Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17607

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ

حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بعد تہائی میں سے انعام بھی عطا فرمایا۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ← مَكْحُولٌ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17607

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17608

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ لَيْسَ فِي الشَّامِ رَجُلٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي التَّنُوخِيَّ

حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں خمس کے بعد چوتھائی حصہ انعام میں دیا اور واپسی پر خمس کے بعد تہائی میں سے انعام عطا فرمایا۔

أَبِي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ نَفَلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ ← حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17609

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الشَّامُ فَإِذَا خُيِّرْتُمْ الْمَنَازِلَ فِيهَا فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ

متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا، جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو دمشق نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا اور اس کا خیمہ (مرکز) غوطہ نامی علاقے میں ہوگا۔

رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17609

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17610

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر امت کے لئے ایک آزمائش رہی ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔

إن لكل أمة فتنة وإن فتنة أمتي المال ← رَسُولِ اللَّهِ ← كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17611

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فُسَيْلَةُ قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ مِنْ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ

فسیلہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ بات بھی عصبیت میں شامل ہے کہ انسان اپنی قوم سے محبت کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا نہیں ، عصبیت یہ ہے کہ انسان ظلم کے کام پر اپنی قوم کی مدد کرے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ ← أَبِي ← امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فُسيلة ← عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ← زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17612

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ

حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں ، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن ام لبید! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود ونصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔

قُلْنَا ← النَّبِيُّ شَيْئًا فَقَالَ وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ ← زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17612

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17613

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ قَالَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْمَسْجِدِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ فَقَالَ عَلَيَّ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا قَالَ مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا قَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ قَالَ أَبِي وَرُبَّمَا قِيلَ لِهُشَيْمٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ تَحَرَّفَ فَيَقُولُ تَحَرَّفَ عَنْ مَكَانِهِ

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17614

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى فَانْحَرَفَ فَرَأَى رَجُلَيْنِ وَرَاءَ النَّاسِ فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَقَالَا قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہو جایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17615

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوْ الْفَجْرِ قَالَ ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا أَوْ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَقَالَ ائْتُونِي بِهَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ قَالَ فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ قَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ قَالَ وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُهُ قَالَ فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي قَالَ فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کر دی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17616

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَشُعْبَةُ وَشَرِيكٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ قَالَ شَرِيكٌ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کر دی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔

شَرِيكٌ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: ← صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَشُعْبَةُ وَشَرِيكٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17617

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ وَقَالَ أَسْوَدُ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ قَالَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي فَوَجَدْتُهَا أَبْرَدَ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبَ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ

۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کر دی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔

ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ ← الْحَدِيثَ. ← أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ الصُّبْحَ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَسْوَدُ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← شُعْبَةُ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، وَأَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17618

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِمِنًى وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ لَمْ يُصَلِّيَا فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ لَهُمَا مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا قَالَا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمْ فِي رِحَالِكُمْ ثُمَّ أَدْرَكْتُمْ الْإِمَامَ لَمْ يُصَلِّ فَصَلِّيَا مَعَهُ فَهِيَ لَكُمْ نَافِلَةٌ

حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔

أَبِيهِ ← جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17618

chevron_left Previous
1…565758…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter