Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13510

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَمْ يَمْلَأْ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13510

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13511

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ آنْتَ الشَّيْخُ الضَّالُّ قَالَ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کر دیا ہے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ کیا تو ہی گمراہ بڈھا ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّی

Hadith 13511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13512

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ قَالَ قَالَ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَمَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ قَالَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی تھی، اور صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، لیکن وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، دوبارہ اسی طرح ہوا تو اس مرتبہ واقعی وہ لوگ جا چکے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرمادی۔

أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ ← أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ کَانَ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13513

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی وفات سے قبل مسلسل وحی نازل فرمائی، تاآنکہ آپ کا وصال ہوگیا، اور سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13513

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13514

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْكَوْثَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ فِيهِ طُيُورٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلُوهَا أَنْعَمُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ ← أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَوْثَرُ؟ ← ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ ← أَبُو أُوَيْسٍ ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13515

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے۔

أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13515

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13516

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعَجُّلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ أَوْ دَارُ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ثُمَّ إِنْ كَانَا لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْهَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نمازِ عصر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جلدی پڑھنے والا کوئی نہ تھا، انصار میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کا گھر مسجد نبوی سے سب سے زیادہ دور تھا، ایک تو حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا اور دوسرے حضرت ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ تھے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گھر قباء میں تھا، اور حضرت ابوعبس رضی اللہ عنہ کا گھر بنو حارثہ میں تھا، یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے اور جب اپنی قوم میں واپس پہنچتے تو انہوں نے اب تک نمازِ عصر نہ پڑھی ہوتی تھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔

أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13516

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13517

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ انْصَرَفْتُ مِنْ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ فَمَا قَعَدْنَا مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا قَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ الْعَصْرُ قَالَ فَقُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ قَالَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَرَكْتُمْ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسَيْتُمُوهَا أَوْ قَالَ نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَمَدَّ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً

زیاد بن ابی زیاد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عمر ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ نماز ہشام بن اسماعیل نے لوگوں کو پڑھائی تھی، کہ اس وقت مدینے کے گورنر وہی تھے، نماز پڑھ کر ہم عمرو بن عبداللہ کی مزاج پرسی کے لئے گئے، وہاں ہم بیٹھے نہیں ، صرف کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کیا، پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا گھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے ساتھ تھا، ابھی ہم وہاں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک باندی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ابوحمزہ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، ہم نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں ، کون سی نماز؟ انہوں نے فرمایا نمازِ عصر ہم نے عرض کیا کہ ہم تو ظہر کی نماز ابھی پڑھ کر آئے ہیں ، انہوں نے فرمایا تم نے نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ تم نے اسے بھلا دیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے دراز کیا۔ حدیث نمبر (١٣٥٠٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ ← انْصَرَفْتُ مِنْ الظُّهْرِ ← زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13517

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13518

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کی مٹی مشک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا ← الْكَوْثَرِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو أُوَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ،

Hadith 13518

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13519

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کی مٹی مشک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

النَّبِيِّ فِي الْكَوْثَرِ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ، ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو أُوَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 13519

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13520

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ

ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔

أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13520

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13521

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَعَنْ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَلَا إِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جانے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں ، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بے ہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں ، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کر لے۔

ثُمَّ ← النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ ← لحوم الأضاحي بعد ثلاث ← زيارة القبور ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13521

chevron_left Previous
12345…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter