Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14014

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدِيُّ حَدَّثَنَا رَجُلٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَكَانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُعْجَبًا عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوُّوا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ، وَكَانَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُعْجَبًا ← شُعْبَةُ، ← رَجُلٌ: ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُنَيْدِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14014

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14015

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14015

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14016

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُطِرْنَا بَرَدًا وَأَبُو طَلْحَةَ صَائِمٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ قِيلَ لَهُ أَتَأْكُلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ فَقَالَ إِنَّمَا هَذَا بَرَكَةٌ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (مدینہ منورہ) میں اولوں کی بارش ہوئی، اس دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے، وہ اولے اٹھا اٹھا کر کھانے لگے، کسی نے ان سے کہا کہ آپ روزہ رکھ کر یہ کھا رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ برکت ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14016

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14017

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے، اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← شَرِيکٍ ← عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14017

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14018

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْقُوبُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو، اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے اور رکوع وسجود مکمل کیا کرو، بخدا! جب تم رکوع وسجود کرتے ہو تو میں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھ رہا ہوتا ہوں ۔

النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شَرِيکٍ ← عَمِّي يَعْقُوبُ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14018

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14019

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنْ الْغَدِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے کسی چچا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عید کا چاند دیکھنے کی شہادت دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اگلے دن نمازِ عید کے لئے نکلیں ۔

قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14019

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14020

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ فَجَعَلُوهَا صُفُوفًا وَكَثُرْنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ وَأُجْهِضْتُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں ، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کر دیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اے گروہِ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے تنہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کر لیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کر لیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں ۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14020

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14021

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ عَشَرَةِ آلَافٍ قَالَ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ قَالَ فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ فَجُعِلُوا خَلْفَ ظُهُورِهِمْ قَالَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى النَّاسُ قَالَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ قَالَ فَنَزَلَ وَقَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ وَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يُخْلَطْ بَيْنَهُمَا كَلَامٌ فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَعَكَ ثُمَّ نَزَلَ بِالْأَرْضِ وَالْتَقَوْا فَهَزَمُوا وَأَصَابُوا مِنْ الْغَنَائِمِ فَأَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّلَقَاءَ وَقَسَمَ فِيهَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ نُدْعَى عِنْدَ الْكَرَّةِ وَتُقْسَمُ الْغَنِيمَةُ لِغَيْرِنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ وَقَعَدَ فِي قُبَّةٍ فَقَالَ أَيْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ فَسَكَتُوا ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَكُوا وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَالَ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ قَالُوا رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ قَالَ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ وَأَنْتَ تُشَاهِدُ ذَاكَ قَالَ فَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْ ذَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بہت بڑی جمعیت لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ لوگ تھے، ان میں طلقاء بھی شامل تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے جانوروں اور بچوں کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کر دیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفید خچر سے اتر کر مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول ( یہاں ) ہوں ، پھر دائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خوش ہوں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں جانب رخ کر کے فرمایا اے گروہ انصار! انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خوش ہوں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، اس کے بعد اللہ نے (مسلمانوں کو فتح اور) کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا اور مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال غنیمت طلقاء کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر کچھ انصاری کہنے لگے کہ حملے کے وقت ہمیں بلایا جاتا ہے اور مال غنیمت دوسروں کو دیا جاتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انصار کو ایک خیمے میں جمع کیا اور فرمایا اے گروہ انصار! تمہارے حوالے سے یہ کیا بات مجھے معلوم ہوئی ہے؟ وہ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی بات فرمائی، وہ پھر خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ انصار! اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا، پھر فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں پیغمبر اللہ کو سمیٹ کر لے جاؤ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم راضی ہیں ، ہشام بن زید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ اس موقع پر موجود تھے؟ انہوں نے فرمایا میں کہاں غائب ہوسکتا ہوں ؟

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14021

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14022

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14022

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14023

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14023

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14024

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي سِرًّا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا راز ہے جو میں کسی کو نہیں بتاؤں گا تاآنکہ ان سے جاملوں ۔

إِنَّ لِلنَّبِيِّ عِنْدِي سِرًّا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا حَتَّى أَلْقَاهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عِيسَى يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14024

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14025

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے ۔

مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عِيسَی بْنُ طَهْمَانَ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14025

chevron_left Previous
1…454647…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter