Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18183

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَهَا قَالَ وَإِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ عَلَى كُنَاسٍ فَقَالَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا فَقَالُوا مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا هَاهُنَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ اور ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← مجالد ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18183

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18184

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَرَجُلٍ وَضَعَ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ فَمَا أَخَذَ مِنْهُ قَالَ وَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ أَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ الرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ مَرَّ بِمَنْزِلِ قَوْمٍ قَدْ ارْتَحَلُوا عَنْهُ فَإِذَا سَخْلَةٌ مَطْرُوحَةٌ فَقَالَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا قَالُوا مِنْ هَوَانِهَا عَلَيْهِمْ أَلْقَوْهَا قَالَ فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ اور ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔

الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← المجالد بن سعيدٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ، ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18184

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18185

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَبْصِرْ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ لَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنْ تَكُنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لَأَسْرَعُ النَّاسِ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَإِنَّهُمْ لَخَيْرُ النَّاسِ لِمِسْكِينٍ وَفَقِيرٍ وَضَعِيفٍ وَإِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَالرَّابِعَةُ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَإِنَّهُمْ لَأَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا قیامت جب قائم ہوگی تو رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی؟ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھی طرح سوچ سمجھ کر کہو کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کہہ رہے ہیں تو ایسا ہی ہوگا، ان لوگوں میں چار خصلتیں ہیں ۔ (١) یہ لوگ بھاگنے کے بعد سب سے زیادہ تیزی سے پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں ۔ (٢) یہ لوگ مسکین، فقیر اور کمزور کے حق میں سب سے بہترین ہیں ۔ (٣) یہ لوگ آزمائش کے وقت سب سے زیادہ بردبار ہوتے ہیں ۔ (٤) اور چوتھی خصلت سب سے عمدہ ہے کہ یہ لوگ بادشاہوں کے ظلم سے دوسروں کو بچاتے ہیں ۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَقُولُ لَكَ مَا ← لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَبْصِرْ مَا تَقُولُ ← لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ ← الْمُسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18185

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18186

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمْ الرُّومُ وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَلَمْ أَزْجُرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا

حضرت مستورد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، دوران گفتگو میں نے ان سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر سب سے زیادہ سخت لوگ رومی ثابت ہوں گے، ان کی ہلاکت قرب قیامت میں ہی مکمل ہوگی، حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں نے آپ کو ایسی باتیں کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟

مِثْلِ هَذَا، ← لَهُ عَمْرٌو أَلَمْ أَزْجُرْكَ ← أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمْ الرُّومُ وَإِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ ← بَيْنَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18187

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِهِ فِي مَالِهِ فَيُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَا لِهَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِيهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ مِثْلُ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کی مثال چار قسم کی آدمیوں کی سی ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔

أَبِي کَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18187

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18188

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ مِنْ غَطَفَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِيهِ لَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمًا وَلَا يُعْطِي فِيهِ حَقًّا

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کی مثال چار قسم کی آدمیوں کی سی ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔

الحديث، إلا أنه ← مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ ← النَّبِيِّ ← أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ مِنْ غَطَفَانَ ← مِنْهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18188

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18189

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کی مثال چار قسم کی آدمیوں کی سی ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔

ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ مَثَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أَبِي کَبْشَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18190

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ أَرْبَعَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کی مثال چار قسم کی آدمیوں کی سی ہے ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔

أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18190

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18191

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ قَالَ أَجَلْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک اپنے گھر میں چلے گئے، جب باہر آئے تو غسل کیا ہوا تھا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ابھی میرے پاس سے ایک عورت گذر کر گئی تھی، میرے دل میں عورت کی خواہش پیدا ہوئی اس لئے میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا اور اس سے اپنی خواہش کی تکمیل کی، اگر تمہارے ساتھ ایسی کیفیت پیش آئے تو تم بھی یونہی کیا کرو، کیونکہ تمہارا بہترین عمل حلال طریقے سے آتا ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا ← أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ ← أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18192

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ وَهُوَ يَقُولُ مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُنْذِرُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر کچھ لوگ تیزی سے قوم ثمود کے کھنڈرات میں جانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کروا دی کہ نماز تیار ہے ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور فرما رہے تھے تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا؟ ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم ان پر تعجب کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات نہ بتاؤں ؟ تم ہی میں کا ایک آدمی تمہیں ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتا ہے، لہذا استقامت اور سیدھا راستہ اختیار کرو، کیونکہ اللہ کو تمہارے عذاب میں مبتلا ہونے کی کوئی پروا نہیں ہوگی، اور عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو کسی بھی چیز کے ذریعے اپنا دفاع نہیں کر سکے گی۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18192

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18193

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ قَوْمٌ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر کچھ لوگ تیزی سے قوم ثمود کے کھنڈرات میں جانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کروا دی کہ نماز تیار ہے ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں داخل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور فرما رہے تھے تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا؟ ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم ان پر تعجب کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات نہ بتاؤں ؟ تم ہی میں کا ایک آدمی تمہیں ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتا ہے، لہذا استقامت اور سیدھا راستہ اختیار کرو، کیونکہ اللہ کو تمہارے عذاب میں مبتلا ہونے کی کوئی پروا نہیں ہوگی، اور عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو کسی بھی چیز کے ذریعے اپنا دفاع نہیں کر سکے گی۔

مَعْنَاهُ ← لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ قَوْمٌ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18193

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18194

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ قَالَ فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلَمَةٍ فَيَصْبِرُ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عِزًّا وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ لَهُ بَابَ فَقْرٍ وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ فَإِنَّهُ قَالَ إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حَقَّهُ قَالَ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا قَالَ فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقَّهُ فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ هِيَ نِيَّتُهُ فَوِزْرُهُمَا فِيهِ سَوَاءٌ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں ، اور ایک حدیث ہے جو میں تم سے بیان کرتا ہوں ، سو اسے یاد رکھو، وہ تین چیزیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں وہ یہ ہیں کہ صدقہ کی وجہ سے کسی انسان کا مال کم نہیں ہوتا جس شخص پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں مزید اضافہ کر دے گا، اور جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس پر فقروفاقہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور وہ حدیث جو میں تم سے بیان کرتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ دنیا چار قسم کے آدمیوں کی ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہوا اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، اس کا درجہ سب سے اونچا ہے، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اپنے رب سے ڈرے، نہ صلہ رحمی کرے اور نہ اللہ کا حق پہچانے اس کا درجہ سب سے بدترین ہے، اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے نہ مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ گر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔

أَبِي کَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ← سَعِيدٍ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18194

chevron_left Previous
1…104105106…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter