Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18003

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنِ الْأَغَرِّ أَغَرِّ مُزَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَيُغَنُّ عَلَى قَلْبِي حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ

حضرت اغر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میرے دل پر بھی غبار چھا جاتا ہے اور میں روزانہ سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں ۔

إِنَّهُ لَيُغَنُّ عَلَى قَلْبِي حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الأغر أغر مزينة ← أَبِي بُرْدَةَ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18003

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18004

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ الْأَغَرُّ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ

حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ الأَغَرُّ ← أَنَّهُ ← أَبَا بُرْدَةَ ← عَمْرٍو، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18004

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18005

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي خَبِيبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ حَتَّى صَلَّيْتُ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ثُمَّ قَالَ لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَوْ مِنْ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَالَ نَعَمْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ

حضرت ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اتفاقا وہاں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی، لیکن میں نماز پوری کرنے تک حاضر نہ ہوا، اس کے بعد حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا؟ عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں ہے کہ اے اہل ایمان! اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں کسی ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہو تو تم ان کی پکار پر لبیک کہا کرو، پھر فرمایا کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے قبل قرآن کریم کی سب سے عظیم سورت نہ سکھا دوں ؟ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ کو یاد دہانی کرائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سورت فاتحہ ہے، وہی سبع مثانی ہے اور وہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔

قُلْتُ ← مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي ← كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ فَلَمْ أُجِبْهُ حَتَّى صَلَّيْتُ فَأَتَيْتُهُ ← أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18005

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18006

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ فِيهَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَبَيْنَ الدُّنْيَا فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلْ نَفْدِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنْ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوالمعلی سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس بات میں اختیار دے دیا کہ جب تک چاہے دنیا میں رہے اور جو چاہے کھائے، اور اپنے رب کی ملاقات کے درمیان، اس نے اپنے رب سے ملنے کو ترجیح دی، یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رونے لگے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے ان بڑے میاں کو تو دیکھو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک آدمی کا ذکر کیا جسے اللہ نے دنیا اور اپنی ملاقات کے درمیان اختیار دیا اور اس نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی؟ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی حقیقت کو ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم اپنے مال ودولت، بیٹوں اور آباؤ اجداد کو آپ کے بدلے میں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں اپنی رفاقت اور اپنی مملوکہ چیزوں میں مجھ پر ابن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کے احسانات نہیں ہیں ، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کو بناتا، لیکن یہاں ایمانی اخوت ومودت ہی کافی ہے، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا: اور تمہارا پیغمبر خود اللہ کا خلیل ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، ← عبد الملك يعني ابن عمير ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18006

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18007

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ عَلَى فَرْجِهِ

حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لیے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ عَلَى فَرْجِهِ ← أَبِي الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18007

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18008

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ قَالَ شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

شریک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا۔

شَرِيكٌ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18008

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18009

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفَيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ

حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لیے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ ← رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ ← مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18009

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18010

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ يَعْنِي ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ نَضَحَ عَلَى فَرْجِهِ

حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لیے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ يَعْنِي ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ نَضَحَ عَلَى فَرْجِهِ ← الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18010

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18011

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ قَالَ فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ قَالَ فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ قَالَ فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ قَالَ عَلَى عَصًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا

شعیب بن رزیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن کا نام حکم بن حزن کلفی تھا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کی سعادت حاصل تھی، انہوں نے ایک حدیث بیان کی کہ میں سات یا نو آدمیوں کے ساتھ، جن میں ساتو اں یا نواں میں خود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی، ہم نے اندر داخل ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کی خدمت میں آپ سے اپنے لئے دعاء خیر کرانے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے دعاء خیر فرمائی، اور ہمارے متعلق حکم دیا تو ہمیں ایک جگہ لے جا کر ٹھہرا دیا گیا، اور ہمارے لئے کچھ کھجوروں کا حکم دیا، اس وقت حالات بہت خراب تھے۔ ہم چند دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ہی رہے، اس دوران ہمیں جمعہ کا دن بھی نصیب ہوا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمان یا لاٹھی سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمدوثناء کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات بہت ہلکے پھلکے اور بڑے پاکیزہ تھے، پھر فرمایا لوگو! تم تمام احکام پر ہرگز عمل نہیں کر سکتے، نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے، البتہ سیدھے راستے پر رہو اور خوشخبری قبول کرو۔

الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18011

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18012

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

شعیب بن رزیق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن کا نام حکم بن حزن کلفی تھا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کی سعادت حاصل تھی، انہوں نے ایک حدیث بیان کی کہ میں سات یا نو آدمیوں کے ساتھ، جن میں ساتو اں یا نواں میں خود تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی، ہم نے اندر داخل ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم آپ کی خدمت میں آپ سے اپنے لئے دعاء خیر کرانے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے دعاء خیر فرمائی، اور ہمارے متعلق حکم دیا تو ہمیں ایک جگہ لے جا کر ٹھہرا دیا گیا، اور ہمارے لئے کچھ کھجوروں کا حکم دیا، اس وقت حالات بہت خراب تھے۔ ہم چند دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ہی رہے، اس دوران ہمیں جمعہ کا دن بھی نصیب ہوا، اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمان یا لاٹھی سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور اللہ کی حمدوثناء کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات بہت ہلکے پھلکے اور بڑے پاکیزہ تھے، پھر فرمایا لوگو! تم تمام احکام پر ہرگز عمل نہیں کر سکتے، نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے، البتہ سیدھے راستے پر رہو اور خوشخبری قبول کرو۔

شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقِ الطَّائِفِيُّ ← شهاب بن خراش بن حوشب ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18012

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18013

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ أُقَيْشٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَشْفَعُ لِأَكْثَرَ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِهَا

حضرت حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم رات کے وقت حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا جن دو مسلمانوں (میاں بیوی) کے چار نابالغ بچے فوت ہو جائیں ، اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین بچے ہوں تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب بھی یہی حکم ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اگر دو بچے ہوں تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جسے آگ کے لئے اتنا پھیلایا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائے گا اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے مضر جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ ← الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18013

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18014

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَرْزَةَ لَيْلَةً فَحَدَّثَ لَيْلَتَئِذٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةُ أَفْرَاطٍ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَثَلَاثَةٌ قَالَ وَثَلَاثَةٌ قَالُوا وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ قَالَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ مِثْلُ مُضَرَ قَالَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا

حضرت حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم رات کے وقت حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا جن دو مسلمانوں (میاں بیوی) کے چار نابالغ بچے فوت ہو جائیں ، اللہ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین بچے ہوں تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب بھی یہی حکم ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اگر دو بچے ہوں تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جسے آگ کے لئے اتنا پھیلایا جائے گا کہ وہ اس کا ایک کونہ بن جائے گا اور میری امت میں ایک آدمی ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے مضر جتنے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَرْزَةَ لَيْلَةً فَحَدَّثَ لَيْلَتَئِذٍ ← الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← دَاوُدُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18014

chevron_left Previous
1…899091…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter