Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16947

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ عَلَى الشَّامِ وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ قَالَ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

عبدالملک بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تم پر اس امت کے امین کو مقرر کیا ہے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔

أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ← خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ ← عَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ← اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ عَلَى الشَّامِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16947

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16948

قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ

اس پر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خالد اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، اور اپنے خاندان کا بہترین نوجوان ہے۔

خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو عُبَيْدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16948

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16949

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَامَلُوا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ هَلْ لَكُمْ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً أَوْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ فَنَزَلَ وَنَزَلُوا فَقَالَ مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ فَقُلْتُ أَنَا جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ فَقَالَ هَاكَ لَا تَكُونُنَّ لُكَعَ قَالَ فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُمَا يَرْعَيَانِ فَإِنِّي كَذَاكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا حَتَّى أَخَذَنِي النَّوْمُ فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي فَاسْتَيْقَظْتُ فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرُ بَعِيدٍ فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ أَصَلَّيْتُمْ قَالَ لَا فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا بِلَالُ هَلْ لِي فِي الْمِيضَأَةِ يَعْنِي الْإِدَاوَةَ قَالَ نَعَمْ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ لَمْ يَلُتَّ مِنْهُ التُّرَابَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَفْرَطْنَا قَالَ لَا قَبَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا وَقَدْ صَلَّيْنَا

حضرت ذومخمر (جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے) جو ایک حبشی آدمی تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رفتار تیز کر دی، عام طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم زاد راہ کی قلت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا یا رسول اللہ! لوگ بہت پیچھے رہ گئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور آپ کے ہمراہی بھی رک گئے، یہاں تک کہ سب لوگ پورے ہوگئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور نے مشورہ دیا کہ یہیں پڑاؤ کر لیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اتر گئے اور سب لوگوں نے پڑاؤ ڈال لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا آج رات ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی لگام مجھے پکڑا دی اور فرمایا غافل نہ ہو جانا، میں نے اپنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی اور کچھ فاصلے پر جا کر ان دونوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا، میں انہیں اسی طرح دیکھتا رہا کہ اچانک مجھے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے کسی چیز کا شعور نہیں رہا یہاں تک کہ مجھے اپنے چہرے پر سورج کی تپش محسوس ہوئی تو میری آنکھ کھلی، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو دونوں سواریاں مجھ سے زیادہ دور نہیں تھیں ، میں نے ان دونوں کی لگام پکڑی اور قریب کے لوگوں کے پاس پہنچ کر انہیں جگایا اور پوچھا کہ تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال! کیا برتن میں وضو کے لئے پانی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، پھر وہ وضو کا پانی لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تیمم نہیں فرمایا: پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نے اذان دی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے نماز فجر پڑھائی، نماز کے بعد کسی شخص نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم سے کوتاہی ہوئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ! اللہ ہی نے ہماری روحوں کو قبض کیا اور اسی نے ہماری روحوں کو واپس فرمایا: اور ہم نے نماز پڑھی۔

ذِي مِخْمَرٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ← يزيد بن صليح ← حَرِيزٌ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16949

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16950

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَتُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ ثُمَّ تَنْصُرُونَ الرُّومَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ

حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کروگے، تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤگے، جب تم ذی تلول نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی، اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا، وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔

ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16950

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16951

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ هُوَ الْقُرْقُسَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ فَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ ثُمَّ تَنْزِلُونَ بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَقُومُ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الرُّومِ فَيَرْفَعُ الصَّلِيبَ وَيَقُولُ أَلَا غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَقُومُ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَقْتُلُهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَكُونُ الْمَلَاحِمُ فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْكُمْ فَيَأْتُونَكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً مَعَ كُلِّ غَايَةٍ عَشْرَةُ آلَافٍ

حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے، تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے، جب تم ذی تلول نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی، اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا، وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے، وہ اکٹھے ہو کر تم پر حملہ کر دیں گے اور اسی جھنڈوں کے نیچے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت دس ہزار سوار ہوں گے آئیں گے۔

ذِي مِخْمَرٍ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ هُوَ الْقُرْقُسَائِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16951

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16952

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ الْمَقْرَائِيُّ عَنْ أَبِي حَيٍّ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ فِي حِمْيَرَ فَنَزَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ فَجَعَلَهُ فِي قُرَيْشٍ وَ سَ يَ عُ و دُ إِ لَ يْ هِ مْ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُقَطَّعًا وَحَيْثُ حَدَّثَنَا بِهِ تَكَلَّمَ عَلَى الِاسْتِوَاءِ

حضرت ذومخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے حکومت قبیلہ حمیر کے پاس تھی، پھر اللہ نے ان سے چھین کر اسے قریش میں رکھ دیا اور عنقریب وہ ان ہی کے پاس لوٹ کر آئے گی۔ فائدہ : اس روایت کے آخر میں جو حروف لکھے ہوئے ہیں ، ان کا مرکب تلفظ سیعود الیہم بنتا ہے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ والد صاحب کی کتاب میں یہ حروف اسی طرح لکھے ہوئے تھے، لیکن جب انہوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی تھی تو مکمل تلفظ کے ساتھ بیان کی تھی۔

ذِي مِخْمَرٍ ← أَبِي حَيٍّ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ الْمَقْرَائِيُّ، ← حَرِيزٌ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الرَّحَبِيَّ ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ أَبُو الْمُغِيرَةِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16952

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16953

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ أَبِي وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ يَحْيَى فَحَدَّثَنَا رَجُلٌ أَنَّهُ لَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ

عیسی بن طلحہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اسی اثناء میں مؤذن نے اذان دینا شروع کر دی، جب اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہا، جب اس نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تو انہوں نے کہا وانا اشہد جب اس نے اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی و ان اشہد کہا، جب اس نے حی علی الصلاۃ کہا تو انہوں نے کہا لا حول ولاقوۃ الا باللہ اور فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح اذان کا جواب دیتے ہوئے سنا ہے۔

نَبِيَّکُمْ ← معاوية هكذا ← لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاَللَّهِ. ← حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ ← رَجُلٌ أَنَّهُ لَمَّا ← يَحْيَى ← أَبُو عَامِرٍ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ← أَشْهَدُ ← مُعَاوِيَةَ، ← اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← أَبُو عَامِرٍ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ← أَشْهَدُ ← مُعَاوِيَةَ، ← أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← معاويةُ: الله أكبرُ الله أكبرُ. ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبِي وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16953

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16954

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ أَوْ الزِّيرَ شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا، جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھوٹ کا نام دیا تھا۔

مَا کُنْتُ أُرَی أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ ← قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16954

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16955

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ قَالَ فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ وَكَانَ الشَّيْخُ أَوْزَنَهُمَا قَالَ قَالَ مَهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ عِبَادُ اللَّهِ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ اور ابن عامر کے یہاں گئے، ابن عامر تو ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے لیکن ابن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے نہیں ہوئے، اور شیخ ان دونوں پر بھاری تھے، وہ کہنے لگے کہ رک جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔

مَهْ ← وَكَانَ الشَّيْخُ أَوْزَنَهُمَا ← فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ الزُّبَيْرِ ← دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ ← أَبَا مِجْلَزٍ ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16955

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16956

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ البُرْسَانِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَلَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ

علقمہ بن وقاص رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہی کلمات دہرانے لگے، جب اس نے حی علی الصلاۃ کہا تو انہوں نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا، حی علی الفلاح کے جواب میں بھی یہی کہا، اس کے بعد مؤذن کے کلمات دہراتے رہے، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔

ذَلِكَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ ← لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ مَا ← حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ← لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَلَمَّا ← حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ ← الْمُؤَذِّنُ حَتَّی إِذَا ← إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَی أَنَّ عِيسَی بْنَ عُمَرَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمد بن بكر وهو البرساني، ← عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16956

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16957

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهُ أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ فَقَالَ مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيهِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَعْنِي الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ قَالَتْ صَالِحٌ قَالَ فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا خطرہ نہ ہوا کہ میں ایک آدمی کو بٹھا دوں گی اور وہ تمہیں قتل کر دے گا؟ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتیں ، کیونکہ میں امن وامان والے گھر میں ہوں ، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان بہادری کو بیڑی ڈال دیتا ہے، آپ یہ بتائیے کہ میرا آپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے حوالے سے رویہ کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا صحیح ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر ہمیں اور انہیں چھوڑ دیجئے تاآنکہ ہم اپنے پروردگار سے جاملیں ۔

فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ ← صَالِحٍ، ← فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ ← يَعْنِي الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ كَيْفَ ← النَّبِيِّ ← فِي بَيْتِ أَمَانٍ وَقَدْ ← مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيهِ ← لَهُ أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16957

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16958

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ قَالُوا أَمَّا هَذَا فَلَا قَالَ أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ

ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتاہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ معمولی سا ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے۔

مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ ← كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ← أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16958

chevron_left Previous
1234…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter