Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13822

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يَبْنِي عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنْ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَقَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن قیام فرمایا اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی، میں نے مسلمانوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی، اس میں کوئی روٹی اور گوشت نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دستر خوان بچھانے کا حکم دیا، اور اس پر کھجوریں ، پنیر اور گھی لا کر رکھ دیا، یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، مسلمان آپس میں باتیں کرنے لگے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی امہات المومنین میں سے ہوں گی یا باندیوں میں سے؟ پھر آپس میں خود ہی کہنے لگے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردہ کرایا تو یہ امہات المومنین میں سے ہوں گی، اور اگر پردہ نہ گرایا تو یہ باندیوں میں سے ہوں گی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوچ فرمایا تو پیچھے سے ان کے لئے سواری پر چڑھنے میں مدد کی اور لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کھینچ دیا۔

«أَقَامَ النَّبِيُّ بَيْنَ خَيْبَرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13822

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13823

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ وَإِلَّا فَسَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ لَهَا هَبِلْتِ أَوَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سیر پر نکلے، راستے میں کہیں سے ناگہانی تیر ان کے آکر لگا اور وہ شہید ہوگئے، ان کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ جانتے ہیں کہ مجھے حارثہ سے کتنی محبت تھی، اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی ورنہ پھر جو میں کروں گی وہ آپ بھی دیکھ لیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سب سے افضل جنت میں ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13823

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13824

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مُدٌّ فِي الْوُضُوءِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے وضو میں ایک مد پانی کافی ہوجانا چاہئے ۔

يَكْفِي أَحَدَكُمْ مُدٌّ فِي الْوُضُوءِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← جَبْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← سُفْيَانَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13824

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13825

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ حَدَّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے لوگ مؤذن ہوں گے۔

أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُؤَذِّنُونَ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13826

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ فَقَالَتْ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ فَرَكِبَتْ فِي الْبَحْرِ مَعَ ابْنِهَا قَرَظَةَ حَتَّى إِذَا هِيَ قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً لَهَا بِالسَّاحِلِ فَوَقَصَتْ بِهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت ملحان کے گھر میں ٹیک لگائی، سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آئی جو اس سبز سمندر پر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے سوار ہو کر نکلیں گے اور وہ ایسے محسوس ہوں گے کہ گویا تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعاء فرما دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعاء فرما دی کہ اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما۔ پھر ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا، اور وہ اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپسی پر جب ساحل سمندر پر وہ اپنے جانور پر سوار ہوئیں تو وہ بدک گئی اور وہ اس سے گر کر فوت ہوگئیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ فَقَالَتْ مِمَّ ضَحِكْتَ ← اتَّكَأَ رَسُولُ اللهِ عِنْدَ ابْنَةِ مِلْحَانَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْاَنْصَارِیِّ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13826

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13827

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت ملحان کے گھر میں ٹیک لگائی، سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں کو دیکھ کر ہنسی آئی جو اس سبز سمندر پر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے سوار ہو کر نکلیں گے اور وہ ایسے محسوس ہوں گے کہ گویا تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعاء فرما دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعاء فرما دی کہ اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما۔ پھر ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا، اور وہ اپنے بیٹے قرظہ کے ساتھ سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپسی پر جب ساحل سمندر پر وہ اپنے جانور پر سوار ہوئیں تو وہ بدک گئی اور وہ اس سے گر کر فوت ہوگئیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← أَنَسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← مُعَاوِيَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13828

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِحَتْ لَهُ مِنْ الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہے، اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ، وان محمداً عبدہ، و رسولہ، تو جنت کے آٹھوں دروازے اس کے لئے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔

مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13828

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13829

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْقَى مِنْ الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا شَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں زائد جگہ بچ جائے گی تو اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13829

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13830

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ قَالَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ احْفَظِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ أَحَدٌ فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَثَبَ حَتَّى دَخَلَ فَجَعَلَ يَصْعَدُ عَلَى مَنْكِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمَلَكُ أَتُحِبُّهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ تَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَرَاهُ تُرَابًا أَحْمَرَ فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ذَلِكَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهَا قَالَ فَكُنَّا نَسْمَعُ يُقْتَلُ بِكَرْبَلَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔

اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْمَطَرِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13830

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13831

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ ثَلَاثَ حَصَيَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً ثُمَّ وَضَعَ أُخْرَى بَيْنَ يَدَيْهِ وَرَمَى بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَذَاكَ أَمَلُهُ الَّتِي رَمَى بِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین کنکریاں لیں اور ان میں سے اسے ایک کو، پھر دوسری کو، پھر تیسری کو، زمین پر رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے، اور یہ اس کی امیدیں ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13831

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13832

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ تَعَالَ نُؤْمِنْ بِرَبِّنَا سَاعَةً فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ فَغَضِبَ الرَّجُلُ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَى إِلَى ابْنِ رَوَاحَةَ يُرَغِّبُ عَنْ إِيمَانِكَ إِلَى إِيمَانِ سَاعَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِنَّهُ يُحِبُّ الْمَجَالِسَ الَّتِي تُبَاهَى بِهَا الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهِمْ السَّلَام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی ساتھی سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں ، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصے میں آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابن رواحہ کو تو دیکھئے، یہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے سے موڑ کر تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی دعوت دے رہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابن رواحہ پر اپنی رحمتیں برسائے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے فخر کرتے ہیں ۔

ذاتَ يومٍ لرجلٍ، فغَضِبَ الرجلُ، فجاءَ إلى النبيِّ ← تعالَ نُؤْمِنْ بِربِّنا ساعةً. ← كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ← عُمَارَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13832

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13833

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَهُ وَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمَمْتُ طِيبًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، بخدا! میں نے اگر کوئی کام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام اس طرح کیوں کیا؟ اور میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی، اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔

خَدَمْتُ النَّبِيَّ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عُمَارَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13833

chevron_left Previous
1…293031…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter