Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17103

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَزْعُمُونَ أَنِّي آخِرِكُمْ وَفَاةً أَلَا إِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يُهْلِكُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں تم سب سے آخر میں وفات پاؤں گا؟ یاد رکھو! میں تم سب سے پہلے وفات پا جاؤں گا، اور میرے بعد تم پر ایسے مصائب آئیں گے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگو گے۔

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17103

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17104

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ قَالَ دَعَانِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ يَا خَبَّابُ قُدْنِي إِلَى يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ

حیان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ حیان! مجھے ابوالاسود جرشی کے پاس لے چلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور انہوں نے فرمایا پھر خوش ہو جاؤ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے، اب جو چاہے میرے ساتھ جیسا مرضی گمان رکھے۔

عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فليظن بي ما شاء" ← اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبْشِرْ فَإِنِّي ← الْحَدِيثَ. ← يَا خَبَّابُ قُدْنِي إِلَى يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ ← دَعَانِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ← أَبُو النَّضْرِ، ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17104

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17105

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَا حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيَّ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يُدْعَى الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا أَوْ يَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے زیادہ عطیم بہتان تین باتیں ہیں ، ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے خواب اس طرح دیکھا ہے، حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو، دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، اور تیسرا کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔

عَلَى رَسُولِ اللَّهِ مَا لَمْ يَقُلْ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17105

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17106

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ النَّصْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَةَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَالْوَلَدَ الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت تین طرح کی میراث حاصل کرتی ہے، ایک اپنے آزاد کردہ غلام کی، ایک گرے پڑے بچے کی، اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَذْكُرُ ← عَبْدِ الْوَاحِدِ النَّصْرِيِّ ← عُمَرَ بْنِ رُؤْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17106

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17107

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمَئِينَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے زیادہ عظیم بہتان تین باتیں ہیں ، ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے خواب اس طرح دیکھا ہے، حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو، دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، اور تیسرا کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17107

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17108

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ الْفِرَى مَنْ يُقَوِّلُنِي مَا لَمْ أَقُلْ وَمَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ

ابوسعد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دمشق کی مسجد میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھنے کے دوران دیکھا کہ انہون نے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک پھینکا اور اپنے پاؤں سے اسے مسل دیا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، پھر بھی مسجد میں تھوک پھینکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← النَّضْرَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17108

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17109

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَأُنْزِلَتْ التَّوْرَاةُ لِسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ وَالْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ وَأُنْزِلَ الْفُرْقَانُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں ہوئے تھے، تورات ماہ رمضان کی چھ تاریخ کو، انجیل تیرہ تاریخ کو، اور قرآن ماہ رمضان کی چوبیسویں تاریخ کو نازل ہوا ہے۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17110

حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ عَنِ الْغَرِيفِ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالُوا إِنَّ صَاحِبًا لَنَا أَوْجَبَ قَالَ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً يَفْدِي اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو سلیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کر کے جہنم کی آگ کو واجب کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہئے، تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر ععضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔

فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً يَفْدِي اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ ← أَتَى النَّبِيَّ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالُوا إِنَّ صَاحِبًا لَنَا أَوْجَبَ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← الْغَرِيفِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17110

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17111

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا: پھر بنو کنانہ میں سے قریش کو منتخب فرمایا: پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا اور بنوہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17111

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17112

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو منتخب کیا، پھر بنی اسماعیل میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا: پھر بنو کنانہ میں سے قریش کو منتخب فرمایا: پھر قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب فرمایا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17112

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17113

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَلَمَّا قَامُوا قَالَ لِي أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَيْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ آخِذٌ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِهِ حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ فَأَجْلَسَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ قَالَ كِسَاءً ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا وَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ

شداد کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کے پاس کچھ لوگ تھے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرنے لگے، جب وہ لوگ اٹھ گئے تو حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھی ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے پوچھنے کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے بتایا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ہیں ، میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا، اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، ہمراہی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، امام حسن رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ تھے اور وہ سب اس طرح آرہے تھے کہ ہر ایک نے دوسرے کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قریب بلا کر بٹھایا اور امام حسن وحسین رضی اللہ عنہما دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا، پھر ان سب کو ایک چادر اوڑھا کر یہ آیت تلاوت فرمائی (إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا) " اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاکیزگی عطاء کر دے" اور فرمایا اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت کا حق زیادہ ہے۔

شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17113

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17114

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ مِنْ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ مَنْ يَذْكُرُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَبَاهَا يَعْنِي فَسِيلَةَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَرَأَيْتُ أَبِي جَعَلَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي آخِرِ أَحَادِيثِ وَاثِلَةَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَلْحَقَهُ فِي حَدِيثِ وَاثِلَةَ

فسیلہ نامی خاتون اپنے والد سے نقل کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ بات بھی عصبیت میں شامل ہے کہ انسان اپنی قوم سے محبت کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، عصبیت یہ ہے کہ انسان ظلم کے کام پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میں نے اہل علم سے سنا ہے کہ فسیلہ کے والد حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ تھے، پھر والد صاحب نے بھی یہ حدیث حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کی مرویات کے آخر میں ذکر کی ہے اس لئے میرا خیال ہے کہ یہ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کی ہی حدیث ہے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ ← أَبِي ← امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: فَسِيلَةُ أَنَّهَا ← عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ ← زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17114

chevron_left Previous
1…141516…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter