Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17895

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبُكُمْ مِنِّي مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي مَسَاوِيكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے، اور میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور بداخلاق، بیہودہ گو، پھیلا کر لمبی بات کرنے والے اور جبڑا کھول کر بتکلف بولنے والے ہوں گے۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← دَاوُدُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17895

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17896

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْ مَا لَمْ يُنْتِنْ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم کسی جانور پر تیر چلاؤ اور وہ شکار تین دن تک تمہیں نہ ملے، تین دن کے بعد ملے تو اگر اس میں بدبو پیدا نہ ہوئی ہو تو تم اسے کھا سکتے ہو۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17896

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17897

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيَّ قَالَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ ثُمَّ قَالَ نُوَيْبِتَةٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَمْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ قَالَ بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ لَا تَأْكُلْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ چھوٹی سی خبر ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) خیر کی خبر ہے یا شر کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر کی، پھر فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کا گوشت نہ کھانا۔

قُلْتُ ← أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ← مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ← ابْنُ الْعَلَاءِ بْنُ زَبْرٍ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17897

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17898

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ بتائیے کہ کون سی چیزیں میرے لئے حلال اور کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا اور فرمایا کہ چھوٹی سی خبر ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) خیر کی خبر ہے یا شر کی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر کی، پھر فرمایا پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے کسی درندے کا گوشت نہ کھانا۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلاَءِ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17898

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17899

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔

حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ← أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ ← صَالِحٍ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17899

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17900

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ الْكَلَاعِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ صَوَّبَهُ فَقَالَ نُوَيْبِتَةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ قَالَ بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ فَأُرْسِلُ كَلْبِي الْمُعَلَّمَ فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَأَرْمِي بِسَهْمِي فَمِنْهُ مَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ وَمِنْهُ مَا لَا أُدْرِكُ ذَكَاتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ يَدُكَ وَقَوْسُكَ وَكَلْبُكَ الْمُعَلَّمُ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِيٍّ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسم نے مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹی سی خبر ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) خیر کی خبر ہے یا بری خبر؟ فرمایا خیر کی، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں ، میں اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں تو کبھی جانور کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور کبھی نہیں (شکار تک میرے پہنچنے سے پہلے، وہ مرچکا ہوتا ہے) اسی طرح میں تیر چھوڑتا ہوں ، تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے، میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ہاتھ، کمان اور سدھایا ہوا کتا تمہارے پاس جو چیز شکار کر کے لے آئے خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملا ہو یا نہیں ، تم اسے کھا سکتے ہو۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ صَوَّبَهُ فَقَالَ نُوَيْبِتَةٌ قُلْتُ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ ← يونس بن سيف الكلاعي ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17900

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17901

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِي خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَقْرَعُ يَدَهُ بِعُودٍ مَعَهُ فَغَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَرَمَى بِهِ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَهُ فِي إِصْبَعِهِ فَقَالَ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے ان کے ہاتھ کو ہلانے لگے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ جب نظر پڑی تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں تکلیف دی اور مقروض بنا دیا۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17901

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17902

حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعَفَّانُ وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ أَفَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذَكِّ وَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ وَقَتَلَ فَكُلْ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں ، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں ، ہم کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو، اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو، اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو، اور کھا لو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھا لو۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعَفَّانُ وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17902

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17903

حَدَّثَنِي وَهْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ جَلَسَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بِقَضِيبٍ كَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ غَفَلَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَى الرَّجُلُ بِخَاتَمِهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ خَاتَمُكَ قَالَ أَلْقَيْتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظُنُّنَا قَدْ أَوْجَعْنَاكَ وَأَغْرَمْنَاكَ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی سے ان کے ہاتھ کو ہلانے لگے، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ جب نظر پڑی تو انگلی میں انگوٹھی نظر نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید ہم نے تمہیں تکلیف دی اور مقروض بنا دیا۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ ← أَبِي ← وَھْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17903

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17904

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَإِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَصْلُحُ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَإِنْ صِدْتَ بِقَوْسِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں ، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں ، ہم کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو، اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو، اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو، اور کھا لو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھا لو۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17904

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17905

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ قَالَ فَغَضِبَ فَجَاءَ وَهُوَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقٌ نَعْلَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ

عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں ، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی) ۔

لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17905

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17906

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ شُفْعَةَ قَالَ وَقَعَ الطَّاعُونُ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّهُ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ فَقَالَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ إِنَّهُ دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَرَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ فَاجْتَمِعُوا لَهُ وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ صَدَقَ

عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جب شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ طاعون ایک عذاب ہے اس لئے تم اس علاقے سے منتشر ہو کر ان گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ، حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ ناراض ہوئے اور اپنے کپڑے گھسیٹتے ہوئے، ہاتھ میں جوتا پکڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی پائی ہے، عمرو تو اپنے گھر کے گدھے سے بھی زیادہ بیوقوفی کی بات کر رہے ہیں ، یہ تو تمہارے رب کی رحمت، تمہارے نبی کی دعاء اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی وفات کا سبب رہا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی) ۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← وقع الطاعون ← شُرَحْبِيلُ ابْنُ شُفْعَةَ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17906

chevron_left Previous
1…808182…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter