Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17763

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ

حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ أَبَاهُ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← أَبَانُ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17763

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17764

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَنَضَحَ

حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لئے۔

يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ ← الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ ← مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17764

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17765

۔حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ قَالَ سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

شریک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا۔

سَأَلْتُ أَهْلَ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ فَذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ ← شَرِيکٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17765

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17766

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَوُهَيْبٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ غَيْرُهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

شریک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حکم بن سفیان کے اہل خانہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا تھا۔

رأيت النبي ← الْحَکَمِ بْنِ سُفْيَانَ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← غَيْرُهُمَا ← أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ و ← الْحَکَمِ بْنِ سُفْيَانَ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَوُهَيْبٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17766

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17767

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمْتُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوَّ فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ فَقَالَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ قَالَ مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَهُ فَسَمِعَ ذَلِكَ آخَرُ فَقَالَ مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا فَتَنَازَعَا حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا بَأْسَ أَنْ يُحْمَدَ وَيُؤْجَرَ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذَلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ آنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ

بشر تغلبی جو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم جلیس تھے کہتے ہیں کہ دمشق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ رہتے تھے جنہیں ابن حنظلہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین طبعیت کے آدمی تھے اور لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ وہ نماز پڑھتے رہتے تھے، اس سے فارغ ہوتے تو تسبیح وتکبیر میں مصروف ہو جاتے، اس کے بعد اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک ہم لوگ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گذرے، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور آپ کو نقصان نہ پہنچے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا: جب وہ لشکر واپس آیا تو ان میں سے ایک آدمی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہنے لگا کہ کاش! تم نے وہ منظر دیکھا ہوتا جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تھا، اس موقع پر فلاں شخص نے اپنا نیزہ اٹھا کر کسی کافر کو مارتے ہوئے کہا یہ لو، میں غفاری نو جوان ہوں ، اس کے اس جملے سے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو اس نے اپنا ثواب ضائع کر دیا، دوسرے آدمی کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، اس پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی تو فرمایا سبحان اللہ! اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اسے اجر بھی ملے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگے کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ میں سوچنے لگا یہ انہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہی چھوڑیں گے۔

أبي وكان جليسا لأبي الدرداء ← قيس بن بشر التغلبي ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عبد الملك بن عمرو أبو عامر

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17767

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17768

قَالَ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ النَّفَقَةَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَبَاسِطِ يَدِهِ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا

اس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق انہی الفاظ میں کسی حدیث کی فرمائش کی، انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے اللہ کے راستہ میں گھوڑے پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے صدقہ کے لئے اپنے ہاتھوں کو کھول رکھا ہو، کبھی بند نہ کرتا ہو۔

لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ ← ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17768

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17769

قَالَ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ وَإِسْبَالُ إِزَارِهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَجَعَلَ يَأْخُذُ شَفْرَةً يَقْطَعُ بِهَا شَعَرَهُ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ قَالَ فَأَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا عِنْدَهُ شَيْخٌ جُمَّتُهُ فَوْقَ أُذُنَيْهِ وَرِدَاؤُهُ إِلَى سَاقَيْهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ

اس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق انہی الفاظ میں کسی حدیث کی فرمائش کی، انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا خریم اسدی بہترین آدمی ہے، اگر اس کے بال اتنے لمبے نہ ہوتے اور وہ شلوار ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکاتا، خریم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ایک چھری لے کر نصف کانوں تک اپنے بال کاٹ لئے اور اپنا تہبند نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، میرے والد بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو وہاں ایک بزرگ نظر آئے جن کے بال کانوں سے اوپر اور تہبند پنڈلی تک تھی، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ خریم اسدی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ ← ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17769

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17770

قَالَ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ

اس کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق ان سے فرمائش کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم لوگ اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو لہذا اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بے ہودہ گو اور فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ ← ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17770

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17771

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ أَبِي هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَرَأَيْتُ أُنَاسًا مُجْتَمِعِينَ وَشَيْخًا يُحَدِّثُهُمْ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ

قاسم جو کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد دمشق میں داخل ہوا، وہاں میں نے کچھ لوگوں کا مجمع دیکھا جنہیں ایک بزرگ حدیث سنا رہے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ہیں ، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے جناب رسول اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص گوشت کھائے، اسے چاہئے کہ نیا وضو کرے۔

سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17771

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17772

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ بِدِمَشْقَ قَالَ كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ مُتَوَحِّدًا لَا يَكَادُ يُكَلِّمُ أَحَدًا إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ فَإِذَا فَرَغَ يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ فَمَرَّ عَلَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا جَلَسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَا فُلَانُ لَوْ رَأَيْتَ فُلَانًا طَعَنَ ثُمَّ قَالَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ فَمَا تَرَى قَالَ مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَبِطَ أَجْرُهُ قَالَ فَتَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتَهُمْ فَقَالَ بَلْ يُحْمَدُ وَيُؤْجَرُ قَالَ فَسُرَّ بِذَلِكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ حَتَّى هَمَّ أَنْ يَجْثُوَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِرَارًا قَالَ نَعَمْ

بشر تغلبی جو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم جلیس تھے کہتے ہیں کہ دمشق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ رہتے تھے جنہیں ابن حنظلہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین طبعیت کے آدمی تھے اور لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ وہ نماز پڑھتے تھے رہتے، اس سے فارغ ہوتے تو تسبیح وتکبیر میں مصروف ہو جاتے، اس کے بعد اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک ہم لوگ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گذرے، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور آپ کو نقصان نہ پہنچے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا: جب وہ لشکر واپس آیا تو ان میں سے ایک آدمی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہنے لگا کہ کاش! تم نے وہ منظر دیکھا ہوتا جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تھا، اس موقع پر فلاں شخص نے اپنا نیزہ اٹھا کر کسی کافر کو مارتے ہوئے کہا یہ لو، میں غفاری نوجوان ہوں ، اس کے اس جملے سے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو اس نے اپنا ثواب ضائع کر دیا، دوسرے آدمی کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، اس پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی تو فرمایا سبحان اللہ! اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اسے اجر بھی ملے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگے کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ میں سوچنے لگا یہ انہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہی چھوڑیں گے۔

قيس بن بشر التغلبي ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17772

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17773

ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ لَوْ قَصَّ مِنْ شَعَرِهِ وَقَصَّرَ إِزَارَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَعَجَّلَ فَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَقَصَّرَ مِنْ جُمَّتِهِ وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ قَالَ أَبِي فَدَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ شَعَرُهُ فَوْقَ أُذُنَيْهِ مُؤْتَزِرًا إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ

اس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق انہی الفاظ میں کسی حدیث کی فرمائش کی، انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا خریم اسدی بہترین آدمی ہے، اگر اس کے بال اتنے لمبے نہ ہوتے اور وہ شلوار ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکاتا، خریم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ایک چھری لے کر نصف کانوں تک اپنے بال کاٹ لئے اور اپنا تہبند نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، میرے والد بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو وہاں ایک بزرگ نظر آئے جن کے بال کانوں سے اوپر اور تہبند پنڈلی تک تھی، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ خریم اسدی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17773

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17774

قَالَ ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ نَعَمْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَلِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا فِي النَّاسِ كَأَنَّكُمْ شَامَةٌ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ

اس کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق ان سے فرمائش کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم لوگ اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو لہذا اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بے ہودہ گو اور فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا۔

نَعَمْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ ← ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17774

chevron_left Previous
1…697071…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter