Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16241

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَمَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَوْ خَمْسِينَ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَاذَا أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَكْتُبَانِ فَيَقُولَانِ مَاذَا أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَكْتُبَانِ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَثَرُهُ وَمُصِيبَتُهُ وَرِزْقُهُ ثُمَّ تُطْوَى الصَّحِيفَةُ فَلَا يُزَادُ عَلَى مَا فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ

حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نطفہ جب رحم مادر میں استقراء پکڑ لیتا ہے تو چالیس دن گذرنے کے بعد ایک فرشتہ آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہو گا یاسعید، مذکر ہو گا یا مونث اللہ تعالیٰ اسے بتا دیتے ہیں اور وہ لکھ لیتا ہے پھر اس کا عمل ، اثر، مصیبت اور رزق بھی لکھ دیا جاتا ہے پھر اس صحیفے کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔

رَسُولَ اللهِ أَوْ ← حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16241

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16242

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَذْكُرُونَ قَالُوا السَّاعَةَ قَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّةُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرَحِّلُ النَّاسَ فَقَالَ شُعْبَةُ سَمِعْتُهُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ تَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ نَزَلُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا

حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکرہ کررہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذاکرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں ، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حضرت عیسی کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہوگی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کردے گی لوگ جہاں پڑاؤ کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کریں گے وہ یہیں قیلولہ کرے گی۔

السَّاعَةِ ← ما تذكرون ← فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ ← أَبِي سَرِيحَةَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فُرَاتٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16242

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16243

قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَقَالَ الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ

حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکرہ کررہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذاکرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں ، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حضرت عیسی کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہوگی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کردے گی لوگ جہاں پڑاؤ کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کریں گے وہ یہیں قیلولہ کرے گی۔

الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ ← أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ← أَبِي سَرِيحَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ ← شُعْبَةُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16243

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16244

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ فُرَاتٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ فَقَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْنَ عَشْرَ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّةُ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَخُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَالدَّجَّالِ وَثَلَاثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تَسُوقُ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا

حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں تھے اور نیچے ہم لوگ قیامت کا تذکرہ کررہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کیا مذاکرات کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دس علامات نہ دیکھ لو دھواں ، دجال، دابۃ الارض سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حضرت عیسی کا نزول یاجوج ماجوج کا خروج اور زمین میں دھنسنے کے تین حادثات جن میں سے ایک مشرق میں پیش آئے گا ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں اور سب سے آخر میں ایک آگ ہوگی جو قعر عدن کی جانب سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر شام میں جمع کردے گی لوگ جہاں پڑاؤ کریں گے وہ بھی ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی اور لوگ جہاں قیلولہ کریں گے وہ یہیں قیلولہ کرے گی۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ مِنْ غُرْفَةٍ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ ← حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فُرَاتٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16244

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16245

قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ بِمَوْتِ النَّجَاشِيِّ قَالَ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ

حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا ہے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16245

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16246

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ يَوْمًا فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صُحْمَةُ النَّجَاشِيُّ وَقَالَ أَزْهَرُ صَحْمَةُ وَقَالَ أَزْهَرُ أَبِي الطُّفَيْلِ اللَّيْثِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ

حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصحمہ نجاشی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← قَتَادَةَ ← الْمُثَنَّی ← عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16246

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16247

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صُحْمَةُ النَّجَاشِيُّ فَقَامُوا فَصَلَّوْا عَلَيْهِ

حضرت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کی موت کی خبر دی اور فرمایا کہ اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہارے علاقے میں فوت نہیں ہوا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصحمہ نجاشی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← قَتَادَةَ ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16247

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16248

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَافِرَةٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ فَقَالَ لِي كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ

حضرت عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اوعرض کیا میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیر لیا میں سامنے کے رخ سے آیا اور پھریہی کہا وہ جھوٹ بول رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ اس سیاہ فام کا کہنا ہے اس نے تم دونوں کو دودھ پلایاہے اسے چھوڑ دو۔

تزوجت فجاءتنا امرأة سوداء ← مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ ← وقد ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16248

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16249

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ يَعْنِي فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَكَلَّمْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ قَالَ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ

حضرت عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ يَعْنِي فَذَكَرَتْ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← إِسْمَاعِيلُ، يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16249

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16250

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعَيْمَانِ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فِي الْبَيْتِ فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي وَالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ قَالَ فَكُنْتُ مِمَّنْ ضَرَبَهُ

حضرت عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو ہاتھ اور ٹہنیوں جوتیوں سے مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16250

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16251

قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ وَلُبِسَ عَلَيْهِ قَالَ ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ

حضرت عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ پڑھی سلام پھیرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا اس لئے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں ۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16251

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16252

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ پڑھی سلام پھیرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا اس لئے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں ۔

انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16252

chevron_left Previous
1…211212213…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter