Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18051

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي النَّجْمِ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ الْمُطَّلِبُ وَلَمْ أَسْجُدْ مَعَهُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ قَالَ الْمُطَّلِبُّ فَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا

حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت تک مشرک تھا، اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کروں گا۔

الْمُطَّلِبُ: فَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا ← الْمُطَّلِبُ وَلَمْ أَسْجُدْ مَعَهُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ ← رأيت رسول الله سجد في النجم وسجد الناس معه ← الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18051

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18052

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا يَقْرَأُ بِهَا إِلَّا سَجَدَ مَعَهُ

حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت تک مشرک تھا، اس لئے اب میں کبھی اس میں سجدہ ترک نہیں کروں گا۔

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18052

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18053

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ يَقْبِضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا غَيْرُ الشَّهِيدِ

حضرت ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید کے علاوہ ہر مسلمان کی روح جب قبض ہوتی ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے ، کہ وہ تمہارے پاس لوٹ آئے اور اسے دنیا ومافیہا کی نعمتیں مل جائیں ۔

ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18053

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18054

و قَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ

حضرت ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اللہ کی راہ میں شہید ہونا اونٹوں اور بکریوں سے زیادہ محبوب ہے۔

ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18054

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18055

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ

حضرت ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے ہدایت لوگوں تک پہنچا۔

مُعَاوِيَةَ وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18055

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18056

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَظَرَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عَبْدِ الْحَمِيدِ أَوْ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ يَا مُحَمَّدُ فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ وَجَعَلَ يَسُبُّهُ قَالَ فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا ابْنَ زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي قَالَ أَلَا أَرَى مُحَمَّدًا يُسَبُّ بِكَ لَا وَاللَّهِ لَا تُدْعَى مُحَمَّدًا مَا دُمْتُ حَيًّا فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ لِيُغَيِّرَ أَهْلُهُمْ أَسْمَاءَهُمْ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ سَبْعَةٌ وَسَيِّدُهُمْ وَأَكْبَرُهُمْ مُحَمَّدٌ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ إِنْ سَمَّانِي مُحَمَّدًا يَعْنِي إِلَّا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا لَا سَبِيلَ لِي إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ مُحَمَّدٌ

عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابوعبدالحمید کو دیکھا جن کا نام محمد تھا ایک آدمی ان سے کہہ رہا تھا کہ اے محمد! اللہ تمہارے ساتھ ایسا ایسا کرے گا، اور انہیں گالیاں دینے لگا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے ابن زید! میرے پاس آؤ، میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے نام کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، آج کے بعد جب تک تم زندہ ہو، تمہیں محمد کہہ کر نہیں پکارا جائے گا، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا نام عبدالرحمن رکھ دیا، پھر بنو طلحہ کو بلا بھیجا تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے نام بدل لیں ، وہ لوگ سات افراد تھے جن میں سب سے بڑے اور ان کے سربراہ محمد ہی تھے، محمد بن طلحہ کہنے لگے کہ امیر المومنین! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا یہ نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے رکھا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جاؤ پھر جو نام انہوں نے رکھ دیا ہے، میں اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18056

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18057

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَالَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَبَيْنَ قِرَاءَتِي قَالَ ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ فَإِذَا أَنْتَ حَسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذَاكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِّي

ایک مرتبہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میری نماز اور قرأت میں شیطان حائل ہوجاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کا نام خنزب ہے جب تمہیں اس احساس ہو تو اعوذ باللہ پڑھ کر تین مربتہ بائیں جانب تھتکار دیا کرو، وہ کہتے ہیں میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔

أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَنَّ عُثْمَانَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18057

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18058

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَن سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَن يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَن عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَالَ الشَّيْطَانُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ایک مرتبہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میری نماز اور قرأت میں شیطان حائل ہوجاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کا نام خنزب ہے جب تمہیں اس احساس ہو تو اعوذ باللہ پڑھ کر تین مربتہ بائیں جانب تھتکار دیا کرو، وہ کہتے ہیں میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔

قُلْتُ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18058

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18059

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَؤُمَّ قَوْمَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ فَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی قوم کی امامت کرنا، اور جب امامت کرنا تو نماز مختصر پڑھانا کیونکہ لوگوں میں بچے بوڑھے کمزور، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں البتہ جو تنہا نماز پڑھیں تو جس طرح چاہیں پڑھیں ۔

مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18059

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18060

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن أَبِي نَضْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْنَا إِلَى رَجُلٍ فَحَدَّثَنَا عَنْ الدَّجَّالِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ وَمِصْرٌ بِالْحِيرَةِ وَمِصْرٌ بِالشَّامِ فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُهُ الْمِصْرُ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَقُولُ نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمْ السِّيجَانُ وَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَقُولُ نُشَامُّهُ وَنَنْظُرُ مَا هُوَ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقٍ فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ السَّحَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَاكُمْ الْغَوْثُ ثَلَاثًا فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ رُوحَ اللَّهِ تَقَدَّمْ صَلِّ فَيَقُولُ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَخَذَ عِيسَى حَرْبَتَهُ فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتِهِ فَيَقْتُلُهُ وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ فَلَيْسَ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ وَيَقُولُ الْحَجَرُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم لوگ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ تقابل کر سکیں ؟ جب جمعہ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے غسل کیا، پھر ہمارے پاس خوشبو لائی گئی، جو ہم نے لگالی، پھر ہم مسجد میں آکر ایک آدمی کے پاس بیٹھ گئے، اس نے ہمیں دجال کے متعلق حدیث سنانا شروع کر دیں، اسی اثناء میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بھی آگئے، ہم ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے، ایک شہر دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، ایک حیرہ میں اور ایک شام میں ۔ لوگوں پر تین مرتبہ خوف وہراس کے واقعات پیش آئیں گے، پھر دجال کا خروج ہوجائے گا اور وہ اہل مشرق کو شکست دے دے گا، پھر سب سے پہلے وہ اس شہر پر حملہ کرے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، وہاں کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک فرقہ تو کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ ہم اس کے پاس جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ دوسرا گروہ دیہاتیوں میں جا ملے گا اور تیسرا گروہ قریب کے شہر میں منتقل ہو جائے گا، اس وقت دجال کی معیت میں ستر ہزار افراد ہوں گے جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی اور اس کے اکثر پیروکار یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ پھر وہ دوسرے شہر کا رخ کرے گا تو وہاں کے لوگ بھی اسی طرح تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ( جیسا کہ ابھی گذرا) اس طرح مسلمان سمٹ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا ایک دستہ مقابلہ کے لئے بھیجیں گے لیکن وہ سب شہید ہو جائیں گے، اس وقت مسلمان بڑی سختی کا شکار ہوں گے، انہیں شدید بھوک اور انتہائی پریشانی کا سامنا ہوگا حتی کہ ایک آدمی اپنی کمان کی تانت جلا کر اسے کھانے لگے گا۔ ابھی وہ انہی حالات میں ہوں گے کہ ایک دن صبح کے وقت ایک منادی آواز لگائے گا اے لوگو! تمہارے پاس فریاد رس آپہنچا، لوگ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی آواز ہے، اسی وقت نماز فجر کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، مسلمانوں کا امیر (امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ان سے درخواست کرے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے کہ اس امت کے لوگ ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ، لہذا ان کا امیر ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوں گے تو اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف روانہ ہوں گے، دجال جب انہیں دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، حضرت عیسی علیہ السلام اپنا نیزہ اس کی چھاتیوں کے درمیان ماریں گے، اور اسے قتل کر ڈالیں گے، اس کے پیروکار (شکست کھا جائیں گے اور اس دن کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جو انہیں اپنے پیچھے چھپالے، حتی کہ درخت بھی کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر ہے، اور پتھر بھی کہیں گے کہ اے مومن! یہ کافر ہے۔

أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18060

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18061

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن أَبِي نَضْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَلَيْسَ شَيْءٌ يَوْمَئِذٍ يَجُنُّ مِنْهُمْ أَحَدًا وَقَالَ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم لوگ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ تقابل کر سکیں ؟ جب جمعہ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے غسل کیا، پھر ہمارے پاس خوشبو لائی گئی، جو ہم نے لگالی، پھر ہم مسجد میں آکر ایک آدمی کے پاس بیٹھ گئے، اس نے ہمیں دجال کے متعلق حدیث سنانا شروع کر دیں، اسی اثناء میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بھی آگئے، ہم ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے، ایک شہر دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، ایک حیرہ میں اور ایک شام میں ۔ لوگوں پر تین مرتبہ خوف وہراس کے واقعات پیش آئیں گے، پھر دجال کا خروج ہوجائے گا اور وہ اہل مشرق کو شکست دے دے گا، پھر سب سے پہلے وہ اس شہر پر حملہ کرے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، وہاں کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک فرقہ تو کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ ہم اس کے پاس جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ دوسرا گروہ دیہاتیوں میں جا ملے گا اور تیسرا گروہ قریب کے شہر میں منتقل ہو جائے گا، اس وقت دجال کی معیت میں ستر ہزار افراد ہوں گے جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی اور اس کے اکثر پیروکار یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ پھر وہ دوسرے شہر کا رخ کرے گا تو وہاں کے لوگ بھی اسی طرح تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ( جیسا کہ ابھی گذرا) اس طرح مسلمان سمٹ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا ایک دستہ مقابلہ کے لئے بھیجیں گے لیکن وہ سب شہید ہو جائیں گے، اس وقت مسلمان بڑی سختی کا شکار ہوں گے، انہیں شدید بھوک اور انتہائی پریشانی کا سامنا ہوگا حتی کہ ایک آدمی اپنی کمان کی تانت جلا کر اسے کھانے لگے گا۔ ابھی وہ انہی حالات میں ہوں گے کہ ایک دن صبح کے وقت ایک منادی آواز لگائے گا اے لوگو! تمہارے پاس فریاد رس آپہنچا، لوگ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی آواز ہے، اسی وقت نماز فجر کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، مسلمانوں کا امیر (امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ان سے درخواست کرے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے کہ اس امت کے لوگ ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ، لہذا ان کا امیر ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوں گے تو اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف روانہ ہوں گے، دجال جب انہیں دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، حضرت عیسی علیہ السلام اپنا نیزہ اس کی چھاتیوں کے درمیان ماریں گے، اور اسے قتل کر ڈالیں گے، اس کے پیروکار (شکست کھا جائیں گے اور اس دن کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جو انہیں اپنے پیچھے چھپالے، حتی کہ درخت بھی کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر ہے، اور پتھر بھی کہیں گے کہ اے مومن! یہ کافر ہے۔

ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ ← فَلَيْسَ شَيْءٌ يَوْمَئِذٍ يَجُنُّ مِنْهُمْ أَحَدًا ← مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ ← أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18061

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18062

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ قَالَ مُطَرِّفٌ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنْ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنْ الْقِتَالِ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزہ اسی طرح کی ڈھال ہے جیسے میدان جنگ میں تم ڈھال استعمال کرتے ہو۔

«الصَّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← مُطَرِّفٌ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عُثْمَانُ ← أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18062

chevron_left Previous
1…939495…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter