Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13702

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا: نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش او مطمئن ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ یہ

أشياء إن تبد لكم تسؤكم. ← هَذِهِ الْآيَةِ لَا تَسْأَلُوا ← وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ ← أَنَسٍ بِمِثْلِهِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13703

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَادْعُوا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13703

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13704

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُودِ الَّذِي فِي مَقَامِ الْإِمَامِ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ يَذْكُرُ لَنَا فِيهِ شَيْئًا قَالَ مُصْعَبٌ فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ جَلَسَ إِلَيَّ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ هَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ هَذَا وَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي لِمَ صُنِعَ فَقَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَلَيْهِ يَمِينَهُ ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَيْنَا فَقَالَ اسْتَوُوا وَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ

مصعب بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ پر ایک لکڑی تھی، ہم نے بہت کوشش کی کہ اس کے متعلق کسی سے کچھ معلوم ہوجائے لیکن ہمیں ایک آدمی بھی ایسا نہ ملا جو ہمیں اس کے متعلق کچھ بتا سکتا، اتفاقاً مجھے محمد بن مسلم صاحب مقصورہ نے بتایا کہ ایک دن حضرت انس رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف فرما تھے، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکڑی کیوں رکھی گئی ہے؟ میں نے ان سے یہ سوال نہ پوچھا تھا، میں نے عرض کیا بخدا! مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیوں رکھی گئی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا داہنا ہاتھ رکھ کر ہماری طرف متوجہ ہوتے تھے اور فرماتے تھے سیدھے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو۔

مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13704

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13705

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَحْدُو بِالرِّجَالِ وَأَنْجَشَةَ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ فَحَدَا فَأَعْنَقَتْ الْإِبِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مردوں کے لئے حدی خوانی کرتے تھے اور انجثہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے لئے ، انجثہ کی آواز بہت اچھی تھی، جب انہوں نے حدی شروع کی تو اونٹ تیزی سے دوڑنے لگے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجثہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13705

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13706

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کو مشقتوں سے اور جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادٌ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13706

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13707

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَزْدَوَيْهِ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ قَالَ فَسَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا فَقَالَ أَنَسٌ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى كَانَ يُخَفِّفُ فِي تَمَامٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ مکمل اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔

وَكَانَ عُمَرُ يُصَلِّي بِنَا ← أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ بِهِ وَضَحٌ شَدِيدٌ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَامِلٌ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يُسْتَخْلَفَ ← خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ ← عثمان بن يَزْدَويهِ ← أُمَيَّةَ بْنِ شِبْلٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13707

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13708

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ يَعْنِي الْحَبَطِيُّ أَبُو هِشَامٍ قَالَ أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ عَادَ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الصَّحِيحُ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ قَالَ تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ

مروان بن ابی داؤد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے ابوحمزہ! جگہ دور کی ہے لیکن ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کی عیادت کو آیا کریں ، اس پر انہوں نے اپنا سر اٹھا کر کہا کہ میں نے نبٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے، وہ رحمت الہٰیہ کے سمندر میں غوطے لگاتا ہے، اور جب مریض کے پاس بیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو اس تندرست آدمی کا حکم ہے جو مریض کی عیادت کرتا ہے، مریض کا کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔

أَخِي هَارُونُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ يَعْنِي الْحَبَطِيُّ أَبُو هِشَامٍ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13708

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13709

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَقَوْلٍ لَا يُسْمَعُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ! میں نہ سنی جانے والی بات، نہ بلند ہونے والے عمل، خشوع سے خالی دل، اور غیر نافع علم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13709

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13710

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِمَ صَنَعْتَ كَذَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفروحضر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہی ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا؟

لِمَ صَنَعْتَ كَذَا ← لِي: أُفٍّ قَطُّ وَلَا ← خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَشْرَ سِنِیْنَ فَمَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13710

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13711

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت۔

شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ ← سَلَّامٌ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13711

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13712

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← صدقة صاحب الدقيق ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13712

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13713

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ نَاسٌ النَّارَ حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں ۔

هؤلاء الجهنميون)) ← إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ ← نَبِيَّ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← رَوْحٌ، ← أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ ← النَّبِيِّ يَدْخُلُ نَاسٌ النَّارَ حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13713

chevron_left Previous
1…192021…264
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter