَوَعَظَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ الْحَكَمُ نَعَمْ قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ

زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20932

chevron_left Previous
1…232425…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter