Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17163

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ قَالَ هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ قَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا قَالَ اعْلَمْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ أَوْ اسْتَمْتِعْ بِهَا أَوْ نَحْوَ هَذَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جائے گا، سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے پاس اس کا مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھاسکتا ہے، پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔

هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ← ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ ← أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ← خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ ← عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17163

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17164

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِوَلِيدَةٍ وَبِمِائَةِ شَاةٍ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ أُنَيْسٌ قُمْ يَا أُنَيْسُ فَاسْأَلْ امْرَأَةَ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا

حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیئے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں ، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں ، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے، اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، بکریاں اور وہ لونڈی تمہیں واپس دے دی جائے گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی انیس سے فرمایا انیس! اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو، اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17164

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17165

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فَقَدْ غَزَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا۔

النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17165

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17166

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ إِسْحَاقُ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔

إِسْحَاقُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17166

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17167

حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى السُّوقِ فَلَوْ أَرْمِي لَأَبْصَرْتُ مَوَاقِعَ نَبْلِي

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتا اور بازار آتا، اس وقت اگر میں تیر پھینکتا تو تیر گرنے کی جگہ بھی دیکھ سکتا تھا ۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17167

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17168

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ وَشَبْلًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ ابْنَ مَعْبَدٍ وَالَّذِي حَفِظْتُ شِبْلًا قَالُوا كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ قَالَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَعَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا

حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا اور کہنے لگا یہ صحیح کہتا ہے، ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو، وہ کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیئے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں ، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں ، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے، (اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے) ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، بکریاں اور وہ لونڈی تمہیں واپس دے دی جائے گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی انیس سے فرمایا انیس! اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو چنانچہ وہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے اعتراف جرم کر لیا اور انہوں نے اسے رجم کر دیا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17168

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17169

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشَبْلٍ قَالُوا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ قَالَ اجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ

حضرت ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باندی کے متعلق پوچھا جو شادی شدہ ہونے سے پہلے بدکاری کا ارتکاب کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کوڑے مارو، اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو، اگرچوتھی مرتبہ پھر ایسا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی ہو۔

اجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ ← الأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ ← سُئِلَ النَّبِيُّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَشِبْلٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17169

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17170

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا صَلُّوا فِيهَا وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْغَازِي فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو، بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو اور جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے، اس کے لئے روزہ دار کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاطت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17171

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17172

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللُّقَطَةِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا وَإِلَّا فَكُلْهَا فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر مجھے گری پڑی کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔

اللقطة ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17173

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشَّهَادَةِ الَّذِينَ يَبْدَءُونَ بِشَهَادَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْأَلُوا عَنْهَا

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں ؟ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن عمارة ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17173

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17174

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ و حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَضَعُ السِّوَاكَ مِنْهُ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ كُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، اسی وجہ سے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسواک کو اسی طرح اپنے کان پر رکھتے تھے جیسے کاتب قلم رکھتا ہے اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے تھے۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبِي ← أَبُو سَلَمَةَ و ← يَحْيَى ← حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17174

chevron_left Previous
1…192021…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter