Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17655

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ الْعَبْسِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامٍ فَذَكَرَهُ

حضرت منہال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایام بیض کے روزے جو کہ ثواب میں پورے مہینے کے برابر ہیں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

كَانَ النَّبِيُّ يَأْمُرُ بِصِيَامٍ فَذَكَرَهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ الْعَبْسِيِّ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17655

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17656

حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَخْرُجُ فَنَرَى قُرَيْشًا تَحَدَّثُ فَإِذَا رَأَوْنَا سَكَتُوا فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ إِيمَانٌ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِقَرَابَتِي

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو قریش کو باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن جب وہ ہمیں قریب آتے ہوئے دیکھتے ہیں تو خاموش ہو جاتے ہیں ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی پر موجود رگ پھولنے لگی اور فرمایا اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ کی رضاء کے لئے اور میری قرابت داری کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرتا۔

دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ ← عبد المطلب بن ربيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17656

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17657

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُ مَا يُغْضِبُكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشِرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ وَحَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَكَانَ إِذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِي إِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ اپنے گھر سے نکلتے ہیں تو قریش کو باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن جب وہ ہمیں قریب آتے ہوئے دیکھتے ہیں تو خاموش ہوجاتے ہیں ؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی پر موجود رگ پھولنے لگی اور فرمایا اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ کی رضاء کے لئے اور میری قرابت داری کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرتا۔ پھر فرمایا لوگو! جس نے عباس کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی، کیونکہ انسان کا چچا اس کے باپ کے قائمقام ہوتا ہے۔

دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُ مَا يُغْضِبُكَ ← عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ← يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17657

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17658

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ أَتَى نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّا لَنَسْمَعُ مِنْ قَوْمِكَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ مِنْهُمْ إِنَّمَا مِثْلُ مُحَمَّدٍ مِثْلُ نَخْلَةٍ نَبَتَتْ فِي كِبَاءٍ قَالَ حُسَيْنٌ الْكِبَاءُ الْكُنَاسَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ فَمَا سَمِعْنَاهُ قَطُّ يَنْتَمِي قَبْلَهَا أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ خَلْقِهِ ثُمَّ فَرَّقَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِ الْفِرْقَتَيْنِ ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي مِنْ خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ انصاری لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کی قوم سے بہت سی باتیں سنتے ہیں ، وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال تو اس درخت کی سی ہے جو کوڑا کرکٹ میں اگ آیا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! میں کون ہوں؟ انہوں نے کہا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نسبی طور پر میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں ، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل اس طرح نسبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو جب پیدا کیا تو مجھے سب سے بہترین مخلوق میں رکھا، پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور مجھے ان میں سے بہترین حصے میں رکھا، پھر انہیں قبیلوں میں تقسی کیا اور مجھے سب سے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر انہیں خانوادوں میں تقسیم کیا اور مجھے سب سے بہترین گھرانے میں رکھا، اور میں گھرانے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← يَزِيدُ: ← يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17659

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ هُوَ وَالْفَضْلُ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُزَوِّجَهُمَا وَيَسْتَعْمِلَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيُصِيبَانِ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَحْمِيَةَ الزُّبَيْدِيِّ زَوِّجْ الْفَضْلَ وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ زَوِّجْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْدِقُ عَنْهُمَا مِنْ الْخُمُسِ شَيْئًا لَمْ يُسَمِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ وَفِي أَوَّلِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ عَلِيًّا لَقِيَهُمَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَعْمِلُكُمَا فَقَالَا هَذَا حَسَدُكَ فَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنِ الْقَوْمِ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَرُدُّ عَلَيْكُمَا فَلَمَّا كَلَّمَاهُ سَكَتَ فَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلَوِّحُ بِثَوْبِهَا أَنَّهُ فِي حَاجَتِكُمَا

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اور فضل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شادی بھی کروا دیں اور انہیں زکوۃ وصول کرنے کے لئے مقرر کر دیں تاکہ انہیں بھی کچھ مل جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ صدقات لوگوں کے مال کا میل کچیل ہوتے ہیں اس لئے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محمیہ زبیدی سے فرمایا کہ اپنی بیٹی کا نکاح فضل سے کر دو، اور نفول بن حارث سے فرمایا کہ تم اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب بن ربیعہ سے کر دو، پھر محمیہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس پر مقرر فرما رکھا تھا سے فرمایا کہ انہیں خمس میں سے اتنے پیسے دے دو کہ یہ مہر ادا کر سکیں ، اور اس حدیث کے آغاز میں یہ تفصیل بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ان دونوں سے ملاقات ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کبھی بھی زکوۃ وصول کرنے کے لئے مقرر نہیں فرمائیں گے، وہ کہنے لگے کہ یہ تمہارا حسد ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں ابو حسن ہوں ، میری رائے مقدم ہوتی ہے، میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ چنانچہ جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور حضرت زینت رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے کپڑے کو ہلا کر اشارہ کرنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا کام کر دیں گے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17659

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17660

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ فَقَالَ لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنْ الْمَنْفَعَةِ فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَاذَا تُرِيدَانِ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ فَقَالَ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا فَمَا هَذَا مِنْكَ إِلَّا نَفَاسَةٌ عَلَيْنَا لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ قَالَ فَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ أَرْسِلُوهُمَا ثُمَّ اضْطَجَعَ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا ثُمَّ قَالَ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ وَدَخَلَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ وَهُوَ حِينَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبَ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنْ الْمَنْفَعَةِ وَنُؤَدِّي إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ قَالَ فَأَشَارَتْ إِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلَامِهِ وَأَقْبَلَ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ادْعُوا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ وَكَانَ عَلَى الْعُشْرِ وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ فَأَتَيَا فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنْ الْخُمُس

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محمیہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس پر مقرر فرما رکھا تھا اور ابو سفیان بن حارث کو بلا کر ان سے فرمایا کہ انہیں خمس سے اتنے پیسے دے دو کہ یہ مہر ادا کر سکیں ۔ ایک مرتبہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ان دونوں لڑکوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجنا چاہئے، چنانچہ انہوں نے مجھے اور فضل کو بلا کر کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہیں زکوۃ کی وصولی پر مقرر کر دیں گے، تم لوگوں کی طرح ذمہ داری ادا کر دو، اور لوگوں کی منفعت حاصل کرو، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے پوچھا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے اپنا ارادہ بتایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کبھی بھی زکوۃ وصول کرنے کے لئے مقرر نہیں فرمائیں گے، وہ کہنے لگے کہ یہ تمہارا حسد ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں ابو حسن ہوں ، میری رائے مقدم ہوتی ہے، میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ چنانچہ جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے کپڑے کو ہلا کر اشارہ کرنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا کام کر دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ صدقات لوگوں کے مال کا میل کچیل ہوتے ہیں ، اس لئے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17660

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17661

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ اجْتَمَعَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محمیہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس پر مقرر فرما رکھا تھا اور ابو سفیان بن حارث کو بلا کر ان سے فرمایا کہ انہیں خمس سے اتنے پیسے دے دو کہ یہ مہر ادا کر سکیں ۔ ایک مرتبہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ان دونوں لڑکوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجنا چاہئے، چنانچہ انہوں نے مجھے اور فضل کو بلا کر کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہیں زکوۃ کی وصولی پر مقرر کر دیں گے، تم لوگوں کی طرح ذمہ داری ادا کر دو، اور لوگوں کی منفعت حاصل کرو، اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے پوچھا کہ تمہارا کیا ارادہ ہے؟ انہوں نے اپنا ارادہ بتایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کبھی بھی زکوۃ وصول کرنے کے لئے مقرر نہیں فرمائیں گے، وہ کہنے لگے کہ یہ تمہارا حسد ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں ابو حسن ہوں ، میری رائے مقدم ہوتی ہے، میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ؟ چنانچہ جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے کپڑے کو ہلا کر اشارہ کرنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا کام کر دیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ صدقات لوگوں کے مال کا میل کچیل ہوتے ہیں ، اس لئے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہیں ۔

الْحَدِيثَ. ← اجْتَمَعَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَابْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي الْمَسْجِدِ ← عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17661

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17662

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ وَكَانَ مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ قَالَ أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُ مِنْهُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّوْبَ وَأَمَرَ لِي بِنِصْفِ وَسْقٍ أَوْ وَسْقٍ

حضرت عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو غبر سے تھا کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم قحط سالی میں مبتلا ہوگئے اسی دوران میں مدینہ منورہ آیا، وہاں کسی باغ میں داخل ہوا، ایک خوشہ پکڑا اور اسے چھیل چھیل کر کھانے لگا، پھر تھوڑا سا اپنے کپڑوں میں بھی باندھ لیا، اتفاقا باغ کا مالک بھی آگیا، اس نے مجھے دیکھ کر مارنا شروع کر دیا اور میرے کپڑے بھی چھین لیے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب وہ ناواقف تھا تو تم نے اسے بتایا نہیں اور جب وہ بھوکا تھا تو تم نے اسے کھلایا نہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے میرے کپڑے واپس دلا دیئے اور میرے لئے نصف وسق یا پورے وسق کا حکم دیا۔

عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ وَكَانَ مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17662

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17663

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَيُصِيبَهُ السَّخَطُ

حضرت خرشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص مقتول کے پاس(اسے قتل کرتے وقت) موجود نہ رہا کرے، کیونکہ ممکن ہے وہ مظلوم ہونے کی حالت میں مارا گیا ہو اور وہاں حاضر ہونے والوں کو بھی اللہ کی ناراضگی مل جائے۔

لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَيُصِيبَهُ السَّخَطُ ← النَّبِيِّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17663

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17664

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى وَتَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَبَأَّسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ يَدَكَ وَتَقُولُ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ وَقَالَ حَجَّاجٌ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں ، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔

الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ ← أنس بن أبي أنس ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17664

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17665

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں ، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔

الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ ← أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17665

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17666

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَضَرَّعُ وَتَخَشَّعُ وَتَسَاكَنُ ثُمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ يَقُولُ تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ وَتَقُولُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ ثَلَاثًا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ عِنْدِي الصَّوَابُ

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں ، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔

الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← ربيعة بن الحارث ← عَبْدُ اللَّهِ ← عِمْرَانُ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17666

chevron_left Previous
1…606162…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter