Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15739

قَالَ و قَالَ شُعْبَةُ سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ وَحَيْثُ مَا كَانَ ذَكَرَهُ يَحْيَى قَالَ شُعْبَةُ إِنْ كُنْتُ ذَكَرْتُ فِيهِ شَيْئًا فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ أَوْ عَنْ يَحْيَى

راوی حدیث شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے یہ حرف خواہ کہیں بھی ہو ذکر نہیں کیا تھا البتہ یحیی نے ذکر کیا تھا اور میں نے اس میں جو چیز بھی ذکر کی ہے وہ سیار سے منقول ہے یا یحیی سے۔

يَحْيَى ← سَيَّارٍ أَوْ ← شُعْبَةُ إِنْ كُنْتُ ذَكَرْتُ فِيهِ شَيْئًا فَهُوَ ← شُعْبَةُ سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ وَحَيْثُ مَا كَانَ ذَكَرَهُ يَحْيَى ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15739

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15740

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ لَقِيتُ التَّنُوخِيَّ رَسُولَ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمْصَ وَكَانَ جَارًا لِي شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ بَلَغَ الْفَنَدَ أَوْ قَرُبَ فَقُلْتُ أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ رِسَالَةِ هِرَقْلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِسَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ بَلَى قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ فَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى هِرَقْلَ فَلَمَّا أَنْ جَاءَهُ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا قِسِّيسِي الرُّومِ وَبَطَارِقَتَهَا ثُمَّ أَغْلَقَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ بَابًا فَقَالَ قَدْ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ حَيْثُ رَأَيْتُمْ وَقَدْ أَرْسَلَ إِلَيَّ يَدْعُونِي إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ يَدْعُونِي إِلَى أَنْ أَتَّبِعَهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ عَلَى أَنْ نُعْطِيَهُ مَالَنَا عَلَى أَرْضِنَا وَالْأَرْضُ أَرْضُنَا أَوْ نُلْقِيَ إِلَيْهِ الْحَرْبَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُمْ فِيمَا تَقْرَءُونَ مِنْ الْكُتُبِ لَيَأْخُذَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ فَهَلُمَّ نَتَّبِعْهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ نُعْطِيهِ مَالَنَا عَلَى أَرْضِنَا فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ بَرَانِسِهِمْ وَقَالُوا تَدْعُونَا إِلَى أَنْ نَدَعَ النَّصْرَانِيَّةَ أَوْ نَكُونَ عَبِيدًا لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَ مِنْ الْحِجَازِ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ إِنْ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ أَفْسَدُوا عَلَيْهِ الرُّومَ رَفَأَهُمْ وَلَمْ يَكَدْ وَقَالَ إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ لَكُمْ لِأَعْلَمَ صَلَابَتَكُمْ عَلَى أَمْرِكُمْ ثُمَّ دَعَا رَجُلًا مِنْ عَرَبِ تُجِيبَ كَانَ عَلَى نَصَارَى الْعَرَبِ فَقَالَ ادْعُ لِي رَجُلًا حَافِظًا لِلْحَدِيثِ عَرَبِيَّ اللِّسَانِ أَبْعَثْهُ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ بِجَوَابِ كِتَابِهِ فَجَاءَ بِي فَدَفَعَ إِلَيَّ هِرَقْلُ كِتَابًا فَقَالَ اذْهَبْ بِكِتَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَمَا ضَيَّعْتُ مِنْ حَدِيثِهِ فَاحْفَظْ لِي مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ انْظُرْ هَلْ يَذْكُرُ صَحِيفَتَهُ الَّتِي كَتَبَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ وَانْظُرْ إِذَا قَرَأَ كِتَابِي فَهَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ وَانْظُرْ فِي ظَهْرِهِ هَلْ بِهِ شَيْءٌ يَرِيبُكَ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى جِئْتُ تَبُوكَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِيًا عَلَى الْمَاءِ فَقُلْتُ أَيْنَ صَاحِبُكُمْ قِيلَ هَا هُوَ ذَا فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ كِتَابِي فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ قَالَ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا أَحَدُ تَنُوخَ قَالَ هَلْ لَكَ فِي الْإِسْلَامِ الْحَنِيفِيَّةِ مِلَّةِ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ قُلْتُ إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ وَعَلَى دِينِ قَوْمٍ لَا أَرْجِعُ عَنْهُ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ فَضَحِكَ وَقَالَ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ يَا أَخَا تَنُوخَ إِنِّي كَتَبْتُ بِكِتَابٍ إِلَى كِسْرَى فَمَزَّقَهُ وَاللَّهُ مُمَزِّقُهُ وَمُمَزِّقٌ مُلْكَهُ وَكَتَبْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ بِصَحِيفَةٍ فَخَرَقَهَا وَاللَّهُ مُخْرِقُهُ وَمُخْرِقٌ مُلْكَهُ وَكَتَبْتُ إِلَى صَاحِبِكَ بِصَحِيفَةٍ فَأَمْسَكَهَا فَلَنْ يَزَالَ النَّاسُ يَجِدُونَ مِنْهُ بَأْسًا مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ قُلْتُ هَذِهِ إِحْدَى الثَّلَاثَةِ الَّتِي أَوْصَانِي بِهَا صَاحِبِي وَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهَا فِي جِلْدِ سَيْفِي ثُمَّ إِنَّهُ نَاوَلَ الصَّحِيفَةَ رَجُلًا عَنْ يَسَارِهِ قُلْتُ مَنْ صَاحِبُ كِتَابِكُمْ الَّذِي يُقْرَأُ لَكُمْ قَالُوا مُعَاوِيَةُ فَإِذَا فِي كِتَابِ صَاحِبِي تَدْعُونِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ فَأَيْنَ النَّارُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ أَيْنَ اللَّيْلُ إِذَا جَاءَ النَّهَارُ قَالَ فَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهُ فِي جِلْدِ سَيْفِي فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ كِتَابِي قَالَ إِنَّ لَكَ حَقًّا وَإِنَّكَ رَسُولٌ فَلَوْ وُجِدَتْ عِنْدَنَا جَائِزَةٌ جَوَّزْنَاكَ بِهَا إِنَّا سَفْرٌ مُرْمِلُونَ قَالَ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْ طَائِفَةِ النَّاسِ قَالَ أَنَا أُجَوِّزُهُ فَفَتَحَ رَحْلَهُ فَإِذَا هُوَ يَأْتِي بِحُلَّةٍ صَفُورِيَّةٍ فَوَضَعَهَا فِي حَجْرِي قُلْتُ مَنْ صَاحِبُ الْجَائِزَةِ قِيلَ لِي عُثْمَانُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ يُنْزِلُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالَ فَتًى مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا فَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا خَرَجْتُ مِنْ طَائِفَةِ الْمَجْلِسِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ تَعَالَ يَا أَخَا تَنُوخَ فَأَقْبَلْتُ أَهْوِي إِلَيْهِ حَتَّى كُنْتُ قَائِمًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَحَلَّ حَبْوَتَهُ عَنْ ظَهْرِهِ وَقَالَ هَاهُنَا امْضِ لِمَا أُمِرْتَ لَهُ فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضُونِ الْكَتِفِ مِثْلِ الْحَجْمَةِ الضَّخْمَةِ

سعید بن ابی راشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرقل کے ایلچی بن کر آئے تھے وہ میرے پڑوسی تھے انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے اور سٹھیا جانے کی عمر تک پہنچ گئے تھے میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہرقل کے خط اور ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے بارے میں کچھ بتاتے کیوں نہیں انہوں نے کہا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے تشریف لائے ہوئے تھے آپ نے حضرت دحیہ کلبی کو ہرقل کے پاس بھیجا جب ہرقل کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط پہنچا تو اس نے رومی پادری اور سرداروں کو جمع کیا اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا اور ان سے کہنے لگا کہ یہ آدمی میرے پاس آیا ہے جیسا کہ تم نے دیکھ ہی لیاہے مجھے جو خط بھیجا گیا ہے اس میں مجھے تین میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے یا تو میں ان کے دین کی پیروی کروں یا انہیں زمین پر مال کی صورت میں ٹیکس ادا کروں اور زمین ہمارے پاس ہی رہے یا پھر ان سے جنگ کروں اللہ کی قسم آپ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہو ان کی روشنی میں آپ جانتے ہو کہ وہ میرے قدموں کے نیچے کی جگہ بھی حاصل کر لیں گے تو کیوں نہ ہم ان کی دین کی پیروی کریں یا اپنی زمین کا مال ٹیکس کی صورت میں دیدیا کریں۔یہ سن کر ان سب کے نرخروں سے ایک جیسی آواز نکلنے لگی کہ حتی کہ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتار دیں اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں عیسائیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہو یا ہم کسی دیہاتی جو حجاز سے آیا ہے غلام بن جائیں جب ہرقل نے دیکھا کہ اگر یہ لوگ اس کے پاس سے اسی حال میں چلے گئے تو وہ پورے روم میں فساد بڑپا کردیں گے تو اس نے فورا پینترا بدل کر کہا میں نے تو یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ اپنے دین پر تمہاراجماؤ اور مضبوطی دیکھ سکوں ۔ پھر اس نے عرب تجیب کے ایک آدمی کو جو نصاری عرب پر امیر تھا بلایا اور کہا کہ میر پاس ایسے آدمی کو بلا کر لاؤ جو حافظہ کا قوی ہو اور عربی زبان جانتا ہو تاکہ میں اس سے اس شخص کی طرف اس کے خط کا جواب دوں وہ مجھے بلا لایا ہرقل نے اپنا خط میرے حوالے کر دیا اور کہنے لگا کہ میرا یہ خط اس شخص کے پاس لے جاؤ اگر اس کی ساری باتیں تم یاد نہ رکھ سکو تو کم از کم تین چیزیں ضرور یاد رکھ لینا یہ دیکھنا کہ وہ میری طرف بھیجے ہوئے اپنے خط کا کوئی ذکر کرتے ہی یا نہیں یہ دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھتے ہیں تورات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں اور ان کی پشت پر دیکھنا تمہیں کوئی عجیب چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں میں ہرقل کا خط لے کر روانہ ہوا اور تبوک پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان پانی کے قریبی علاقے میں اپنی ٹانگوں کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں انہوں نے مجھے اشارہ کردیا میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا انہیں خط پکڑا دیا جسے انہوں نے اپنی گود میں رکھ لیا اور مجھ سے پوچھا کہ تمہاراتعلق کہاں سے ہے میں نے کہا میں ایک تنوخی آدمی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں ملت حنیفیہ اسلام جو تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے میں کوئی رغبت محسوس ہوتی ہے میں نے کہا کہ ایک قوم کا قاصد ہوں ایک قوم کے دین پر ہوں میں جب تک ان کہ پاس لوٹ نہ جاؤں اس دین سے برگشتہ نہیں ہوسکتا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر یہ آیت پڑھنے لگے جسے آپ چاہیں اس ہدایت نہیں دے سکتے لیکن جسے اللہ چاہے اسے ہدایت دے سکتا ہے وہ ہدایت یافتہ لوگوں کوزیادہ جانتی ہے اے تنوخی بھائی میں نے ایک خط کسری کی طرف لکھا تھا اس نے اسے ٹکڑے ٹکرے کردیئے اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی ٹکڑے ٹکرے کردے گا میں نے نجاشی کی طرف بھی خط لکھا تھا اس نے اسے پھاڑ دیا اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی تور پھوڑ دے گا میں نے تمہارے بادشاہ کی طرف بھی خط لکھا تھا لیکن اس نے اسے محفوظ کرلیا جب تک زندگی میں کوئی خیر رہے گی لوگوں پر اس کا رعب دبدبہ باقی رہے گا میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ تین میں سے پہلی بات ہے جس کی مجھے بادشاہ نے وصیت کی تھی چنانچہ میں نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اسے اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات لکھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خط اپنے بائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک آدمی کودیا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں لوگوں نے بتایا کہ حضرت امیر معاویہ ہیں بہرحال ہمارے بادشاہ کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے جنت کی دعوت دیتے ہیں جس کی چوڑائی زمین آسمان کے برابر ہے اور جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے توجہنم کہاں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ جب دن آتا ہے تورات کہاں جاتی ہے میں نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس بات کو بھی لکھ لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خط پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا ہم پر حق بنتا ہے کیونکہ تم قاصد ہو اگر ہمارے پاس کوئی انعام ہوتا تو تمہیں ضرور دیتے لیکن ابھی ہم سفر میں پراگندہ ہیں یہ سن کر لوگوں میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا میں اسے انعام دوں گا چنانچہ اس نے اپنا خیمہ کھولا اور ایک صفوری حلہ لے کر آیا اور لا کر میری گود میں ڈال دیا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ انعام دینے والے صاحب کون ہیں لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عثمان غنی ہیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے تم میں سے کون شخص اسے اپنا مہمان بنائے گا اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا میں بناؤں گا پھر وہ انصاری کھڑا ہوا اور میں بھی کھڑا ہوا جب میں مجلس سے نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اے تنوخی بھائی ادھر آؤ میں دوڑتا ہوا گیا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوا جہاں میں پہلے بیٹھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا کہ یہاں دیکھو اور تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو چنانچہ میں گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف آیا میں نے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو پھولے ہوئے غدود کی مانند تھی۔ ی

سعيد بن أبي راشد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15740

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15741

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الصَّيْقَلِ عَنْ قُثَمِ بْنِ تَمَّامٍ أَوْ تَمَّامِ بْنِ قُثَمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا لَا تَسَوَّكُونَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمْ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الْوُضُوءَ

حضرت قثم یا تمام مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے میں تمہارے دانت پیلے زرد کیوں دیکھ رہاہوں تم لوگ مسواک نہیں کرتے اگر مجھے اپنی امت پر یہ بات دشوار نہ ہوتی تو میں ان پر وضو کی طرح مسواک کو بھی ضروری قرار دیتا۔

أتينا النبي ← أَبِيهِ ← قُثَمِ بْنِ تَمَّامٍ أَوْ تَمَّامِ بْنِ قُثَمٍ ← أَبِي عَلِيٍّ الصَّيْقَلِ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15741

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15742

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ

حضرت حسان بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان میں جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← أَبِي و ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15742

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15743

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ بِشْرٍ هُوَ أَبُو بِشْرٍ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَيَلٍ تَسِيرُ سَيْرَ بَطِيئَةِ الْإِبِلِ تَسِيرُ النَّهَارَ وَتُقِيمُ اللَّيْلَ تَغْدُو وَتَرُوحُ يُقَالُ غَدَتْ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَاغْدُوا قَالَتْ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَأَقِيلُوا رَاحَتْ النَّارُ أَيُّهَا النَّاسُ فَرُوحُوا مَنْ أَدْرَكَتْهُ أَكَلَتْهُ

حضرت بشر یا بسر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایک آگ حبس سیل سے نکلے گی جو سست ترین اونٹ کی طرح چلے گی دن کو چلے گی اور رات کوٹھہر جایا کرے گی صبح و شام یہی معاملہ رہے گا کہا جائے کہ لوگو آگ چل پڑی ہے تم بھی چل پڑو آگ کہے گی لوگو قیلولہ کر لو آگ چل پڑی ہے سو تم بھی چل پڑو جو شخص اس کی لپیٹ میں آجائے گا وہ اسے کھاجائے گی۔

أَبِيهِ ← رَافِعِ بْنِ بِشْرٍ هُوَ أَبُو بِشْرٍ السُّلَمِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو جَعْفَرٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15743

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15744

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَفَلْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَلَمَّا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ

حضرت سوید سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر سے واپس آ رہے تھے جب احد پہاڑ نظر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔

قَفَلْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَلَمَّا بَدَا لَهُ أُحُدٌ ← أباه وكان من أصحاب النبي ← عُقْبَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15744

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15745

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوْ الْقَدَحِ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ وَكَانَ إِذَا أَتَى حَاجَتَهُ أَبْعَدَ

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی نیت سے نکلا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے ہیں تو میں پانی کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا گیا اور راستے میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ قضاء حاجت کے لئے دور جایا کرتے تھے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَالْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15745

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15746

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا قَالَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا وَخَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوْ الْقَدَحِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوَضُوءَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَصَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَكَفَّهَا فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى قَدَمِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ حج کی نیت سے نکلا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے ہیں تو میں پانی کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا گیا اور راستے میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ قضاء حاجت کے لئے دور جایا کرتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وضو کا پانی حاضر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اپنے ہاتھوں پر پانی بہایا اور انہیں دھولیا پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی بہایا اور سر کا مسح کیا پھر مٹھی بھر پانی ہاتھ میں لے کر پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اسے اپنے ہاتھ سے ملا پھر آکر ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔

خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حَاجًّا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15746

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15747

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَخٍ بَخٍ خَمْسٌ مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدَاهُ وَقَالَ بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُسْتَيْقِنًا بِهِنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں کیا خوب ہیں اور میزان عمل میں کتنی بھاری ہیں لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر، وسبحان اللہ والحمدللہ اور وہ نیک اولاد جوفوت ہوجائے اور اس کا باپ اس پر صبر کرے اور فرمایا کہ پانچ چیزیں کیا خوب ہیں جو شخص ان پانچوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے لے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ پر ایمان رکھتا ہو آخرت کے دن پر جنت اور جہنم پر موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔

مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زيد1 ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15747

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15748

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتِ الْكُهَّانَ

حضرت معاویہ بن حکم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بتایے کہ ہم زمانہ جاہلیت میں جو کام کرتے تھے مثلاہم پرندوں سے شگون لیتے تھے اس کا کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ذہن کا ایک وہم ہوتا تھا اب یہ تمہیں کسی کام سے نہ روکے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ہم کاہنوں کے پاس بھی جایا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب نہ جایا کرو۔

لِرَسُولِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كُنَّا نَتَطَيَّرُ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15748

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15749

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ قَالَ فَبَكَى قَالَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا قَالَ فَقَالَ فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا هَاشِمٍ إِنَّهَا عَلَّهَا تُدْرِكُ أَمْوَالًا لَا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ

شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے گئے حضرت ابو ہاشم رونے لگے حضرت معاویہ نے پوچھا کہ ماموں جان کیوں رو رہے ہو کسی جگہ درد ہو رہا ہے یا دنیا کی زندگی مزید چاہتے ہو انہو نے فرمایا دونوں میں سے کوئی بات نہیں ہے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک وعدہ لیا تھا اور فرمایا تھا اے ابوہاشم ہو سکتا ہے کہ تمہیں اتنامال دولت عطا ہو جو بہت سی اقوام کو نہ مل سکے لیکن مال جمع کرنے میں تمہارے لئے ایک خادم اور اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے ایک سواری ہی کافی ہونی چاہیے لیکن اب میں دیکھ رہاہوں کہ میں نے بہت سامال جمع کر لیا ہے۔

فَكُلًّا لَا وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَهِدَ إِلَيْنَا ← لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا ← فَبَكَى ← دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15749

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15750

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَبْكِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے گئے حضرت ابو ہاشم رونے لگے حضرت معاویہ نے پوچھا کہ ماموں جان کیوں رو رہے ہو کسی جگہ درد ہو رہا ہے یا دنیا کی زندگی مزید چاہتے ہو انہو نے فرمایا دونوں میں سے کوئی بات نہیں ہے البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک وعدہ لیا تھا اور فرمایا تھا اے ابوہاشم ہو سکتا ہے کہ تمہیں اتنامال دولت عطا ہو جو بہت سی اقوام کو نہ مل سکے لیکن مال جمع کرنے میں تمہارے لئے ایک خادم اور اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے ایک سواری ہی کافی ہونی چاہیے لیکن اب میں دیکھ رہاہوں کہ میں نے بہت سامال جمع کر لیا ہے۔

دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَبْكِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15750

chevron_left Previous
1…169170171…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter