Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13726

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے ، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتا یا کہ یہ زینب کی رسی ہے ، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13726

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13727

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَلَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کرلو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔

الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ ← كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13728

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ قحط سالی ہوئی، جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مال تباہ ہو رہے ہیں اور بچے بھوکے ہیں ، اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ ہمیں پانی سے سیراب کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اس وقت پہاڑوں جیسے بادل آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترنے بھی نہیں پائے تھے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک پر بارش کا پانی ٹپکتے ہوئے دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ ← أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13728

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13729

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں ، ایک حرص اور ایک امید۔

يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13730

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مر جائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13730

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13731

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ قَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں ، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكْثِرُ أَنْ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13732

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا: یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں ۔

هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← وَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13732

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13733

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَرُبَّمَا قَالَ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَإِذَا رَأَى الرُّؤْيَا الرَّجُلُ الَّذِي لَا يَعْرِفُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ دَمًا فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَخِ أَوْ الْبَيْدَحِ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ أُتُوا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَأُتُوا بِصَحْفَةٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَمَا يَقْلِبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا فَاكِهَةً مَا أَرَادُوا وَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا الَّذِينَ عَدَّتْ الْمَرْأَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ فَقَصَّتْ فَقَالَ هُوَ كَمَا قَالَتْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے، اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر دریافت کر لیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں ، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جارہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چنانچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں ، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں ، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا، اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دیئے جو عورت نے بتائے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَرُبَّمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَیْمَانَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13734

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ قَالَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ سَكَتَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ وَعُثْمَانَ قَالَ وَعُثْمَانَ

عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَصَمِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13735

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ فَذَكَرَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَأَشَارَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فَجَعَلَ ظَهْرَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ

حدیث استسقاء اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13735

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13736

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَّزَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَجَوَّزْتَ قَالَ سَمِعْتُ بُكَاءَ صَبِيٍّ فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ مَعَنَا تُصَلِّي فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ تُصَلِّي مَعَنَا فَأَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ قَالَ عَفَّانُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَحُمَيْدٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے نماز ہلکی کردی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نماز کیوں مختصر کردی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، میں سمجھا کہ ہوسکتا ہے اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو، اس لئے میں نے چاہا کہ اس کی ماں کو فارغ کر دوں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَحُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13736

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13737

قَالَ عَفَّانُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَحُمَيْدٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھاتے ہوئے نماز ہلکی کردی، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے نماز کیوں مختصر کردی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، میں سمجھا کہ ہوسکتا ہے اس کی ماں ہمارے ساتھ نماز پڑھ رہی ہو، اس لئے میں نے چاہا کہ اس کی ماں کو فارغ کر دوں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَحُمَيْدٍ وَثَابِتٍ ← عَفَّانُ فَوَجَدْتُهُ عِنْدِي فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13737

chevron_left Previous
1…212223…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter