Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16121

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ عَبَّادٍ الدِّيلِيَّ قَالَ إِنِّي لَمَعَ أَبِي رَجُلٌ شَابٌّ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ يَقِفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبِيلَةِ وَيَقُولُ يَا بَنِي فُلَانٍ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تُصَدِّقُونِي حَتَّى أُنْفِذَ عَنْ اللَّهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ فَإِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَقَالَتِهِ قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِهِ يَا بَنِي فُلَانٍ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ مِنْكُمْ أَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنْ الْحَيِّ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنْ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ فَلَا تَسْمَعُوا لَهُ وَلَا تَتَّبِعُوهُ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نوجوانی میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے مختلف قبیلوں میں جاجا کر ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی اور بال لمبے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبیلے کے پاس جا کر رکتے اور فرماتے اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں میں تمہیں حکم دیتاہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ میری تصدیق کرو اور میری حفاظت کروتاکہ اللہ کا پیغام پہنچاسکوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ آدمی پیچھے سے کہتا اے بنوفلاں یہ شخص چاہتاکہ تم سے لات عزی اور تمہارے حلیف قبیلوں کو چھڑا دے اور اپنے نوایجاد دین کی طرف تمہیں لے جائے اس لئے تم اس کی بات نہ سننا اور نہ اس کی پیروی کرنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا بھینگا آدمی کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

رَبِيعَةَ بْنِ عِبَادٍ الدَّيْلِيِّ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مسروق بن المرزبان الكوفي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16121

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16122

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِيهِ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ الدِّيلِيُّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُرُّ فِي فِجَاجِ ذِي الْمَجَازِ إِلَّا أَنَّهُمْ يَتْبَعُونَهُ وَقَالُوا هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ وَرَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءُ الْوَجْهِ ذُو غَدِيرَتَيْنِ يَتْبَعُهُ فِي فِجَاجِ ذِي الْمَجَازِ وَيَقُولُ إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نوجوانی میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے مختلف قبیلوں میں جاجا کر ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی اور بال لمبے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبیلے کے پاس جا کر رکتے اور فرماتے اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں میں تمہیں حکم دیتاہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ میری تصدیق کرو اور میری حفاظت کروتاکہ اللہ کا پیغام پہنچاسکوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ آدمی پیچھے سے کہتا اے بنوفلاں یہ شخص چاہتاکہ تم سے لات عزی اور تمہارے حلیف قبیلوں کو چھڑا دے اور اپنے نوایجاد دین کی طرف تمہیں لے جائے اس لئے تم اس کی بات نہ سننا اور نہ اس کی پیروی کرنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا بھینگا آدمی کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ ← إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ← وَرَجُلٌ أَحْوَلُ وَضِيءُ الْوَجْهِ ذُو غَدِيرَتَيْنِ يَتْبَعُهُ فِي فِجَاجِ ذِي الْمَجَازِ ← هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَمُرُّ فِي فِجَاجِ ذِي الْمَجَازِ إِلَّا أَنَّهُمْ يَتْبَعُونَهُ ← رَأَيْتُ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ الدِّيلِيُّ ← أبيه أبي الزناد, ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16122

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16123

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُؤَلِيِّ وَعَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَذْكُرُهُ يَطُوفُ عَلَى الْمَنَازِلِ بِمِنًى وَأَنَا مَعَ أَبِي غُلَامٌ شَابٌّ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ قَالَ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَقُولُ الَّذِي خَلْفَهُ إِنَّ هَذَا يَدْعُوكُمْ إِلَى أَنْ تُفَارِقُوا دِينَ آبَائِكُمْ وَأَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنْ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نوجوانی میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے مختلف قبیلوں میں جاجا کر ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی اور بال لمبے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبیلے کے پاس جا کر رکتے اور فرماتے اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں میں تمہیں حکم دیتاہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ میری تصدیق کرو اور میری حفاظت کروتاکہ اللہ کا پیغام پہنچاسکوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ آدمی پیچھے سے کہتا اے بنوفلاں یہ شخص چاہتاکہ تم سے لات عزی اور تمہارے حلیف قبیلوں کو چھڑا دے اور اپنے نوایجاد دین کی طرف تمہیں لے جائے اس لئے تم اس کی بات نہ سننا اور نہ اس کی پیروی کرنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا بھینگا آدمی کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُؤَلِيِّ وَعَمَّنْ ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16123

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16124

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ فَقُلْتُ تَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةً لِامْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا

سہل بن ابی حثمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت محمد بن مسلمہ کو دیکھا وہ ایک عورت کو دیکھ رہے ہیں میں نے ان سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر بھی ایک نامحرم کو دیکھتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کسی شخص کےدل میں کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجنے کا خیال پیداکریں تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةً لِامْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ ← إِنِّي ← رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ فَقُلْتُ تَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16124

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16125

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقِيلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ رَحِمَكَ اللَّهُ إِنَّكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ بِمَكَانٍ فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَى النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَهَيْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا فَاضْرِبْ بِهِ عُرْضَهُ وَاكْسِرْ نَبْلَكَ وَاقْطَعْ وَتَرَكَ وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى تَقْطَعَهُ ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ يُعَافِيَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ كَانَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ ثُمَّ اسْتَنْزَلَ سَيْفًا كَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَاخْتَرَطَهُ فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّخَذْتُ هَذَا أُرْهِبُ بِهِ النَّاسَ

ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گذر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے، اور اختلافات ہوں گے جب ایساہونے لگے تو تم اپنی تلوار لے کراحد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہوگیا ہے ارو میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بے نیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لئے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16125

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16126

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ فَذَكَرَهُ قَالَ إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ فَاضْرِبْ بِسَيْفِكَ عُرْضَ أُحُدٍ قَالَ

ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گذر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے، اور اختلافات ہوں گے جب ایساہونے لگے تو تم اپنی تلوار لے کراحد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہوگیا ہے ارو میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بے نیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لئے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔

إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ فَاضْرِبْ بِسَيْفِكَ عُرْضَ أُحُدٍ ← مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ فَذَكَرَهُ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16126

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16127

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گذر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے، اور اختلافات ہوں گے جب ایساہونے لگے تو تم اپنی تلوار لے کراحد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہوگیا ہے ارو میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بے نیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لئے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔

مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا فُسْطَاطٌ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أبي بردة بن أبي موسى ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16127

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16128

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَمِيلُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ صَحِبْتُ شَيْخًا مِنْ الْأَنْصَارِ ذَكَرَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُقَالُ لَهُ كَعْبُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ زَيْدُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا وَضَعَ ثَوْبَهُ وَقَعَدَ عَلَى الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَانْحَازَ عَنْ الْفِرَاشِ ثُمَّ قَالَ خُذِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ وَلَمْ يَأْخُذْ مِمَّا أَتَاهَا شَيْئًا

حضرت کعب بن زید یازید بن کعب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوغفار کی ایک عورت سے نکاح کیا جب اس کے پاس پہنچے توزائد کپڑوں اتار کر بستر پر بیٹھ گئے اسی اثناء میں آپ کی نظرا اس کے پہلو کی سفیدی پر پڑی جو بیماری کی علامت تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر بستر سے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور اس سے فرمایا اپنے اوپر کپڑے لے لو اور اسے جو کچھ دیا تھا اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لیا۔

صَحِبْتُ شَيْخًا مِنْ الْأَنْصَارِ ← جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16128

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16129

قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ وَهُوَ حَامِلٌ الْحَسَنَ أَوْ الْحُسَيْنَ فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا فَقَالَ إِنِّي رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ فِي سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِكَ هَذِهِ سَجْدَةً قَدْ أَطَلْتَهَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ قَدْ يُوحَى إِلَيْكَ قَالَ فَكُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ

حضرت شداد بن ہاد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہریا عصر میں سے کسی نماز کے لئے باہر تشریف لائے تو حضرت امام حسن یا امام حسین کو اٹھائے ہوئے تھے آگے بڑھ کر انہیں ایک طرف بٹھادیا اور نماز کے لئے تکبیر کہہ کر نماز شروع کردی سجدے میں گئے تو اسے خوب طویل کیا میں نے درمیان میں سر اٹھا کر دیکھاتوبچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے میں یہ دیکھ کر دوبارہ سجدے میں چلا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آج تو آپ نے اس نماز میں بہت لمبا سجدہ کیا ہم توسمجھے کہ شاید کوئی حادثہ پیش آگیاہے یا آپ پروحی نازل ہو رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا البتہ میرا یہ بیٹا میرے اوپر سوار ہوگیا تھا میں نے اسے اپنی خواہش کی تکمیل سے پہلے جلدی میں مبتلا کرنا اچھا نہ سمجھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16129

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16130

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَقَالَ إِنْ أَخَذْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَلَمَّا وَلَّيْتُ نَادَانِي فَقَالَ إِنْ أَخَذْتُمُوهُ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ

حضرت حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی دستے کا امیر بنایا میں روانہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم فلاں شخص کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجاؤ تو اسے آگ میں جلا دینا جب میں نے پشت پھیری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اگر تم اسے پالو تو صرف قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا) کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16130

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16131

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُذْرَةَ فَقَالَ إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَى فُلَانٍ فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا تَوَارَوْا مِنْهُ نَادَاهُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِي أَثَرِهِمْ فَرَدُّوهُمْ ثُمَّ قَالَ إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَإِنَّمَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ

حضرت حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی دستے کا امیر بنایا میں روانہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم فلاں شخص کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجاؤ تو اسے آگ میں جلا دینا جب میں نے پشت پھیری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اگر تم اسے پالو تو صرف قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا) کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کا رب ہی دے سکتاہے۔

حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ ← حَنْظَلَةَ بْنَ عَلِيٍّ ← زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16131

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16132

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلَيٍّ الْأَسْلَمِيُّ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ سَرِيَّةً إِلَى رَجُلٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی دستے کا امیر بنایا میں روانہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم فلاں شخص کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجاؤ تو اسے آگ میں جلا دینا جب میں نے پشت پھیری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اگر تم اسے پالو تو صرف قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا) کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کا رب ہی دے سکتاہے۔

حَنْظَلَةُ بْنُ عَلَيٍّ الْأَسْلَمِيُّ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ ← زِيَادٌ أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16132

chevron_left Previous
1…201202203…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter