Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15931

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَسَنٍ بَيْنَنَا ابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ قَدْ نَصَبْنَا لَهُ أَيْدِيَنَا فَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا دَاخِلَ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى ابْنَ نِيَارٍ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ائْتِنِي فَأَتَاهُ فَقَالَ رَأَيْتُ ابْنَ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا يَتَوَكَّأُ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ

ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ اور زید بن حسن چلے آرہے تھے ہمارے درمیان ابن رمانہ اس طرح چل رہے تھے کہ ہم نے ان کی خاطر اپنے کندھے سیدھے کر رکھے تھے اور وہ ان پر سہارا لئے ہوئے مسجد میں نبوی میں داخل ہو رہے تھے کہ وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابوبردہ بن نیار بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھے بلابھیجا میں ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے کہ میں نے تمہارے درمیان ابن رمانہ کو دیکھا جو تم پر اور زید بن حسن پر سہارا لئے چل رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا اس وقت فنا نہ ہوگی جب تک وہ کمینہ ابن کمینہ کی نہ ہوجائے۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ← الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15931

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15932

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنْ الصَّحَابَةِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنْ الشِّرْكِ

حضرت ابوسعید بن ابی فضالہ جو کہ صحابی ہیں سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اس دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک وشبہ نہیں تو ایک منادی آواز لگائے گا جو شخص کسی عمل میں اللہ کے لئے شریک ٹھہراتا ہو اسے چاہیے کہ اس کا ثواب بھی اسی سے طلب کرے کیونکہ اللہ تمام شرکاء سے زیادہ شرک سے بیزار ہے۔

أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ مِنْ الصَّحَابَةِ ← زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15932

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15933

حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ أَنَّهُ قَالَ نَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا رَدِيفُهُ يَا سُهَيْلُ ابْنَ بَيْضَاءَ رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ مِرَارًا حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَنَا وَأَمَامَنَا فَاجْتَمَعُوا وَعَلِمُوا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِشَيْءٍ إِنَّهُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا الْجَنَّةَ وَأَعْتَقَهُ بِهَا مِنْ النَّارِ

حضرت سہیل بن بیضاء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ بلند آواز سے پکار کر فرمایا اے سہیل بن بیضا میں ہر مرتبہ لبیک کہتا رہا یہ آواز لوگوں نے بھی سنی اور وہ یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھی یہ بات سنانا چاہتے ہیں چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتاہو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے گا اور اس کے لئے جنت کو واجب کردے گا۔

مَنْ خَلْفَنَا وَأَمَامَنَا فَاجْتَمَعُوا وَعَلِمُوا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِشَيْءٍ إِنَّهُ مَنْ ← رَدِيفُهُ يَا سُهَيْلُ ابْنَ بَيْضَاءَ رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ مِرَارًا حَتَّى ← نَادَى رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ← سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ، ← أَبِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15934

حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَيْوَةُ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت سہیل بن بیضاء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ بلند آواز سے پکار کر فرمایا اے سہیل بن بیضا میں ہر مرتبہ لبیک کہتا رہا یہ آواز لوگوں نے بھی سنی اور وہ یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بھی یہ بات سنانا چاہتے ہیں چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتاہو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے گا اور اس کے لئے جنت کو واجب کردے گا۔

بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ← سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15934

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15935

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ قَالَ كَانَ لَنَا جَارٌ مِنْ يَهُودَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا مِنْ بَيْتِهِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ سَلَمَةُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعًا فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ شِرْكٍ أَصْحَابِ أَوْثَانٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنٌ بَعْدَ الْمَوْتِ فَقَالُوا لَهُ وَيْحَكَ يَا فُلَانُ تَرَى هَذَا كَائِنًا إِنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَوَدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدُّنْيَا يُحَمُّونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطْبَقُ بِهِ عَلَيْهِ وَأَنْ يَنْجُوَ مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا قَالُوا لَهُ وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ قَالَ نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ قَالُوا وَمَتَى تَرَاهُ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا فَقَالَ إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمُرَهُ يُدْرِكْهُ قَالَ سَلَمَةُ فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا فَقُلْنَا وَيْلَكَ يَا فُلَانُ أَلَسْتَ بِالَّذِي قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ قَالَ بَلَى وَلَيْسَ بِهِ

حضرت سلمہ بن سلامہ جو کہ اصحاب بدر میں تھے سے مروی ہے کہ بنو عبدالاشہل میں ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تھوڑا ہی عرصہ قبل اپنے گھر سے نکل کر ہمارے پاس آیا اور بنو عبدالاشہل کی مجلس کے پاس پہنچ کر رک گیا میں اس وقت نوعمر تھا میں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ اور میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا وہ یہودی دوبارہ زندہ ہوتے قیامت ، حساب کتاب، میزان عمل اور جنت وجہنم کا تذکرہ کرنے لگا یہ بات وہ ان مشرک اور بت پرست لوگوں سے کہہ رہا تھا جن کی رائے میں مرنے کے بعد دوبارہ زندگی نہیں ہونی تھی اس لئے وہ اس سے کہنے لگے اے فلاں تجھ پر افسوس ہے کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد لوگوں کو زندہ کیا جائے گا اور انہیں جنت وجہنم نامی جگہ منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے اعمال کا انہیں بدلہ دیا جائے گا۔ اس نے جواب دیا کہ ہاں اس ذات کی قسم جس کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ دنیا میں ایک بہت بڑا تنور خوب دہکایا جائے گا اور مجھے اس میں داخل کرکے اسے اوپر سے بند کردیا جائے گا اور اس کے بدلے کل کو جہنم کی آگ سے نجات دیدی جائے گی اور وہ لوگ کہنے لگے کہ اس کی علامت کیا ہے اس نے جواب دیا کہ اس کی علامت ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو ان علاقوں سے مبعوث ہو گا یہ کہہ کر اس نے مکہ مکرمہ یمن کی طرف اشارہ کیا انہوں نے پوچھا کہ وہ کب ظاہر ہو گا اس یہودی نے مجھے دیکھا کیونکہ میں ان میں سب سے زیادہ چھوٹا تھا اور کہنے لگا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو انہیں ضرور پا لے گا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ابھی دن رات کا چکر ختم نہیں ہوا تھا کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا وہ یہودی بھی اس وقت تک ہمارے درمیان زندہ تھا ہم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے لیکن وہ سرکشی اور حسد کی وجہ سے کفر پراڑا رہا ہم نے اس سے کہا کہ فلاں تجھ پر افسوس ہے کیا تو وہی نہیں ہے جس نے اس پیغمبر کے حوالے سے اتنی لمبی تقریر کی تھی اس نے کہا کیوں نہیں لیکن میں ان پر ایمان نہیں لاؤں گا۔حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَاعَ عَقَارًا كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ أَوْ غَيْرِهِ

سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ← صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15935

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15936

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَاعَ عَقَارًا كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ لَهُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ أَوْ غَيْرِهِ

حضرت سعید بن حریث سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنی جائیداد بیچ دے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے مال میں برکت نہ رکھی جائے الاّ یہ کہ وہ اسے اسی کام میں لگا دے یا کوئی اور جائیداد خرید لے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَخِي سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15936

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15937

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ فَقَالَ حَوْشَبٌ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَبَّ أَوْ دَبَّ وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَرَى فُلَانًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ أَتُحِبُّ لَوْ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ الْآنَ كَأَنْشَطِ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَحَرُّ الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ أَوْ يُقَالُ لَكَ ادْخُلْ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ

حسان بن کریب کہتے ہیں کہ ان کا ایک غلام فوت ہوگیا اس کے باپ کو اس پرانتہائی صدمہ ہوا اس کی ہی کیفیت دیکھ کر حضرت حوشب نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے بیٹے جیسے بچے کے متعلق سنی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا بیٹاچلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تھا وہ اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے کچھ عرصہ بعد وہ بچہ فوت ہوگیا اس کے صدمے میں اس کا باپ چھ دن تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سے پوچھا کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ اس کا بیٹا فوت ہوگیا ہے جس کا اسے انتہائی صدمہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے فلاں شخص یہ بتاؤ اگر تمہارابیٹا اس وقت تمہارے پاس ایک چست و چالاک بچے کی طرح ہوتا کیا تم اس بات کو پسند کرتے کہ تمہارا بچہ جرات میں جنت کے غلمان کی طرح تمہارے لئے باعث اجروثواب بنتا ہے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارابچہ بہترین بڑھاپے کی عمر کو پہنچتا یا یہ بات کہ تم سے کہا جائے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ یہ ثواب ہے اس چیز کا جو تم سے لے لی گئی تھی۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← حَوْشَبٌ صَاحِبُ النَّبِيِّ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا ← حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ ← عبد الله بن هبيرة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15937

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15938

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ قَالَ أَبِي كَمَا حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنْدُبٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَالِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي مُلَوَّحٍ بِالْكَدِيدِ وَأَمَرَهُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ فَخَرَجَ فَكُنْتُ فِي سَرِيَّتِهِ فَمَضَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقُدَيْدٍ لَقِينَا بِهِ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيُّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُسْلِمَ فَقَالَ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ مُسْلِمًا فَلَنْ يَضُرَّكَ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ اسْتَوْثَقْنَا مِنْكَ قَالَ فَأَوْثَقَهُ رِبَاطًا ثُمَّ خَلَّفَ عَلَيْهِ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ مَعَنَا فَقَالَ امْكُثْ مَعَهُ حَتَّى نَمُرَّ عَلَيْكَ فَإِنْ نَازَعَكَ فَاجْتَزَّ رَأْسَهُ قَالَ ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَطْنَ الْكَدِيدِ فَنَزَلْنَا عُشَيْشِيَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَبَعَثَنِي أَصْحَابِي فِي رَبِيئَةٍ فَعَمَدْتُ إِلَى تَلٍّ يُطْلِعُنِي عَلَى الْحَاضِرِ فَانْبَطَحْتُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ الْمَغْرِبَ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَنَظَرَ فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى التَّلِّ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى عَلَى هَذَا التَّلِّ سَوَادًا مَا رَأَيْتُهُ أَوَّلَ النَّهَارِ فَانْظُرِي لَا تَكُونُ الْكِلَابُ اجْتَرَّتْ بَعْضَ أَوْعِيَتِكِ قَالَ فَنَظَرَتْ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ مَا أَفْقِدُ شَيْئًا قَالَ فَنَاوِلِينِي قَوْسِي وَسَهْمَيْنِ مِنْ كِنَانَتِي قَالَ فَنَاوَلَتْهُ فَرَمَانِي بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِي جَنْبِي قَالَ فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ ثُمَّ رَمَانِي بِآخَرَ فَوَضَعَهُ فِي رَأْسِ مَنْكِبِي فَنَزَعْتُهُ فَوَضَعْتُهُ وَلَمْ أَتَحَرَّكْ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ وَاللَّهِ لَقَدْ خَالَطَهُ سَهْمَايَ وَلَوْ كَانَ دَابَّةً لَتَحَرَّكَ فَإِذَا أَصْبَحْتِ فَابْتَغِي سَهْمَيَّ فَخُذِيهِمَا لَا تَمْضُغُهُمَا عَلَيَّ الْكِلَابُ قَالَ وَأَمْهَلْنَاهُمْ حَتَّى رَاحَتْ رَائِحَتُهُمْ حَتَّى إِذَا احْتَلَبُوا وَعَطَنُوا أَوْ سَكَنُوا وَذَهَبَتْ عَتَمَةٌ مِنْ اللَّيْلِ شَنَنَّا عَلَيْهِمْ الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا مِنْهُمْ وَاسْتَقْنَا النَّعَمَ فَتَوَجَّهْنَا قَافِلِينَ وَخَرَجَ صَرِيخُ الْقَوْمِ إِلَى قَوْمِهِمْ مُغَوِّثًا وَخَرَجْنَا سِرَاعًا حَتَّى نَمُرَّ بِالْحَارِثِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ وَصَاحِبِهِ فَانْطَلَقْنَا بِهِ مَعَنَا وَأَتَانَا صَرِيخُ النَّاسِ فَجَاءَنَا مَا لَا قِبَلَ لَنَا بِهِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ إِلَّا بَطْنُ الْوَادِي أَقْبَلَ سَيْلٌ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ حَيْثُ شَاءَ مَا رَأَيْنَا قَبْلَ ذَلِكَ مَطَرًا وَلَا حَالًا فَجَاءَ بِمَا لَا يَقْدِرُ أَحَدٌ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهِ فَلَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ وُقُوفًا يَنْظُرُونَ إِلَيْنَا مَا يَقْدِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَنَحْنُ نُحَوِّزُهَا سِرَاعًا حَتَّى أَسْنَدْنَاهَا فِي الْمَشْلَلِ ثُمَّ حَدَرْنَاهَا عَنَّا فَأَعْجَزْنَا الْقَوْمَ بِمَا فِي أَيْدِينَا

حضرت جندب بن مکیث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غالب بن عبداللہ کلبی کو بنوملوح کے پاس جو مقام قدید میں رہتے تھے بھیجا اور ان پر شب خون مارنے کا حکم دیا وہ روانہ ہوئے اس دستے میں میں بھی شریک تھا ہم چلتے رہے جب مقام قدید پر پہنچے تو ہمیں حارث بن مالک مل گئے ہم نے انہیں پکڑ لیا وہ کہنے لگا کہ میں تواسلام قبول کرنے کے لئے آرہا تھا حضرت غالب نے فرمایا اگر تم واقعی مسلمان ہونے کے لئے آرہے تھے تو یہ ایک دن کی قید تمہارے لئے کسی طرح نقصان دہ نہیں ہوگی اور اگر کسی دوسرے ارادے سے آرہے تھے تو ہم نے تمہیں باندھ لیا ہے یہ کہہ کر انہوں نے حارث کی مشکیں کس دیں اور ایک حبشی کو جو ہمارے ساتھ تھا ان پر نگران مقرر کرکے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور اس سے یہ کہہ دیا کہ تم یہیں رکو تا آنکہ ہم واپس آجائیں اس دوران اگر یہ تم سے مزاحمت کرنے کی کوشش کرے تو اس کا سر قلم کردینا۔ اس کے بعد ہم لوگ روانہ ہوئے اور بطن قدیدہ میں پہنچ کر نماز عصر کے بعد مقام عشیشہ میں پڑاؤ کیا مجھے میرے ساتھیوں نے ایک اونچی جگہ پر بھیج دیا میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا تاکہ میں ہر آنے جانے والے پر نظر رکھ سکوں میں مغرب کے وقت اس پر چڑھا تھا دشمن کا ایک آدمی باہر نکلا اور اس نے مجھے ٹیلے پر چڑھے ہوئے دیکھ لیا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے اس ٹیلے پر انسانی سایہ دکھائی دے رہا ہے جو میں نے دن کے پہلے حصے میں نہیں دیکھا تھا دیکھو کہیں کتوں نے تمہارے برتن گھسیٹ کر باہر تو نہیں پھینک دیئے اس نے دیکھ کر کہا کہ واللہ مجھے تو کوئی چیز کم محسوس نہیں ہو رہی اس نے کہا کہ پھر مجھے کمان اور میرے ترکش میں دوتیر لا کردو اس نے اسے یہ چیزیں لا کردے دیں اور اس نے تاک کرمجھے ایک تیر دے مارا جو میرے پہلو پر آکر لگا میں نے اسے کھینچ کر نکالا اور ایک طرف پھینک دیا اور خود کوئی حرکت نہیں کی اس نے دوسرا تیر بھی مجھے مارا جو میرے کندھے کی جڑ میں آ کر لگا میں نے اسے بھی کھینچ کر نکالا اور ایک طرف پھینک دیا اور خود کوئی حرکت نہیں کی یہ دیکھ کر وہ اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ اسے میرے دونوں تیر لگے ہیں اگر یہ کوئی جاندار چیز ہوتی تو حرکت ضرور کرتی اس لئے صبح ہونے کے بعد تم میرے تیر تلاش کرکے لے آنا تاکہ کتے اسے میرے ہی خلاف استعمال نہ کریں ہم نے ان لوگوں کو اسی طرح مہلت دی یہاں تک کہ رات نے اپنے ڈیرے ڈالنے شروع کردیئے جب ان لوگوں نے جانوروں کا دودھ دوہ لیا اونٹوں کو باند ھ دیا اور خود آرام کرنے لگے اور رات کا کچھ حصہ گذر گیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا کچھ لوگ ہمارے ہاتھوں مارے گئے اور اس کے بعد ہم نے جانوروں کو ہانکا اور واپس روانہ ہوگئے۔ ادھر ان لوگوں کامنادی چیخ چیخ کر لوگوں کو مدد کے لئے پکارنے لگا ہم لوگ تیزی سے چلے جارہے تھے یہاں تک کہ ہم حارث بن مالک اور اس کے ساتھی کے پاس پہنچ گئے اور انہیں بھی ساتھ لے کر روانہ ہوئے اسی اثناء میں لوگوں کے جوش وخروش سے بھرپور نعروں کی آواز سنائی دینے لگی جب ہمارے اور ان کے درمیان صرف بطحن وادی کی آڑ رہ گئی تواچانک بارش شروع ہوگئی جو ہمارے اور ان کے درمیان حائل تھی اور جسے اللہ نے ہمارے لئے بھیج دیا ہم نے اس سے پہلے ایسی بارش دیکھی اور نہ اب تک اتنی بارش ہوئی ہے کوئی بھی اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا ہم نے انہیں دیکھا کہ وہ کھڑے ہوئے اور ہمیں دیکھ رہے ہیں لیکن کسی کی اتنی ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ سکے جبکہ ہم تیزی سے اپنی چیزوں کوسمیٹتے ہوئے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ ہم لوگ مشلل نامی جگہ پر پہنچے اور وہاں سے نیچے اتر آئے اور دشمن کو اپنے قبضے میں موجود جانوروں کو حاصل کرنے سے عاجز کردیا۔

أَمْرِهِ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ غَالِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْكَلْبِيَّ كَلْبَ لَيْثٍ إِلَى بَنِي مُلَوَّحٍ ← جندب بن مكيث الجهني ← مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنْدُبٍ الْجُهَنِيِّ ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي كَمَا ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15938

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15939

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ زُهَيْرٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ وَقَالَ رَوْحٌ فِي بَيْتِهِ وَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سوید بن ھمبیرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کے لئے سب سے بہترین مال بکری کا وہ بچہ ہے جو اس کے لئے حلال ہو یا وہ سکہ پیسے جو رائج الوقت ہو۔

النَّبِيِّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَوْحٌ فِي بَيْتِهِ وَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا ← خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ ← النَّبِيِّ ← سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ ← إِيَاسَ بْنِ زُهَيْرٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ، ← أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15939

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15940

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ مَرَّ بِقَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي الْجِزْيَةِ بِفِلَسْطِينَ قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا

ایک مرتبہ فلسطین میں حضرت ابن حزام کا گذر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں جزیہ ادانہ کرنے کی وجہ سے سزادی جارہی تھی انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُعَذِّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَقَالَ: ← مَرَّ بِقَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي الْجِزْيَةِ بِفِلَسْطِينَ ← هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15940

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15941

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ أَخٍ لَهُ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَيَكُونُ مِنْ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ

حضرت مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک بھتیجے کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ وہ ہجرت پر بیعت کرسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہ اسلام پر بیعت کرلے گا کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا اور یہ نیکی کی پیروی کرنے والا ہوگا۔

مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ بِابْنِ أَخٍ لَهُ يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أبو معاوية يعني شيبان ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15941

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15942

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ انْطَلَقْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ مَضَتْ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا قَالَ فَقُلْتُ فَمَاذَا قَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ

حضرت مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اپنے ایک بھتیجے کولے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا میں نے عرض کیا پھر کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام اور جہاد پر۔

انْطَلَقْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ ← مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بكر بن عيسى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15942

chevron_left Previous
1…185186187…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter