مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20885
حَدَّثَنِي وَكِيعٌ حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ خَالِدُ بْنُ عُمَيْرٍ فَقَالَ أَبُو نَعَامَةَ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ أَبُو نَعَامَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَلَمْ يَقُلْهُ قُرَّةُ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ وَأَنْتُمْ فِي دَارٍ مُنْتَقِلُونَ عَنْهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ مَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ وَكِيعٍ يَعْنِي أَنَّهُ غَرِيبٌ
ایک مرتبہ حضرت عتبہ نے خطبہ دیتے ہوئے شروع میں اللہ کی حمدوثناء بیان کیا ور امابعد کہہ کر فرمایا کہ دنیا اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ وہ ختم ہونے والی ہے اور وہ پیٹھ کر جانے والی ہے اور اس کی بقاء اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی کسی برتن میں تری کی ہوتی ہے جو پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم ایک ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جسے کبھی زوال نہیں آئے گا لہذا بہترین اعمال کے ساتھ اس گھر کی طرف منتقل ہوجاؤ اور میں نے وہ وقت بھی دیکھاہے جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ساتواں فرد تھا اس وقت ہمارے پاس سوائے درختوں کے پتوں کے کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے چھل گئے تھے۔
إِلَّا ← أَبُو نَعَامَةَ: عَلَى الْمِنْبَرِ، وَلَمْ يَقُلْهُ قُرَّةُ، ← خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ← مِنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← أبو نعامة ← رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: خَالِدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← قُرَّۃَ ← وَكِيعٌ،
Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20885
