Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17679

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ الْإِفْرِيقِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَاءٍ قَالَ فَأَذَّنْتُ وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ قَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ أَخُو صُدَاءٍ فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ

حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طلوع فجر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان دینے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے اذان دی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو اقامت کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدائی بھائی اقامت کہے کیونکہ جو شخص اذان دیتا ہے وہی اقامت بھی کہتا ہے۔

زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ ← زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ الْأَفْرِيقِيِّ، ← محمد بن يزيد الواسطي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17679

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17680

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ أَوْ طَعَامٍ مُسَمًّى قَالَ فَأَتَانَا بَعْضُ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ وَلَا رُبُعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى قَالَ قَتَادَةُ وَهُوَ ظَهِيرٌ

حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں زمین کو بٹائی پر ایک تہائی، چوتھائی یا طے شدہ غلے پر کرایہ کی صورت میں دے دیا کرتے تھے لیکن ایک دن میرے ایک چچا میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا ہے کہ جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت زیادہ نفع بخش ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بٹائی پر زمین دینے سے اور ایک تہائی، چوتھائی یا طے شدہ غلے کے عوض کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے، اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ خود کاشت کاری کرے یا دوسرے کو اجازت دے دے، لیکن کرایہ اور اس کے علاوہ دوسری صورتوں کو آپ نے ناپسند کیا ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ ان کے چچا حضرت ظہیر رضی اللہ عنہ تھے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17680

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17681

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گذرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی، انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تک کھڑا رہے یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دن فرمایا: مہینے یا سال فرمایا؟

بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17681

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17682

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمیر جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن یسار جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے حضرت ابو جہیم بن حارث رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیر جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی، اس نے سلام کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا، بلکہ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں پر اس سے تیمم کیا اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔

أقبلت ← عُمَيْرًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17682

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17683

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ أَخْبَرَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جُهَيْمٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ فَقَالَ هَذَا تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَلَا يُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ

حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، ایک کی رائے یہ تھی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے، اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کو سات حرفوں پر پڑھا جاسکتا ہے اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔

الْآخَرُ تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَسَأَلَا النَّبِيَّ ← هَذَا تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو جُهَيْمٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17683

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17684

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ شَيْخٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَكَبِيرِنَا وَصَغِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا

حضرت ابو ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں ، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَكَبِيرِنَا وَصَغِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ← أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ ← أَبِي إِبْرَاهِيمَ شَيْخٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ -يَعْنِي: ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17684

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17685

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا

حضرت ابوابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں ، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← أَبِي إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17685

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17686

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا

حضرت ابوابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں ، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ← أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ ← شَيْخٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17686

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17687

قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

گذشتہ حدیث میں ایک دوسری سند سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے جسے زندگی عطاء فرما، اسلام پر عطاء فرما اور جسے موت عطاء فرما اسے ایمان پر عطا فرما۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17687

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17688

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعَهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بِهَؤُلَاءِ الثَّمَانِ الْكَلِمَاتِ وَزَادَ كَلِمَتَيْنِ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ

حضرت ابو ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں ، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔ گذشتہ حدیث میں ایک دوسری سند سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے جسے زندگی عطاء فرما، اسلام پر عطاء فرما اور جسے موت عطاء فرما اسے ایمان پر عطا فرما۔

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ← أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعَهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17688

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17689

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

حضرت ابو ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں ، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔ گذشتہ حدیث میں ایک دوسری سند سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے جسے زندگی عطاء فرما، اسلام پر عطاء فرما اور جسے موت عطاء فرما اسے ایمان پر عطا فرما۔

النَّبِيِّ بِنَحْوِهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17689

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17690

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ مَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً قَالَ نَاوِلِينِيهِ فَرَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَجَعَلتْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ قَالَ فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ قَالَ انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ قَالَ وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجَبَّانَةِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى مِنْ شَيْءٍ يُوَارِينِي قُلْتُ مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أُرَاهَا تُوَارِيكَ قَالَ فَمَا بِقُرْبِهَا قُلْتُ شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا فَرَجَعَتْ قَالَ وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَهُ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى صَوَّبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ وَيْحَكَ انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا قَالَ فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا فَقَالَ وَمَا شَأْنُهُ قَالَ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ عَمِلْنَا عَلَيْهِ وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ حَتَّى عَجَزَ عَنْ السِّقَايَةِ فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي أَوْ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَوَسَمَهُ بِسِمَةِ الصَّدَقَةِ ثُمَّ بَعَثَ بِهِ

حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، چنانچہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا، دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں ، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو، اس نے پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے دشمن خدا! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے ( اور یہ صحیح ہے) یہ بکریاں آپ لے جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیچے اتر کر اس میں سے صرف ایک بکری لے لو اور باقی اسے واپس لوٹا دو۔ اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحراء کی طرف نکلا، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، تمہیں کوئی جگہ نہیں دکھائی دے رہی اور بظاہر یہ درخت بھی آڑ نہیں بن سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کے قریب کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اسی جیسا یا اس کے قریب قریب ہی ایک اور درخت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے اکٹھے ہو جاؤ، چنانچہ وہ دونوں اکٹھے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت فرمائی، پھر واپس آکر فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چنانچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی کا ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں ، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کر دیتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو، یا قیمۃ دے دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ آپ کا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔

يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17690

chevron_left Previous
1…626364…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter