Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14230

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ

سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم ایک لاکھ کی تعداد میں بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا ہماری تعداد صرف ڈیڑھ ہزار تھی۔

فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ ← أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ← سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14230

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14231

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابونضرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس متعہ کی اجازت دیتے تھے اور حضرت عبداللہ بن زبیر اس کی ممانعت فرماتے تھے میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں متعہ کیا ہے۔

عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبَا نَضْرَةَ ← حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14231

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14232

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیداہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کرو ۔

سَالِمًا ← حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14232

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14233

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتَ فَعَلَيْكَ الْكَيْسَ وَالْكَيْسَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کرلے۔ اور فرمایا جب گھر پہنچ جاؤ تو ہر وقت قربت کی اجازت ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الشَّعْبِيِّ، ← سَيَّارٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14233

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14234

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا قَالَ مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ أَنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں میں لگائی ہوئی ہے ؟گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔

مُحَمَّدٌ كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ ← فَقَالَ النَّبِيُّ ← اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ فَقَالَ مَنْ ذَا فَقُلْتُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14234

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14235

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ قَالَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ أَوْ قَالَ صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا یا بہانے کا حکم دے دیا مجھے ہوش آ گیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے " کلالہ " کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہو گی ؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔

فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ ← صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ ← فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ أَوْ ← دخل على رسول الله وأنا وجع لا أعقل ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14235

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي قَالَ جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ قَالَ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَنْهَوْنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ تُظَلِّلُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب شہید ہوئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کر دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا میری پھوپھی فاطمہ بنت عمرو رونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آہ و بکاہ نہ کرو فرشتے اس پر اپنے پروں سے مسلسل سائے کئے رہے یہاں تک کہ تم نے اسے ہٹا لیا۔

حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ تُظَلِّلُهُ ← فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِي ← فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَنْهَوْنِي وَرَسُولُ اللَّهِ لَا يَنْهَانِي ← وَجْهِهِ ← جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ ← لَمَّا قُتِلَ أَبِي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14236

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14237

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مِخْوَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ فِي الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنو ہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہنے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن علي ← مُخَوَّلٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14237

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14238

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ لَا تُغَسِّلُوهُمْ فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہدا احد کے متعلق فرمایا کہ انہیں غسل مت دو کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم اور خون سے مشک آ رہی ہو گی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ جَابِرٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ رَبِّهِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14238

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14239

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ وَقَدْ جَنَحَتْ الشَّمْسُ وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَدَخَلَ مَعَهُ الصَّلَاةَ فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذٌ الْبَقَرَةَ أَوْ النِّسَاءَ مُحَارِبٌ الَّذِي يَشُكُّ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ ذَلِكَ صَلَّى ثُمَّ خَرَجَ قَالَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ قَالَ حَجَّاجٌ يَنَالُ مِنْهُ قَالَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ وَقَالَ حَجَّاجٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ فَلَوْلَا قَرَأْتَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا فَصَلَّى وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالضَّعِيفُ أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِي يَشُكُّ فِي الضَّعِيفِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری نماز کے لئے آیا اس کے ساتھ اس کے دو پانی والے اونٹ بھی تھے سورج غروب ہو چکا تھا اور حضرت معاذ بن جبل مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے وہ بھی نماز میں شریک ہوگیا ادھر حضرت معاذ نے سورت بقرہ یا سورت النساء شروع کی اس آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے پتہ چلا کہ حضرت معاذ نے اس کے متعلق کچھ کہا ہے اس نے یہ بات جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے ؟ کہ تمہارے پیچھے بوڑھے ضرورت مند اور کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14239

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14240

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا أَوْ قَالَ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اپنے گھر واپس آنے کو (مسافر کے لئے) اچھا نہیں سمجھتے تھے۔

كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا أَوْ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← شُعْبَةُ، ← وَحَدَّثَنَا عَفَّانَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14240

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14241

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا لِي فِي سَفَرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ وَزَنَ لِي قَالَ شُعْبَةُ أَوْ أَمَرَ فَوُزِنَ لِي فَأَرْجَحَ لِي فَمَا زَالَ عِنْدِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اونٹ بھیج دیا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ پھر آپ نے مجھے وزن کر کے پیسے دینے کا حکم دیا اور جھکتا ہوا تولا اور ہمیشہ میرے پاس اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور رہا حالانکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔

بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَعِيرًا لِي فِي سَفَرٍ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14241

chevron_left Previous
1…678…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter