Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16193

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَجَّاجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ ابْنَةُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ فَلَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ قَالَتْ نَعَمْ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ

حضرت سہل سے مروی ہے کہ حبیبہ بنت سہل کا نکاح ثابت بن قیس بن شماس سے ہوا تھا لیکن وہ انہیں پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہ شکل کے اعتبار سے بہت کمزور تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ اسے میں اتنا ناپسند کرتی ہوں بعض اوقات میرے دل میں خیال آیا ہے کہ خوف اللہ نہ ہوتا تو میں اس کے چہرے پر تھوک دیتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس کے وہ باغ واپس کر سکتی ہو جو اس نے تمہیں بطور مہر کے دیا تھا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلایا اس نے باغ واپس کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اسلام میں خلع کا یہ سب سے پہلا واقعہ تھا۔

عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَجَّاجِ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حجاج، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنُ خُنَيْسٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16193

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16194

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ يَعْنِي فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ مِنْهَا تَمْرًا قَالَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَكُسِرَتْ عُنُقُهُ ثُمَّ طُرِحَ فِي مَنْهَرٍ مِنْ مَنَاهِرِ عُيُونِ خَيْبَرَ وَفَقَدَهُ أَصْحَابُهُ فَالْتَمَسُوهُ حَتَّى وَجَدُوهُ فَغَيَّبُوهُ قَالَ ثُمَّ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ وَهُمَا كَانَا أَسَنَّ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِذًا أَقْدَمَ الْقَوْمِ وَصَاحِبَ الدَّمِ فَتَقَدَّمَ لِذَلِكَ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ابْنَيْ عَمِّهِ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِبَرَ الْكِبَرَ فَاسْتَأْخَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عُدِيَ عَلَى صَاحِبِنَا فَقُتِلَ وَلَيْسَ بِخَيْبَرَ عَدُوٌّ إِلَّا يَهُودَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسَمُّونَ قَاتِلَكُمْ ثُمَّ تَحْلِفُونَ عَلَيْهِ خَمْسِينَ يَمِينًا ثُمَّ تُسْلِمُهُ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ عَلَى مَا لَمْ نَشْهَدْ قَالَ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ خَمْسِينَ يَمِينًا وَيَبْرَءُونَ مِنْ دَمِ صَاحِبِكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا لِنَقْبَلَ أَيْمَانَ يَهُودَ مَا هُمْ فِيهِ مِنْ الْكُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَى إِثْمٍ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ قَالَ يَقُولُ سَهْلٌ فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى بَكْرَةً مِنْهَا حَمْرَاءَ رَكَضَتْنِي وَأَنَا أَحُوزُهَا

حضرت سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن سہل انصاری بنو حارثہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ خیبر کھجور خریدنے گئے کسی نے ان پر حملہ کر کے ان کی گردن الگ کردی اور خیبر کے کسی چشمے کی نالی میں ان کی لاش پھینک دی ان کے ساتھیوں نے جب انہیں تلاش کیا تو انہیں عبداللہ کی لاش ملی انہوں نے دفن کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے دوچچازاد بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے بھائی کا نام عبدالرحمن بن سہل اور چچاؤں کے نام حویصہ اور محیصہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عبدالرحمن بولنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑوں کو بولنے دو چنانچہ ان کے چچاؤں میں سے کسی ایک نے گفتگو شروع کی یہ میں بھول گیا کہ ان میں سے بڑا کون تھا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ہم نے قلب خیبر میں عبداللہ کی لاش پائی ہے پھر انہوں نے یہودیوں کے شر اور عداوتوں کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس کو یہودیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہی نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھا سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پچاس یہودی اس بات کی قسم کھا کر برائت ظاہر کردیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کرسکتے ہیں وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کردی دیت کے ان اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹ نے مجھے ٹانگ مار دی تھی۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16194

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16195

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ قَالُوا لَا قَالَ فَتَحْلِفُ يَهُودُ قَالُوا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ

حضرت سہل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ محیصہ اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا کر کہہ دیں کہ اسے یہودیوں نے قتل کیا ہے وہ کہنے لگے کہ ہم نے جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے اس پر قسم کیسے کھا سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پچاس یہودی قسم کھا کر اس بات سے براءت ظاہر کر دیں اور کہہ دیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا ہے وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہم ان کی قسم پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں کہ وہ تو مشرک ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔

أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16195

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16196

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي أَبَا مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَسِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَفْتِنَا فِي نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ

ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے کہا کہ مٹکے کی نبیذ کے متعلق ہمیں فتوی دیجیے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ممانعت کرتے ہوئے سنا ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ يَنْهَى عَنْهُ ← لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَفْتِنَا فِي نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ ← رَجُلًا ← عبد العزيز بن أسيد ← سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي أَبَا مَسْلَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16196

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16197

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ قَالَ

حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز کے آغاز میں رفع یدین کیا یہاں تک کہ کانوں سے آگے ہاتھوں کو بڑھالیا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَاوَزَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← حجاج، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنُ خُنَيْسٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16197

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16198

قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ وَزِيَادَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو هَكَذَا وَعَقَدَ ابْنُ الزُّبَيْرِ

حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دعا کرتے ہوئے دیکھاہے یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا۔

رَأَيْتُ النَّبِيَّ يَدْعُو هَكَذَا وَعَقَدَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنَ عَجْلَانَ وَزِيَادَ بْنَ سَعْدٍ ← قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ وَأَنَا شَاهِدٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16198

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16199

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَلَمْ يُجَاوِزْ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ

حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو اپناداہنا ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھ لیتے شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نگاہیں اس اشارے سے آگے نہیں جانے دیتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16199

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16200

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا حَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ كَاذِبًا فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ قَبْلِ التَّوْحِيدِ

حضرت عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے ایک جھوٹی قسم ان الفاظ کے ساتھ کھائی اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو اس کے یہ کلمہ توحید پڑھنے کی برکت سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

شعبةُ: مِن قِبَلِ التوحيدِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عُبَيْدَةُ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16200

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16201

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَاحْجُجْ عَنْهُ

حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا تم اپنے باپ کے سب سے بڑے بیٹے ہو اس لئے ان کی طرف سے حج کرو۔

ابْنُ الزُّبَيْرِ ← يُوسُفُ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16201

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16202

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى عَنْ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ وَمَا عِلْمُ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَذَا فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَلْيَسْأَلْهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا وَحَلَّتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَقَدْ أَفْحَشَ قَدْ وَاللَّهِ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ

ابواسحق بن یسار کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مکہ مکرمہ میں ہی تھے جب حضرت عبداللہ بن زبیر ہمارے یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک ہی سفر میں حج وعمرہ کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا حضرت ابن عباس کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن زبیر کو اس مسئلے کا کیا پتہ انہیں یہ مسئلہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر سے معلوم کرنا چاہیے اگر حضرت زبیر ان کے پاس حلال ہونے کی صورت میں نہیں آتے تھے تو کیا تھا حضرت اسماء کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اللہ ابن عباس کی بخشش فرمائے واللہ انہوں نے بے ہودہ بات کی گو کہ بات سچی ہے کہ عمرو بھی حلال ہوگئے تھے اور ہم عورتیں بھی اور مرد اپنی بیویوں کے پاس آئے تھے۔

لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى ← أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16202

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16203

قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ عَمْرِو بْنِ الزُّبَيْرِ خُصُومَةٌ فَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرُو بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ سَعِيدٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ هَاهُنَا فَقَالَ لَا قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيْ الْحَكَمِ

مصعب بن ثابت کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر میں کچھ جھگڑا چل رہا تھا اس دوران حضرت عبداللہ بن زبیر ایک مرتبہ سعید بن عاص کے پاس گئے ان کے ساتھ تخت پر عمرو بن زبیر بھی بیٹھے ہوئے تھے سعید نے انہیں بھی اپنے قریب بلایا لیکن انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اور سنت یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔

مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16203

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16204

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ہر نماز کا سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کی حکومت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، گناہ سے بچنے اور نیکی پر عمل کرنے کی قدرت صرف اللہ ہی سے مل سکتی ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں اسی کا احسان اور مہربانی ہے اور اسی کی بہترین تعریف ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہم خالص اسی کے لئے عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافروں کو اچھا نہ لگے اور فرماتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

كان عبد الله بن الزبير ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16204

chevron_left Previous
1…207208209…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter