Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13498

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَبَابٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ

محمد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَوْ كَمَا ← رَسُولِ اللَّهِ فَفَرَغَ مِنْهُ ← كَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو قَطَنٍ،

Hadith 13498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13499

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَبَابٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے ستر جوان تھے جنہیں قراء کہا جاتا تھا، وہ مسجد میں ہوتے تھے، جب شام ہوتی تو مدینہ کے کسی کونے میں چلے جاتے، سبق پڑھتے اور نماز پڑھتے تھے، ان کے گھر والے سمجھتے کہ وہ مسجد میں ہیں اور مسجد والے یہ سمجھتے کہ وہ گھر میں ہیں ، صبح ہونے کے بعد وہ میٹھا پانی لاتے اور لکڑیاں کاٹتے اور انہیں لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس لٹکادیتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو روانہ فرمایا اور وہ بئر معونہ کے موقع پر شہید ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ دن تک فجر کی نماز میں ان کے قاتلوں پر بددعاء فرماتے رہے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

كَانَ شَبَابٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Hadith 13499

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13500

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ وَسَطٌ وَبَسَطَ عُمَرُ فِي قِرَاءَةِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع کر دی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ

Hadith 13500

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13501

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ وَقَالَتْ ابْنِي ابْنِي قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا، میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھا لیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خاموش کروایا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔

مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ ← كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ

Hadith 13501

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13502

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ مُرَّ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا نَذَرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ فَرَكِبَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ سوار ہوگیا۔

نَذَرَ ← فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا ← أَنَسٌ مُرَّ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ← ثَابِتٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 13502

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13503

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ انْتَهَى إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيَّ فَأَرْسَلَنِي فِي رِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ أَوْ فِي جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قَالَ قُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ احْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ بَعْدُ أَحَدًا قَطُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ

Hadith 13503

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13504

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 13504

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13505

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَسْتَحْمِلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔

وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ ← جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَسْتَحْمِلُ النَّبِيَّ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 13505

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13506

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذابِ قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← الدَّجَّالِ، ← عَذَابُ الْقَبْرِ. ← سُئِلَ أَنَسٌ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 13506

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13507

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا قَالَ كَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنْ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز اور نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

صلاة النبي وصومه تطوعا ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 13507

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13508

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ ماہِ رمضان آگیا ہے، اس ماہِ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيُّ ← أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Hadith 13508

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13509

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَقَالَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ تُرَابُهُ الْمِسْكُ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ تَرِدُهُ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا مِثْلُ أَعْنَاقِ الْجُزُرِ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کی مٹی مشک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Hadith 13509

chevron_left Previous
1234…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter