Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18231

قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ كَانَتَا فِكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزَى بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْهُمَا عَظْمًا مِنْهُ

انہوں نے پھر عرض کیا کہ اے کعب بن مرہ! ہمیں احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو آزاد کر دیا جاتا ہے اور جو شخص دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرتا ہے، وہ دونوں جہنم سے اس کی رہائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور ان کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرانے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کر دیا جاتا ہے

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ وَاحْذَرْ ← يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18231

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18232

وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

اور شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو، اس کے بالوں کی وہ سفیدی قیامت کے دن روشنی کا سبب ہوگی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18232

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18233

قَالَ يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً

شرحبیل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اے کعب بن مر! ہمیں احتیاط سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر چلاتا ہے، تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے ایک غلام کو آزاد کر دیا۔

مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ وَاحْذَرْ ← يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18233

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18234

وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ قَالَ فَقَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ أَلِمُضَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَنْصَرْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَنَصَرَكَ وَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَأَجَابَكَ قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَقُولُ اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا مَرِيئًا طَبَقًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ قَالَ فَأُحْيُوا قَالَ فَمَا لَبِثُوا أَنْ أَتَوْهُ فَشَكَوْا إِلَيْهِ كَثْرَةَ الْمَطَرِ فَقَالُوا قَدْ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًا

اور ایک آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ قبیلہ مضر کے لئے اللہ سے بارش کی دعاء کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بڑے جری ہو، کیا مضر والوں کے لئے دعا کروں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی، آپ کو عطاء فرمایا: آپ کی دعاء قبول فرمائی، (آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، ان کے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ! ہمیں خوب برسنے والی بارش سے سیراب فرما جو زمین کو پانی سے بھر دے، خوب برسنے والی ہو، دیر سے نہ برسے، نفع بخش ہو، زحمت نہ بنے، اس دعاء کے بعد نماز جمعہ نہیں ہونے پائی تھی، کہ بارش شروع ہوگئی، کچھ عرصے بعد وہ لوگ بارش کی کثرت کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ گھر منہدم ہوگئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے اور فرمایا اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا، ہمارے اوپر نہ برسا، چنانچہ بادل دائیں بائیں بکھر گئے۔

فَقَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ أَلِمُضَرَ ← وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَقَالَ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18234

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18235

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ فَلَمَّا سَمِعَ بِذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْلَسَ النَّاسَ فَقَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَيْهِ مُرَجِّلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ أَوْ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْ هَذَا هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ اتَّبَعَهُ عَلَى الْهُدَى قَالَ فَقَامَ ابْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ

ابوقلابہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔

لَوْلَا شَيْءٌ ← كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ، فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18235

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي البُرْسَانِيَّ أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ قَامَتْ خُطَبَاءُ بِإِيلِيَاءَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَتَكَلَّمُوا وَكَانَ آخِرَ مَنْ تَكَلَّمَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فَقَالَ هَذَا يَوْمَئِذٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى الْحَقِّ وَالْهُدَى فَقُلْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَيْهِ فَقَالَ هَذَا فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابوقلابہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ایلیاء میں کئی خطباء کھڑے ہوگئے، ان کے آخر میں مرہ بن کعب نامی ایک صحابی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو کبھی کھڑا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فتنہ کا ذکر فرمایا: اسی دوران وہاں سے ایک نقاب پوش آدمی گذرا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اس دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے، میں اس کے پیچھے چلا گیا، اس کا مونڈھا پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا رخ کر کے پوچھا یہ آدمی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔

أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ -يَعْنِي الْبُرْسَانِيَّ-،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18236

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18237

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُتْعِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي نَخْلًا قَالَ أَدِّ الْعُشُورَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِهَا لِي قَالَ فَحَمَاهَا لِي قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ احْمِ لِي جَبَلَهَا قَالَ فَحَمَى لِي جَبَلَهَا

حضرت ابو سیارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس شہد کے بہت سے چھتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا عشر ادا کیا کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کا پہاڑ میرے لئے مخصوص فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میرے لئے مخصوص فرما دیا۔

قُلْتُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُتْعِيِّ ← أَبِي سَيَّارَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18237

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18238

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو؟ دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم واقعی ہم ایسا کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18238

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18239

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ حَاجِبِ سُلَيْمَانَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ سَلَامَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ

بنو سلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تونے کھلایا پلایا، سیراب کیا اور پیٹ بھرا، تیرا شکر ہے جس میں کوئی ناشکری نہیں ، اسے ترک بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ تجھ سے استغنا برتا جاسکتا ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← نُعَيْمِ بْنِ سَلاَمة ← أَبِي عُبَيْدٍ حَاجِبِ سُلَيْمَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18239

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18240

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذمی کو قتل کرے، وہ جنت کی مہک بھی نہیں پاسکے گا، حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18240

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18241

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیا کریں گے۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18241

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18242

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً آيًا مِنْ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی قرآن کریم کے کچھ حصے ( یا کچھ آیات) کی تلاوت فرمائی۔

مَنْ رَأَى النَّبِيَّ بَالَ ثُمَّ تَلَا شَيْئًا مِنْ الْقُرْآنِ ← أبو سلام، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18242

chevron_left Previous
1…108109110111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter