Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16109

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنْ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ قَالَ اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ يَا عَبَد اللَّهِ اشْتَرَيْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ هَلْ بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا قُلْتُ وَمَا فِيهَا قَالَ إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَمْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا قُلْتُ بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ قَالَ فَإِنَّ بِخُفِّهَا نَقْبًا قَالَ فَقَالَ صَاحِبُهَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَيْ هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَبِيعُ شَيْئًا إِلَّا يُبَيِّنُ مَا فِيهِ وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا يُبَيِّنُهُ

ابوسباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت واثلہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی میں جب اس اونٹنی کو لے کر نکلنے لگا تو مجھے حضرت واثلہ مل گئے وہ اپنی چادر کھینچتے ہوئے چلے آ رہے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بندہ اللہ کیا تم نے اسے خرید لیاہے میں نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا انہوں نے تمہیں اس کے متعلق سب کچھ بتادیا ہے میں نے کہا کہ سب کچھ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ خوب صحت مند جو نظر بھی آرہا ہے یہ بتاؤ تم اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا ذبح کرکے گوشت حاصل کرنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا میں اس پر حج کے لئے جانا چاہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ پھر اس کے کھر میں ایک سوراخ ہے اس پر اونٹنی کا مالک کہنے لگا اللہ آپ کے حال پر رحم کرے کیا آپ میرا سوداخراب کرنا چاہتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کسی آدمی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی چیز کو بیچے اور اس میں عیب نہ کرے اور جو اس عیب کو جانتا ہو اس کے لئے بھی حلال نہیں ہے کہ اسے بیان نہ کرے۔

أبو سباع ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16110

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ فَأَعْرَضَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَتَاهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَقِمْ فِيَّ حَدَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ أَلَمْ تُحْسِنْ الطُّهُورَ أَوْ الْوُضُوءَ ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا آنِفًا قَالَ بَلَى قَالَ اذْهَبْ فَهِيَ كَفَّارَتُكَ

حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اسی دوران ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ میں حدود اللہ میں سے ایک حد کو پہنچ گیا ہوں لہذا مجھے سزاد یجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعرض کیا تین مرتبہ اسی طرح ہوا اس کے بعد نماز کھری ہوئی نماز سے فراغت کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر آیا اور اپنی بات دہرائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قریب بلا کر پوچھا کہ کیا تم اچھی طرح وضو کرکے ابھی ہمارے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوئے اس نے کہا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ پھریہی تمہارے گناہ کا کفارہ ہے۔

شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أبي مليح بن أسامة، ← أبي بردة بن أبي موسى ← لَيْثٌ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16110

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16111

قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرْيَةِ ثَلَاثٌ أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ يَقُولُ رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَأَنْ يَقُولَ قَدْ سَمِعْتُ وَلَمْ يَسْمَعْ

حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔

وَلَمْ يَسْمَعْ ← قَدْ ← رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَأَنْ ← إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرْيَةِ ثَلَاثٌ أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16111

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16112

قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنِي حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَلَى أَبِي الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَجَلَسَ قَالَ فَأَخَذَ أَبُو الْأَسْوَدِ يَمِينَ وَاثِلَةَ فَمَسَحَ بِهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَوَجْهِهِ لِبَيْعَتِهِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ وَاحِدَةٌ أَسْأَلُكَ عَنْهَا قَالَ وَمَا هِيَ قَالَ كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ وَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَيْ حَسَنٌ قَالَ وَاثِلَةُ أَبْشِرْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ

حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت واثلہ کے ساتھ ابوالاسود جرشی کے پاس ان کے مرض الموت میں گیا حضرت واثلہ سلام کرکے بیٹھ گئے ابواسود نے ان کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی آنکھوں اور چہرے پر ملنے لگے کیونکہ حضرت واثلہ نے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی حضرت واثلہ نے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھتاہوں ابواسود نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے انہوں نے پوچھا کہ تمہارا اپنے رب کے متعلق کیساگمان ہے ابواسود نے سر کے اشارے سے جواب دیا اچھا ہے انہوں نے فرمایا پھر خوش ہوجاؤ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتاہوں جو وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے اب جو چاہے میرے ساتھ جیسا مرضی گمان رکھے۔

حَيَّانُ أَبُو النَّضْرِ ← الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي السَّائِبِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16112

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16113

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ يُحَدِّثُ بِهِ وَلَا يَأْتِيَانِ عَلَى حِفْظِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت واثلہ کے ساتھ ابوالاسود جرشی کے پاس ان کے مرض الموت میں گیا حضرت واثلہ سلام کرکے بیٹھ گئے ابواسود نے ان کا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی آنکھوں اور چہرے پر ملنے لگے کیونکہ حضرت واثلہ نے ان ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی حضرت واثلہ نے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات پوچھتاہوں ابواسود نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے انہوں نے پوچھا کہ تمہارا اپنے رب کے متعلق کیساگمان ہے ابواسود نے سر کے اشارے سے جواب دیا اچھا ہے انہوں نے فرمایا پھر خوش ہوجاؤ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتاہوں جو وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے اب جو چاہے میرے ساتھ جیسا مرضی گمان رکھے۔

بِهِ وَلَا يَأْتِيَانِ عَلَى حِفْظِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← هِشَامُ بْنُ الْغَازِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16113

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16114

قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ أَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے اللہ فلاں بن فلاں تیری ذمہ داری میں اور تیرے پڑوس کی رسی میں ہے اس لئے اسے قبر کی آزمائش اور عذاب جہنم سے محفوظ فرما توہی اہل وفا حق ہے اے اللہ اسے معاف فرما اس پر رحم فرما توہی معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ جُنَاحٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16115

قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَكِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَالتَّقْوَى هَاهُنَا وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ قَالَ وَحَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ

حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان عزت اور مال قابل احترام ہیں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے تنہاچھوڑتا ہے تقوی یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا اور پھر فرمایا انسان کے بدترین ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الْمَكِّيُّ ← أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16115

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16116

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلَا يُغْوِيَنَّكُمْ عَنْ آلِهَةِ آبَائِكُمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ عَلَى أَثَرِهِ وَنَحْنُ نَتْبَعُهُ وَنَحْنُ غِلْمَانُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ أَحْوَلَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ أَبْيَضَ النَّاسِ وَأَجْمَلَهُمْ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے عکاظ کے میلے میں ابولہب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے سنا لوگو یہ آدمی بھٹک گیا ہے کہیں تمہیں بھی تمہارے معبودوں سے برگشتہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بچتے تھے اور وہ پیچھے پیچھے ہوتا ہم لوگ اس وقت بچے تھے ہم بھی ابولہب کے پیچھے اس کے ساتھ ہولیے میری نگاہوں میں اب تک وہ منظر ہے کہ میں آپ کے گرد گھوم رہا ہوں آپ کی دو مینڈھیاں ہیں اور آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سفید رنگت والے اور خوبصورت ہیں۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا قَدْ غَوَى فَلاَ يُغْوِيَنَّكُمْ ← رَأَيْتُ أَبَا لَهَبٍ بِعُكَاظٍ وَهُوَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ وَهُوَ ← رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16116

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16117

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْمَجَازِ يَدْعُو النَّاسَ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ يَقُولُ لَا يَصُدَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِ آلِهَتِكُمْ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں کے دین سے برگشتہ نہ کردے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا شخص بھینگا کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ ← دِينِ آلِهَتِكُمْ قُلْتُ مَنْ هَذَا ← لَا يَصُدَّنَّكُمْ هَذَا ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ بِذِي الْمَجَازِ يَدْعُو النَّاسَ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ ← رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16118

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ بِذِي الْمَجَازِ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ يَقُولُ لَا يَغْلِبَنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ وَدِينِ آبَائِكُمْ قُلْتُ لِأَبِي وَأَنَا غُلَامٌ مَنْ هَذَا الْأَحْوَلُ الَّذِي يَمْشِي خَلْفَهُ قَالَ هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ قَالَ عَبَّادٌ أَظُنُّ بَيْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ رَبِيعَةَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ

حضرت ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں کے دین سے برگشتہ نہ کردے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا شخص بھینگا کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16118

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16119

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الْمُسَيِّبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ وَكَانَ جَاهِلِيًّا أَسْلَمَ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنِي بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا وَيَدْخُلُ فِي فِجَاجِهَا وَالنَّاسُ مُتَقَصِّفُونَ عَلَيْهِ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا يَقُولُ شَيْئًا وَهُوَ لَا يَسْكُتُ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا إِلَّا أَنَّ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْوَلَ وَضِيءَ الْوَجْهِ ذَا غَدِيرَتَيْنِ يَقُولُ إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النُّبُوَّةَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُكَذِّبُهُ قَالُوا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ قُلْتُ إِنَّكَ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرًا قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ

حضرت ربیعہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا تھا بعد میں مسلمانوں ہوگئے تھے سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا کہ اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہہ لو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ وہ گلیوں میں داخل ہوتے جاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوتے جاتے تھے کوئی ان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور وہ خاموش ہوئے بغیر اپنی بات دہرارہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی تھی اور اس کی دومینڈھیاں اور وہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص بے دین اور جھوٹا العیاذ با اللہ میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن عبداللہ ہیں جونبوت کا دعوی کرتے ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا آدمی کون ہے جوان کی تکذیب کررہاہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے راوی نے ان سے کہا کہ آپ تو اس زمانے میں بہت چھوٹے ہوں گے انہوں نے فرمایا نہیں واللہ میں اس وقت سمجھدار تھا۔

رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدِّيلِيِّ وَكَانَ جَاهِلِيًّا أَسْلَمَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الْمُسَيِّبِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16119

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16120

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عَبَّادٍ الدِّيلِيَّ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ بمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ يَقُولُ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَدَعُوا دِينَ آبَائِكُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ فَقِيلَ هَذَا أَبُو لَهَبٍ

حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہجرت مدینہ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں کے دین سے برگشتہ نہ کردے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا شخص بھینگا کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْحُسَامِ ← سعيد بن أبي الربيع السمان ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16120

chevron_left Previous
1…200201202…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter