Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13558

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔

أَنَسٍ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13558

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13559

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس آرہے تھے، جب احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر جب مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13559

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13560

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر میں نہیں آتے تھے بلکہ صبح یا دوپہر کو تشریف لاتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَدْخُلُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13560

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13561

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَحَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَسْبِقُوهُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی، اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑے ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔ لوگو! میں تمہارا امام ہوں ، لہٰذا رکوع، سجدہ، قیام، قعود اور اختتام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو۔ کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13561

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13562

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ

علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کر لیا، اسی اثناء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔

سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ ← مُسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ ← مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا ← اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ ← بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13562

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13563

حَدَّثَنَا مُوَمَّلٌ حَدَّثَنَا عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا سَیَّدَ نَا وَاَبْنَ سَیَّدِنَا وَیَا خَیْرَنَا وَابْنَ خَیْرِنَا فَقَالَ النَبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا اَیُّھَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِکُمْ وَلَا یَسْتَھْوِیَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ اَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ وَرَسُوْلُ اللہِ وَاللہِ مَا اُحِبُّ اَنْ تَرْفَعُونِی مَا رَفَعَنی اللہُ عَزَّوَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کر لو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں ، بخدا! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے سے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

النَبِیُّ یَا اَیُّھَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِکُمْ وَلَا یَسْتَھْوِیَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ ← وَاَبْنَ سَیَّدِنَا وَیَا خَیْرَنَا وَابْنَ خَیْرِنَا ← لِلنَّبِیْ یَا سَیَّدَ ← أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← حُمَيْدٍ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13563

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13564

حَدَّثَنَاہ الْاَشْیَبُ عَنْ حَمَّادٍ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا وَلَا یَسْتَجْرِتُنَّکُمْ الشَّیْطَانُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا اے ہمارے سردار ابن سردار، اے ہمارے خیر ابن خیر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تقویٰ کو اپنے اوپر لازم کر لو، شیطان تم پر حملہ نہ کر دے، میں صرف محمد بن عبداللہ ہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں ، بخدا! مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے کہ تم مجھے میرے مرتبے سے " جو اللہ کے یہاں ہے " بڑھا چڑھا کر بیان کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

وَلَا یَسْتَجْرِتُنَّکُمْ الشَّیْطَانُ ← حَمَّادٌ، ← اَنَسٍ وَعَفَّانُ ← حَمَّادٍ ثَابِتٍ ← الأشيب

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13564

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13565

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلْ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ یہودی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرتے ہوئے " السام علیکم " کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا " السام علیکم " حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پیچھے سے یہودیوں کا یہ جملہ سن کر فرمایا اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! سام (موت) اور اللہ کی لعنت و غضب تم ہی پر نازل ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سکون کی تلقین کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! میں نے انہیں جو جواب دیا ہے، کیا تم نے نہیں سنا؟ نرمی جس چیز میں بھی شامل ہو جائے، وہ اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔

يَا عَائِشَةُ مَهْ ← عَائِشَةُ السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ ← النَّبِيُّ السَّامُ عَلَيْكُمْ ← السام عليك))، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13565

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13566

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ هَذَا مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطرت سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے " اشہد ان الا الہ الا اللہ " کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔

النَّبِيُّ خَرَجَ هَذَا مِنْ النَّارِ ← أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ← النَّبِيُّ عَلَى الْفِطْرَةِ، ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← رَجُلًا ← بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ إِذْ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13566

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13567

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا فَيَأْكُلَهَا إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں کھجور پڑی ہوئی ملتی اور انہیں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوگی تو وہ اسے کھا لیتے تھے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13567

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13568

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا أَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ میں سے کسی ایک نے یہ کہا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے یہ کہہ دیا کہ میں ساری رات نماز پڑھا کروں گا اور سونے سے بچوں گا، اور تیسرے نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھا کروں گا، کبھی ناغہ نہیں کروں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي". ← كَذَا وَكَذَا لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ ← مَا بَالُ أَقْوَامٍ ← بَعْضُهُمْ أَصُومُ وَلَا أُفْطِرُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ← بَعْضُهُمْ أُصَلِّي وَلَا أَنَامُ ← بَعْضُھُمْ :لَا اَتَزَوَّجُ ← أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13568

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13569

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتَهُ بِذَلِكَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَأَخْبِرْهُ تَثْبُتْ الْمَوَدَّةُ بَيْنَكُمَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ أَوْ قَالَ أُحِبُّكَ لِلَّهِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي فِيهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا کر اسے بتا دو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔

مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ وَعِنْدَ النَّبِيِّ رَجُلٌ جَالِسٌ فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13569

chevron_left Previous
1…789…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter