Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17907

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ شُرَحْبِيلَ ابْنَ شُفْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّهُ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ وَقَالَ شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ إِنِّي قَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ جَمَلِ أَهْلِهِ وَرُبَّمَا قَالَ شُعْبَةُ أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ وَأَنَّهُ قَالَ إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ فَاجْتَمِعُوا وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْهُ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ صَدَقَ

عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں ، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی) ۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← شُرَحْبِيلُ ابْنُ شُفْعَةَ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17907

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17908

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ فِي الطَّاعُونِ فِي آخِرِ خُطْبَةٍ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا رِجْسٌ مِثْلُ السَّيْلِ مَنْ يَنْكُبْهُ أَخْطَأَهُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبْهَا أَخْطَأَتْهُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ فَقَالَ شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ إِنَّ هَذَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ

عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں ، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی) ۔

أبي منيب ← عَاصِمٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17908

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17909

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ قَالَ فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا قَالَ فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فُقِدَتْ وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ هِيَ فَأَكْفِئُوهَا فَأَكْفَأْنَاهَا

حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایسے علاقے میں پڑاؤ کیا جہاں گوہ کی بڑی کثرت تھی، ہم نے انہیں پکڑا اور ذبح کیا، ابھی وہ ہانڈیوں میں پک رہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ ہمارے پاس تشریف لے آئے، اور فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت مفقود ہوگئی تھی، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ وہی نہ ہو، لہذا تم ہانڈیاں الٹا دو، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں الٹا دیا۔

فَبَيْنَا الْقُدُورُ تَغْلِي بِهَا إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ← فَأَصَبْنَا مِنْهَا وَذَبَحْنَا ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الضِّبَابِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17909

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17910

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ قَالَ فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ قَالَ فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَيْحَكَ أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنْ الْبَوْلِ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ

حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آڑ کے طور پر اپنے سامنے رکھا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے، کسی نے کہا کہ دیکھو تو سہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی، فرمایا ہائے افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے، ایک آدمی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کر دیا گیا۔

فَسَمِعَہُ النَّبِیُّ ← بَعْضُ الْقَوْمِ انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ ← فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17910

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17911

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْجُهَنِيُّ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ فَنَزَلْنَا بِأَرْضٍ كَثِيرَةِ الضِّبَابِ فَاتَّخَذْنَا مِنْهَا فَطَبَخْنَا فِي قُدُورِنَا فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُمَّةٌ فُقِدَتْ أَوْ مُسِخَتْ شَكَّ يَحْيَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ فَأَمَرَنَا فَأَكْفَأْنَا الْقُدُورَ قَالَ وَكِيعٌ مُسِخَتْ فَأَخْشَى أَنْ تَكُونَ هَذِهِ فَأَكْفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ

حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایسے علاقے میں پڑاؤ کیا جہاں گوہ کی بڑی کثرت تھی، ہم نے انہیں پکڑا اور ذبح کیا، پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت مفقود ہوگئی تھی، (مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ وہی نہ ہو) لہذا تم ہانڈیاں الٹا دو، چنانچہ ہم نے انہیں الٹا دیا حالانکہ اس وقت ہمیں بھوک لگی ہوئی تھی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى ← وَكِيعٌ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17911

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17912

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ دَرَقَةٌ أَوْ شِبْهُهَا فَاسْتَتَرَ بِهَا فَبَالَ جَالِسًا قَالَ فَقُلْنَا أَيَبُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ قَالَ فَجَاءَنَا فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتُمْ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا أَصَابَهُ الشَّيْءُ مِنْ الْبَوْلِ قَرَضَهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ

حضرت عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آڑ کے طور پر اپنے سامنے رکھا اور بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے، کسی نے کہا کہ دیکھو تو سہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کر رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی، فرمایا ہائے افسوس! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بنی اسرائیل کے جسم پر اگر پیشاب وغیرہ لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے، ایک آدمی نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو اسے عذاب قبر میں مبتلا کر دیا گیا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17912

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17913

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے جن کے شوہر موجود نہ ہوں ۔

نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبَا صَالِحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17913

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17914

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَصْلًا مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17914

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17915

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنْ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں ، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا، اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہو جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17915

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17916

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ فَذَكَرَهُ وَقَالَ صَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں ، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا، اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہو جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔

فَذَكَرَهُ وَقَالَ صَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17916

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17917

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَى قَالَ فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا قَالَ فَقَالَ عَمْرٌو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد بن ابی بکر قیدی بنا کر لائے گئے، عمرو نے ان سے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے، ان کی خواہش تھی کہ وہ ان سے امان طلب کریں ، چنانچہ وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تمام مسلمانوں کے سامنے ایک ادنی مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے (اور پھر اس کی حفاظت تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی) ۔

فَقَالَ عَمْرٌو ← فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا ← أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَبَى ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ ← رجل من أهل مصر، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17917

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17918

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ هَدَايَا فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کو ہدایا اور تحائف بھیجے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سب سے زیادہ بڑھا کر پیش کیا، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عمار کو ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔

رجل من أهل مصر، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17918

chevron_left Previous
1…818283…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter