Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17355

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَلِجُ النَّارَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت عمارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ شخص جہنم میں ہرگز داخل نہی ہوسکتا جو طلوع شمس اور غروب شمس سے پہلے نماز پڑھتا ہو۔

أَبِيهِ ← ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيِّ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← شَيْبَانَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17356

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَنْبِ عِمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ وَبِشْرٌ يَخْطُبُنَا فَلَمَّا دَعَا رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ عِمَارَةُ يَعْنِي قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ أَوْ هَاتَيْنِ الْيُدِيَّتَيْنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ إِذَا دَعَا يَقُولُ هَكَذَا وَرَفَعَ السَّبَّابَةَ وَحْدَهَا

حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے جمعہ کے دن (دوران خطبہ) بشر بن مروان کو (دعاء کے لئے) ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس طرح کرتے تھے یہ کہہ کر انہوں نے اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔

حصين بن عبد الرحمن السلمي ← زُهَيْرٍ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17356

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17357

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَمْلَةَ أَنَّ أَبَا نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ الْيَهُودِيُّ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک یہودی آگیا اور کہنے لگا اے محمد! کیا یہ مردہ بول سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے، اس یہودی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بول سکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تم سے کوئی بات بیان کریں تو ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب، بلکہ یوں کہا کرو کہ ہم اللہ پر، اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بات حق ہو اور تم ان کی تکذیب کر بیٹھو، یا باطل ہو اور تم اس کی تصدیق کر بیٹھو۔

يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجِنَازَةُ؟ ← أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ← ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ، أَنَّ أَبَا نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيَّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17357

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17358

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَكِتَابِهِ وَرُسُلِهِ

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک یہودی آگیا اور کہنے لگا اے محمد! کیا یہ مردہ بول سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے، اس یہودی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بول سکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تم سے کوئی بات بیان کریں تو ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب، بلکہ یوں کہا کرو کہ ہم اللہ پر، اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بات حق ہو اور تم ان کی تکذیب کر بیٹھو، یا باطل ہو اور تم اس کی تصدیق کر بیٹھو۔

وَكِتَابِهِ وَرُسُلِهِ ← جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← بَيْنَمَا ← ابْنِ أَبِي نَمْلَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17358

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17359

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ قَالَ مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ وَتَرَكَ وَلَدًا صِغَارًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاذْهَبْ فَاقْضِ عَنْهُ قَالَ فَذَهَبْتُ فَقَضَيْتُ عَنْهُ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ قَضَيْتُ عَنْهُ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا امْرَأَةً تَدَّعِي دِينَارَيْنِ وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ أَعْطِهَا فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ

حضرت ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک یہودی آگیا اور کہنے لگا اے محمد! کیا یہ مردہ بول سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے، اس یہودی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بول سکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تم سے کوئی بات بیان کریں تو ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی تکذیب، بلکہ یوں کہا کرو کہ ہم اللہ پر، اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بات حق ہو اور تم ان کی تکذیب کر بیٹھو، یا باطل ہو اور تم اس کی تصدیق کر بیٹھو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

سعد بن الأَطول. ← أَبِي نَضْرَةَ ← عبد الملك أبي جعفر ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17359

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17360

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّتَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ وَقَالَ أَرَبُّ إِبِلٍ أَنْتَ أَوْ رَبُّ غَنَمٍ قَالَ مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِي اللَّهُ فَأَكْثَرَ وَأَطْيَبَ قَالَ فَتُنْتِجُهَا وَافِيَةً أَعْيُنُهَا وَآذَانُهَا فَتَجْدَعُ هَذِهِ فَتَقُولُ صَرْمَاءَ ثُمَّ تَكَلَّمَ سُفْيَانُ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا وَتَقُولُ بَحِيرَةَ اللَّهِ فَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ وَمُوسَاهُ أَحَدُّ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَكَ بِهَا صَرْمَاءَ أَتَاكَ قُلْتُ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ قُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ مِنْ بَنِي عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ ثُمَّ أُعْطِيهِ قَالَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ وَلَا يَخُونُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ وَالْآخَرُ يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ الَّذِي لَا يَخُونُنِي وَلَا يَكْذِبُنِي وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابوالاحوص کے والد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ مال ودولت ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے، اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے کبھی انہیں اپنے اور اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دے دیتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی طرف اور صلہ رحمی کی طرف، میں نے عرض کیا کہ اگر میرے پاس میرے چچا زاد بھائیوں میں سے کوئی آئے اور میں قسم کھالوں کہ اسے کچھ نہ دوں گا، پھر اسے دے دوں تو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور جو کام بہتر ہو وہ کرا لو، یہ بتاؤ اگر تمہارے پاس دو غلام ہوں جن میں سے ایک تمہاری اطاعت کرتا ہو، تمہاری تکذیب اور تم سے خیانت نہ کرتا ہو اور دوسرا تم سے خیانت بھی کرتا ہو اور تمہاری تکذیب بھی کرتا ہو (تو تم کسے پسند کرو گے؟) میں نے عرض کیا اس کو جو مجھ سے خیانت نہ کرے، میری تکذیب نہ کرے اور میری بات کی تصدیق کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھی تمہارے پروردگار کی نگاہوں میں یہی حال ہے۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَ ← أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ ← أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّتَيْنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17360

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17361

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قُلْتُ نَعَمْ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ وَإِبِلِهِ وَغَنَمِهِ وَرَقِيقِهِ فَقَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ

حضرت ابوالاحوص رضی اللہ عنہ کے والد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے چنانچہ شام کو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حلہ پہن کر حاضر ہوا۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شريك بن عبد الله ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17361

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17362

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ

حضرت ابوالاحوص رضی اللہ عنہ کے والد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے چنانچہ شام کو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حلہ پہن کر حاضر ہوا۔

فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ ← شَرِيكٌ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17362

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17363

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ أَمُرُّ بِهِ فَلَا يُضَيِّفُنِي وَلَا يَقْرِينِي فَيَمُرُّ بِي فَأَجْزِيهِ قَالَ لَا بَلْ اقْرِهِ قَالَ فَرَآنِي رَثَّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ فَقُلْتُ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ الْمَالِ مِنْ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ قَالَ فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ

حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے یہاں مہمان بن کر جاؤں اور وہ میرا اکرام کرے اور نہ ہی مہمان نوازی، پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا یا میں اس کی مہمان نوازی کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم اس کی مہمان نوازی کرو، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔

قُلْتُ ← أبيه مالك، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17363

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17364

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى فَأَعْطِيَنَّ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكَ

حضرت مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاتھوں کے تین مرتبے ہیں ، اللہ کا ہاتھ سب سے اوپر ہوتا ہے، اس کے نیچے دینے والے کو ہاتھ ہوتا ہے اور مانگنے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے، اس لئے تم زائد چیزوں کو دے دیا کرو، اور اپنے آپ سے عاجز نہ ہو جاؤ۔

أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبُو الزَّعْرَاءِ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17364

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17365

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ فِي مَكَانٍ مِنْ الْمَوْقِفِ بَعِيدٍ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ يَقُولُ كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ لِمَكَانٍ تَبَاعَدَهُ عَمْرٌو

یزید بن شیبان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جائے وقوف سے کچھ دور تھے کہ ہمارے پاس حضرت ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ آگئے، اور فرمانے لگے کہ میں تمہارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اپنے ان ہی مشاعر پر رکو، کیونکہ یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وراثت ہے۔

إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْکُمْ ← أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ فِي مَكَانٍ مِنْ الْمَوْقِفِ بَعِيدٍ ← يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ ← [عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ] صَفْوَانَ، ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17365

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17366

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِهِ فَوَافَتْ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ فَقَالَ أَظُنُّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدْ جَاءَ وَجَاءَ بِشَيْءٍ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُلْهِيكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ حَدَّثَنَا سَعْدٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو کہ غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا، تاکہ وہاں سے جزیہ وصول کر کے لائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بحرین سے صلح کر لی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا تھا ، چنانچہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے، انصار کو جب ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نماز فجر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہ سامنے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرا پڑے، اور فرمایا شاید تم نے ابوعبیدہ کی واپسی اور ان کے کچھ لے کر آنے کی خبر سنی ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جس سے تم خوش ہو جاؤ گے، واللہ مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں ، بلکہ مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی، اور تم اس میں ان ہی کی طرح مقابلہ بازی کرنے لگو گے اور تم اسی طرح غفلت میں پڑ جاؤ گے جیسے وہ غفلت میں پڑگئے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17366

chevron_left Previous
1…353637…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter