Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13762

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اتنے بلند فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی تک دکھائی دیتی۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13762

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13763

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگوں نے ازواج مطہرات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انفرادی عبادت کے متعلق سوال کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ، میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں ، اب جو شخص میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔

سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي". ← فَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ ← مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ أَمَّا ← فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ ← أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13763

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13764

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَيْتِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چھ ماہ تک مسلسل جب نمازِ فجر کے وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کے قریب سے گذرتے تھے تو فرماتے تھے اے اہل بیت! نماز کے لئے بیدار ہوجاؤ، اے اہل بیت! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13764

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13765

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهُ اللَّهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13765

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13766

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَيْهِ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کی بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقروفاقہ کو کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کر لیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔

أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى قَوْمَهُ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13766

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13767

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَوَحَشَ بِهَا ثُمَّ جَاءَ سَائِلٌ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَارِيَةِ اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کھجوریں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس درہم دلوادو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13767

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13768

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجْعَلُهُ خَلًّا قَالَ لَا قَالَ فَأَهْرَاقَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے؟ فرمایا نہیں ، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔

أَنَسٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← لَيْثٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13768

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13769

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ حُسَيْنٌ عَنِ السُّدِّيِّ وَقَالَ أَسْوَدُ حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى فَابْتَاعَ لَهُمْ خَمْرًا فَلَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْنَعُهُ خَلًّا قَالَ لَا قَالَ فَأَهْرَاقَهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں کچھ یتیم زیر پرورش تھے، انہوں نے ان کے پیسوں سے شراب خرید کر رکھ لی، جب شراب حرام ہوگئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کے پاس شراب ہو تو کیا ہم اسے سرکہ نہیں بنا سکتے؟ فرمایا نہیں ، چنانچہ انہوں نے اسے بہا دیا۔

اِسْرَائِیْلُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13769

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13770

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَنَسٍ أَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَأَنْتُمْ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدُ فَقَالَ مَا لَمْ يُحْدِثْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کے لئے برتن لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا: راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بے وضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ← شُعْبَةُ، ← إِسْرَائِيلُ وَحَجَّاجٌ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13770

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13771

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَاصُّو صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ وَقَالَ عَفَّانُ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں جوڑ کر اور قریب قریب ہو کر بنایا کرو، کندھے ملا لیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں دیکھتا ہوں کہ چھوٹی بھیڑوں کی طرح شیاطین صفوں کے بیچ میں گھس جاتے ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَسْوَدُ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13771

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13772

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا كَانَ يَخْدُمُهُ يَهُودِيًّا فَقَالَ لَهُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَجَعَلَ يُنْظَرُ إِلَى أَبِيهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ قَالَ فَقَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ وَقَالَ غَيْرُ أَسْوَدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ قُلْ مَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھو۔

لَكَ مُحَمَّدٌ ← لَهُ قُلْ مَا ← غَيْرُ أَسْوَدَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ← رَسُولُ اللَّهِ لِأَصْحَابِهِ صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ ← فَقَالَهَا ← لَكَ ← لَهُ قُلْ مَا ← لَهُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَجَعَلَ يُنْظَرُ إِلَى أَبِيهِ ← عَادَ النَّبِيُّ غُلَامًا كَانَ يَخْدُمُهُ يَهُودِيًّا ← أَنَسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13772

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13773

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ وَجَابِرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَنَّانِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔

كَنَّانِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا يَعْنِي النَّبِيَّ ← أَنَسٍ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَنَسٍ وَجَابِرٍ ← عَاصِمٍ، ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13773

chevron_left Previous
1…242526…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter