Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15835

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً أَعْتَقْتُهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَعْتِقْهَا

ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ وہ ایک حبشن باندی کو لے کر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ذمے ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا واجب ہے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مومنہ ہے تو میں اسے آزاد کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باندی سے پوچھا کہ کیا تم لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتی ہو اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرے رسول اللہ ہونے کی گواہی دیتی ہو اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر یقین رکھتی ہو اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو۔

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ وَقَالَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15835

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15836

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ سَلَمَةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَهْزٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانُوا فِي بَعْضِ وَادِي الرَّوْحَاءِ وَجَدَ النَّاسُ حِمَارَ وَحْشٍ عَقِيرًا فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِرُّوهُ حَتَّى يَأْتِيَ صَاحِبُهُ فَأَتَى الْبَهْزِيُّ وَكَانَ صَاحِبَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ فِي الرِّفَاقِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ قَالَ ثُمَّ مَرَرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْأُثَايَةِ إِذَا نَحْنُ بِظَبْيٍ حَاقِفٍ فِي ظِلٍّ فِيهِ سَهْمٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ حَتَّى يُجِيزَ النَّاسُ عَنْهُ

حضرت عمیر بن سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر مقام روحاء سے ہوا وہاں ایک گدھا پڑھا ہوا تھا جو زخمی تھا لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اس طرح پڑا رہنے دو یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ قبیلہ بہز کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ یہ میرا شکار ہے آپ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر کو حکم دیا کہ اور انہوں نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کردیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اور عقبہ اثایہ پر پہنچے تو وہاں ایک ہرن نظر آیا جس کے جسم میں تیر پیوست تھا اور وہ ایک چٹان کے سائے میں ٹیرھا ہو کر پڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا کہ تم یہیں ٹھہرو یہاں تک کہ سارے ساتھی گذر جائیں ۔

يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15836

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15837

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضَّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا میں سمجھتاہوں کہ دیت عصبہ ہی کو ملنی چاہیے کیونکہ وہی اس کا کنبہ بنتے ہیں کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے اس پر حضرت ضحاک جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں وارث سمجھوں اور اس پر حضرت عمر فاروق نے اس حدیث پر عمل کرنا شروع کردیا۔

الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى الْأَعْرَابِ ← أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي ذَلِكَ شَيْئًا ← مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ ← سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15837

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15838

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضَّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِهِ

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ دیت صرف عصبہ ہی کو ملنی چاہیے عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے وارث نہیں بنے گی حتی کہ حضرت ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں وراث سمجھوں اس پر حضرت عمر نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔

الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلابِيُّ ← الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى ← سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ ← من الزهري ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15838

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15839

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ جُدْعَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ الْكِلَابِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا ضَحَّاكُ مَا طَعَامُكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ قَالَ ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا قَالَ إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا

حضرت ضحاک بن سفیان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کلابی نے ان سے پوچھا کہ ضحاک تمہاری خوراک کا کیا ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ گوشت اور دودھ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ بعد میں گوشت اور دودھ کیا بن جاتا ہے انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو آپ جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ابن آدم کے جسم سے نکلنے والی گندگی کو دنیا کی مثال قرار دیتے ہیں۔

الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلابِيُّ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيِّ بْنِ جُدْعَانَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15839

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15840

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَطْمِسَانِ الْبَصَرَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَهَانِي فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَهِيَ الْعَوَامِرُ

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر سانپ کو خصوصا دھاری دار سانپ کو، اور دم بریدہ سانپ کو ماردیا کرو کیونکہ یہ دونوں اسقاط حمل اور سلب بصارت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اس لئے میں جو بھی سانپ دیکھتا تھا اسے قتل کردیتا تھا ایک دن حضرت ابولبابہ یازید بن خطاب نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کو قتل کرنے کے لئے اسے دھتکار رہا ہوں اور میں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔

أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَهَانِي فَقُلْتُ ← ابْنُ عُمَرَ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ← اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَطْمِسَانِ الْبَصَرَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15840

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15841

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّةَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ قَالَ فَكُنْتُ لَا أَرَى حَيَّةً إِلَّا قَتَلْتُهَا قَالَ لِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَلَا تَفْتَحُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ خَوْخَةٌ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ فَقُمْتُ أَنَا وَهُوَ فَفَتَحْنَاهَا فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ فَعَدَوْتُ عَلَيْهَا لِأَقْتُلَهَا فَقَالَ لِي مَهْلًا فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ

حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر سانپ کو خصوصا دھاری دار سانپ کو، اور دم بریدہ سانپ کو ماردیا کرو کیونکہ یہ دونوں اسقاط حمل اور سلب بصارت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اس لئے میں جو بھی سانپ دیکھتا تھا اسے قتل کردیتا تھا ایک دن حضرت ابولبابہ یازید بن خطاب نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کو قتل کرنے کے لئے اسے دھتکار رہا ہوں اور میں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15841

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15842

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ

حسین بن سائب کہتے ہیں کہ جب اللہ نے حضرت ابولبابہ کی توبہ قبول کرلی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ میری توبہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ کر آپ کے پڑوس میں آکر بس جاؤں اور اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری طرف سے ایک تہائی بھی کافی ہوگا۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15842

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15843

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَنْ عَبْدِ رَبٍّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ فَاسْتَأْذَنَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ خَوْخَةٍ لَهُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَآهُمْ يَقْتُلُونَ حَيَّةً فَقَالَ لَهُمْ أَبُو لُبَابَةَ أَمَا بَلَغَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ أُولَاتِ الْبُيُوتِ وَالدُّورِ وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ

نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر پہلے تو ہر قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے حتی کہ ایک دن حضرت ابولبابہ نے ان کی کھڑکی سے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت چاہی تو دیکھا کہ وہ لوگ ایک سانپ کو مار رہے ہیں حضرت ابولبابہ نے ان سے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اور دھاری دار اور دم بریدہ سانپ کو مارنے کا حکم دیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد رب ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15843

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15844

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَتَحَ بَابًا فَخَرَجَتْ مِنْهُ حَيَّةٌ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا فَقَالَ لَهُ أَبُو لُبَابَةَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ

نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ایک دروازہ کھولا اس میں سے سانپ نکل آیا انہوں نے اسے مارنے کا حکم دیا حضرت ابولبابہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کریں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔

قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ ← لَهُ أَبُو لُبَابَةَ: لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَدْ «نَهَى ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهَ فَتَحَ بَابًا فَخَرَجَتْ مِنْهُ حَيَّةٌ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15844

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15845

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا

حسن بصری کہتے ہیں کہ جب یزید کا انتقال ہوگیا تو حضرت ضحاک بن قیس نے قیس بن ہیثم کے نام خط میں لکھاسلام علیک امابعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھویں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ان فتنوں میں انسان کے جسم کی طرح اس کا دل بھی مرجائے گا انسان صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا اسی طرح شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا لوگ اپنے اخلاق اور دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے بدلے بیچ دیاکریں گے ۔ اور یزید بن معاویہ فوت ہو گیا ہے تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے سگے ہو اس لئے تم پر سبقت لے جا کر کسی حکمران کو منتخب نہ کرلینا یہاں تک کہ ہم خود اپنے لئے کسی کو منتخب کرلیں۔

الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15845

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15846

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ أَبَا صِرْمَةَ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلَايَ

حضرت ابوصرمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں تجھ سے اپنے لئے اور اپنے آزاد کردہ غلاموں کے لئے غناء کا سوال کرتا ہوں۔

أَنَّ عَمَّهُ أَبَا صِرْمَةَ كَانَ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15846

chevron_left Previous
1…177178179…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter