Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16085

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ وَهُوَ أَبُو مَالِكٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَالَ لِلرَّسُولَيْنِ فَمَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا قَالَا نَقُولُ كَمَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا

حضرت نعیم بن مسعود سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کذاب کا خط پڑھا تو اسے لانے والے دونوں قاصدوں سے پوچھا کہ تم کس دین پر ہو اور کیا کہتے ہو انہوں نے کہا ہم بھی وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ کہتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر قاصدوں کو قتل کرنا اچھی بات ہوتی ہے تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑادیتا۔

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا ← نَقُولُ کَمَا ← لِلرَّسُولَيْنِ فَمَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا ← حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ نُعَيْمٍ ← سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ ← سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ وَهُوَ أَبُو مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16085

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16086

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِالصَّهْبَاءِ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِسَوِيقٍ قَالَ فَلُكْنَا يَعْنِي أَكَلْنَا مِنْهُ فَلَمَّا كَانَتْ الْمَغْرِبُ تَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا مَعَهُ

حضرت سوید بن نعمان سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے سال ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم لوگ مقام صہباء میں پہنچے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھا چکے تو کھانا منگوایا تو کھانے میں صرف ستو ہی پیش کئے گئے لوگوں نے وہی پھانک لئے اور اس کے اوپر پانی پی لیا۔ پھر پانی سے کلی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں نماز پڑھائی۔

سُوَيْد بْنِ النُّعْمَانِ ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16086

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16087

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ ذَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت اقرع بن حابس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجروں کے باہر سے پکار کر آواز دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا انہوں نے پھریا رسول اللہ کہہ کر آواز لگائی اور کہا کہ میری تعریف باعث زینت اور میری مذمت باعث عیب وشرمندگی ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کام تو صرف اللہ کا ہے۔

الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ فَقَالَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16087

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16088

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا وَعَلَى مُقَدِّمَتِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ مِمَّا أَصَابَتْ الْمُقَدِّمَةُ فَوَقَفُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَانْفَرَجُوا عَنْهَا فَوَقَفَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ الْحَقْ خَالِدًا فَقُلْ لَهُ لَا تَقْتُلُونَ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا

حضرت رباح بن ربیع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے اس کے مقدمۃ الجیش پر حضرت خالد بن ولید مامور تھے اسی دوران مقدمہ الجیش کے ہاتھوں مرنے والی ایک عورت پر صحابہ کرام کا گذرا ہو تو وہ رک گئے اور اسے دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی سواری پر سوار وہاں پہنچ گئے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ چھوڑ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لاش کے پاس پہنچ کر رک گئے اور فرمایا یہ تو لڑائی میں شریک نہیں ہوئی ہوگی پھر ایک صحابی سے فرمایا کہ خالد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ بچوں اور مزدوروں کو قتل نہ کریں

جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ← الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16088

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16089

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ رَبَاحًا جَدَّهُ ابْنَ الرَّبِيعِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت رباح بن ربیع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے اس کے مقدمۃ الجیش پر حضرت خالد بن ولید مامور تھے اسی دوران مقدمہ الجیش کے ہاتھوں مرنے والی ایک عورت پر صحابہ کرام کا گذرا ہو تو وہ رک گئے اور اسے دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی سواری پر سوار وہاں پہنچ گئے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ چھوڑ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لاش کے پاس پہنچ کر رک گئے اور فرمایا یہ تو لڑائی میں شریک نہیں ہوئی ہوگی پھر ایک صحابی سے فرمایا کہ خالد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ بچوں اور مزدوروں کو قتل نہ کریں

أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← الْمُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ رَبَاحًا جَدَّهُ ابْنَ الرَّبِيعِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16089

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16090

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُرَقِّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ

حضرت رباح بن ربیع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے اس کے مقدمۃ الجیش پر حضرت خالد بن ولید مامور تھے اسی دوران مقدمہ الجیش کے ہاتھوں مرنے والی ایک عورت پر صحابہ کرام کا گذرا ہو تو وہ رک گئے اور اسے دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی سواری پر سوار وہاں پہنچ گئے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ چھوڑ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لاش کے پاس پہنچ کر رک گئے اور فرمایا یہ تو لڑائی میں شریک نہیں ہوئی ہوگی پھر ایک صحابی سے فرمایا کہ خالد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ بچوں اور مزدوروں کو قتل نہ کریں

جَدِّي أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16090

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16091

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي مُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ التَّمِيمِيُّ شَهِدَ عَلَى جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ الْحَنْظَلِيِّ الْكَاتِبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ

حضرت رباح بن ربیع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے کے لئے روانہ ہوئے اس کے مقدمۃ الجیش پر حضرت خالد بن ولید مامور تھے اسی دوران مقدمہ الجیش کے ہاتھوں مرنے والی ایک عورت پر صحابہ کرام کا گذرا ہو تو وہ رک گئے اور اسے دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرنے لگے اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی سواری پر سوار وہاں پہنچ گئے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ چھوڑ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لاش کے پاس پہنچ کر رک گئے اور فرمایا یہ تو لڑائی میں شریک نہیں ہوئی ہوگی پھر ایک صحابی سے فرمایا کہ خالد کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ بچوں اور مزدوروں کو قتل نہ کریں

مُرَقِّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ التَّمِيمِيُّ شَهِدَ عَلَى جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ الْحَنْظَلِيِّ الْكَاتِبِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16091

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16092

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الثَّانِيَةِ قَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكَتْ الدَّابَّةُ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنْ الْأُولَى فَلْيَهْنِيكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي أُعْطِيتُ أَوْ قَالَ خُيِّرْتُ مَفَاتِيحَ مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي وَالْجَنَّةَ أَوْ لِقَاءَ رَبِّي فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي قَالَ لَأَنْ تُرَدَّ عَلَى عَقِبِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ فَاخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَبِثَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّةً تُرَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا

حضرت ابومویھبہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا کہ اہل بقیع کے لئے دعاکریں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں ان کے لئے تین مرتبہ دعاکی دوسری رات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابومویھبہ میرے لئے سواری پر زین کس دو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور میں پیدل چلا یہاں تک کہ ہم جنت البقیع پہنچ گئے وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترگئے میں نے سواری کی رسی تھام لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبروں پر جا کر کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ لوگوں کے حالات سے نکل کرتم جن نعمتوں میں ہو وہ تمہیں مبارک ہوں رات کے مختلف سیاہ حصوں کی طرح فتنے اتر رہے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے جارہے ہیں اور ہر بعد والا پہلے والے سے زیادہ سخت ہے اس لئے تم جن نعمتوں میں ہو اس پر تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور فرمایا مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے میرے بعد میری امت جوفتوحات حاصل کرے گی مجھے ان کی چابیاں اور جنت دیدی جائے یا اپنے رب سے ملاقات کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں بھی اپنی ترجیح کے بارے بتائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد امت وہی کرے گی جو اللہ کو منظور ہوگا اس لئے میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لی ہے چنانچہ اس واقعے کی سات یا آٹھ دن بعد ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ← عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16092

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16093

قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعَبْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ فَانْطَلِقْ مَعِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمْ اللَّهُ مِنْهُ أَقْبَلَتْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ أَوَّلُهَا آخِرَهَا الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنْ الْأُولَى قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حِينَ أَصْبَحَ

حضرت ابومویھبہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا کہ اہل بقیع کے لئے دعاکریں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں ان کے لئے تین مرتبہ دعاکی دوسری رات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابومویھبہ میرے لئے سواری پر زین کس دو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور میں پیدل چلا یہاں تک کہ ہم جنت البقیع پہنچ گئے وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترگئے میں نے سواری کی رسی تھام لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبروں پر جا کر کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے کہ لوگوں کے حالات سے نکل کرتم جن نعمتوں میں ہو وہ تمہیں مبارک ہوں رات کے مختلف سیاہ حصوں کی طرح فتنے اتر رہے ہیں جو یکے بعد دیگرے آتے جارہے ہیں اور ہر بعد والا پہلے والے سے زیادہ سخت ہے اس لئے تم جن نعمتوں میں ہو اس پر تمہیں مبارک ہو۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے اور فرمایا مجھے اس بات کا اختیار دیا گیا ہے میرے بعد میری امت جوفتوحات حاصل کرے گی مجھے ان کی چابیاں اور جنت دیدی جائے یا اپنے رب سے ملاقات کروں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہمیں بھی اپنی ترجیح کے بارے بتائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد امت وہی کرے گی جو اللہ کو منظور ہوگا اس لئے میں نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لی ہے چنانچہ اس واقعے کی سات یا آٹھ دن بعد ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ ← بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ← أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْعَبْلِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16093

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16094

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنْ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهَا أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ

حضرت راشد بن حبیش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لئے ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں لوگ خاموش رہے حضرت عبادہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سہارادے کر بٹھادو لوگوں نے بٹھادیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ جو شخص صابر اور اس پر ثواب کی نیت رکھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا بھی شہادت ہے طاعون میں مرجانا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہوجانا بھی اور پیٹ کی بیماری میں بھی مرناشہادت ہے اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کا اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا ابوعوام نامی راوی نے اس میں بیت المقدس کے کنجی برادر جل کرمرنے والے اور سیلاب میں مرنے والوں کو بھی شامل کیا ہے۔

رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16095

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت راشد بن حبیش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبادہ بن صامت کی عیادت کے لئے ان کے یہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون لوگ ہیں لوگ خاموش رہے حضرت عبادہ نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سہارادے کر بٹھادو لوگوں نے بٹھادیا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ جو شخص صابر اور اس پر ثواب کی نیت رکھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں قتل ہوجانا بھی شہادت ہے طاعون میں مرجانا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہوجانا بھی اور پیٹ کی بیماری میں بھی مرناشہادت ہے اور نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کا اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا ابوعوام نامی راوی نے اس میں بیت المقدس کے کنجی برادر جل کرمرنے والے اور سیلاب میں مرنے والوں کو بھی شامل کیا ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ، ← صَاحِبٍ لَهُ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16095

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16096

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَا مُحَمَّدُ إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ هَذِهِ السُّورَةَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَبَكَى وَقَالَ ذُكِرْتُ ثَمَّةَ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوحبہ بدری سے مروی ہے کہ جب سورت بینہ نازل ہوئی تو حضرت جبرائیل نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا اے محمد آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ یہ سورت ابی بن کعب کو پڑھ کر سنائیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی سے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں یہ سورت پڑھ کر سناؤ اس پر حضرت ابی بن کعب روپڑے اور کہنے لگے کہ میرا ذکر وہاں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔

جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ ← لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ ← أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16096

chevron_left Previous
1…198199200…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter