Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13894

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ عَنْ شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ شَعْرًا أَشْبَهَ بِشَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَعَرِ قَتَادَةَ فَفَرِحَ يَوْمَئِذٍ قَتَادَةُ

حمید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے ساتھ قتادہ کے بالوں سے زیادہ مشابہہ کسی کے بال نہیں دیکھے، اس دن قتادہ رحمۃ اللہ علیہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔

شَعَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13894

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13895

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دن دوپہر اور رات کے کھانے میں روٹی اور گوشت جمع نہیں ہوئے، الاّ یہ کہ کبھی مہمان آگئے ہوں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13895

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13896

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا أَنَّ خَيَّاطًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر دعوت کی تھی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13896

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13897

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ مَا أَعْرِفُ فِيكُمْ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْهَدُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قَوْلَكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ الصَّلَاةَ قَالَ قَدْ صَلَّيْتُ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ أَفَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عَلَى أَنِّي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ زَمَانًا مَعَ نَبِيٍّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ باسعادت میں جو چیزیں میں نے دیکھی ہیں ، آج ان میں سے ایک چیز بھی نہیں دیکھتا سوائے اس کے تم " لا الہ الا اللہ " کہتے ہو، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ! کیا ہم نماز نہیں پڑھتے؟ فرمایا تم غروبِ آفتاب کے وقت تو نمازِ عصر پڑھتے ہو، کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ تمہارے اس زمانے سے بہتر زمانہ کسی عمل کرنے والے کے لئے میں نے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ وہ نبی کا زمانہ ہو۔

ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13897

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13898

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَأَبُو طَلْحَةَ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَإِنِّي لَأَرَى قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمْهَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ أَهْلُ الزَّرْعِ إِلَى زُرُوعِهِمْ وَأَهْلُ الْمَوَاشِي إِلَى مَوَاشِيهِمْ قَالَ كَبَّرَ ثُمَّ أَغَارَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو چھو رہے تھے، ہم وہاں پہنچے تو سورج نکل چکا تھا اور اہل خیبر اپنے مویشیوں کو نکال کر کلہاڑیاں اور کدالیں لے کر نکل چکے تھے، ہمیں دیکھ کر کہنے لگے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور لشکر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ خیبر برباد برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔

إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13898

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13899

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيْ أَخِي أَنَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَالًا فَانْظُرْ شَطْرَ مَالِي فَخُذْهُ وَتَحْتِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَعْجَبُ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَذَهَبَ فَاشْتَرَى وَبَاعَ وَرَبِحَ فَجَاءَ بِشَيْءٍ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ ثُمَّ لَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَقَالَ مَا أَصْدَقْتَهَا قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَلَوْ رَفَعْتُ حَجَرًا لَرَجَوْتُ أَنْ أُصِيبَ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں ، نیز میری دو بیویاں ہیں ، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کر لیجئے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چنانچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو راستہ بتا دیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔

لَهُ سَعْدٌ أَيْ أَخِي ← بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ ← أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ بَيْنَهُ ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13899

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13900

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَجَازَ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز قرار دے دیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13900

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13901

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ قَالَ فُزِّعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً قَالَ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ فَجَعَلَ يَقُولُ لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا قَالَ وَقَالَ إِنَّا وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ يَعْنِي الْفَرَسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے اور اس آواز کے رخ پر چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بے زین گھوڑے پر سوار ہیں ، گردن میں تلوار لٹکا رکھی ہے اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔

وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ يَعْنِي الْفَرَسَ ← وَقَالَ: ← لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا ← وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ فَجَعَلَ ← لَمْ تُرَاعُوا ← فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ سَبَقَهُمْ وَهُوَ ← فُزِّعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ أَشْجَعَ النَّاسِ وَأَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتًا ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13901

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13902

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْنِ لَهُ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرَ أَنْ يَحُجَّ مَاشِيًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِهِ نَفْسَهُ فَلْيَرْكَبْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13902

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13903

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّاسَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَأَقْحَطْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَسْقِ لَنَا فَقَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَاسْتَسْقَى وَصَفَ حَمَّادٌ وَبَسَطَ يَدَيْهِ حِيَالَ صَدْرِهِ وَبَطْنُ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَمَا انْصَرَفَ حَتَّى أَهَمَّتْ الشَّابَّ الْقَوِيَّ نَفْسُهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ فَمُطِرْنَا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبُنْيَانُ وَانْقَطَعَ الرُّكْبَانُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِطَهَا عَنَّا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَانْجَابَتْ حَتَّى كَانَتْ الْمَدِينَةُ كَأَنَّهَا فِي إِكْلِيلٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھروں کی عمارتیں گر گئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چنانچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔

أنس أن الناس ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13903

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13904

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِقُدُومِهِ وَهُوَ فِي نَخْلِهِ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ فَإِنْ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ وَإِنْ لَمْ تَعْلَمْهُنَّ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ قَالَ فَسَأَلَهُ عَنْ الشَّبَهِ وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ قَالَ أَمَّا الشَّبَهُ إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ذَهَبَتْ بِالشَّبَهِ وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ فَآمَنَ وَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي فَأَخْبِئْنِي عِنْدَكَ وَابْعَثْ إِلَيْهِمْ فَتَسْأَلَهُمْ عَنِّي فَخَبَّأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوا فَقَالَ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ قَالُوا هُوَ خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ فَقَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ فَخَرَجَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا أَشَرُّنَا وَابْنُ أَشَرِّنَا وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ قَدْ أَخْبَرْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ بِقُدُومِهِ وَهُوَ فِي نَخْلِهِ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ فَإِنْ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ وَإِنْ لَمْ تَعْلَمْهُنَّ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ قَالَ فَسَأَلَهُ عَنْ الشَّبَهِ وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ قَالَ أَمَّا الشَّبَهُ إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ذَهَبَتْ بِالشَّبَهِ وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ وَأَمَّا أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُهُمْ إِلَى الْمَغْرِبِ فَآمَنَ وَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِسْلَامِي يَبْهَتُونِي فَأَخْبِئْنِي عِنْدَكَ وَابْعَثْ إِلَيْهِمْ فَتَسْأَلَهُمْ عَنِّي فَخَبَّأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَجَاءُوا فَقَالَ أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ قَالُوا هُوَ خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ فَقَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَأَخْبِرْهُمْ فَخَرَجَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالُوا أَشَرُّنَا وَابْنُ أَشَرِّنَا وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ قَدْ أَخْبَرْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13904

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13905

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرَقَتُهُ أَطْيَبَ شَيْءٍ رِيحًا فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَصَفَ حَمَّادٌ بِيَدِهِ أَيْ تَعَالَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ وَعَائِشَةُ مَعِي يُومِئُ إِيمَاءً فَقَالَ الرَّجُلُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَوَصَفَ حَمَّادٌ أَيْ لَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أَيْ لَا قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِ أَنْ تَعَالَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا يَقُولُ كَذَا وَيَقُولُ كَذَا وَصَفَ حَمَّادٌ أَيْ لَا وَيَقُولُ ذَا أَيْ لَا فَقَالَ هَكَذَا أَيْ قُومَا فَذَهَبَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا پکایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چنانچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنْ فَارِسِيًّا كَانَ جَارًا لِلنَّبِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13905

chevron_left Previous
1…353637…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter