Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14383

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قُلْتُ لِأَبِي سَمِعْتُ أَبَا خَيْثَمَةَ يَقُولُ نَصْرُ بْنُ بَابٍ كَذَّابٌ فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كَذَّابٌ إِنَّمَا عَابُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ وَإِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ فَلَا يُنْكَرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خرید و فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد سے عرض کیا میں نے ابوخیثمہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نصر بن باب نامی راوی کذاب ہیں اس پر انہوں نے استغفر اللہ کہا اور تعجب کرنے لگے کہ کذاب۔ محدثین کے انہیں مطعون کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ابراہیم الصائغ سے حدیث روایت کی ہے اور ابراہیم الصائغ ان کے اہل شہر میں سے ہیں لہذا ان سے سماع کوئی تعجب کی چیز نہیں ہے۔

مِنْهُ ← إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ وَإِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ فَلاَ يُنْكَرُ أَنْ يَكُونَ ← أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كَذَّابٌ إِنَّمَا عَابُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ حَدَّثَ ← نَصْرُ بْنُ بَابٍ كَذَّابٌ ← أَبَا خَيْثَمَةَ ← عَبْدُ اللهِ قُلْتُ لأَبِي ← بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حجاج، ← نَصْرُ بْنُ بَابٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14383

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14384

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے اے بھتیجے کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بے ہوش کر گر پڑے اور اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم نہیں دیکھا گیا۔

جَابِرًا ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14384

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14385

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتُوا خِطَامًا فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے جب ہم نجار کے ایک باغ کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اس باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہونے والے ہر شخص پر حملہ کر دیتا ہے لوگوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے اور اس اونٹ کو بلایا وہ اپنی گردن جھکائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی لگام لاؤ وہ لگام اس کے منہ میں ڈال کر اونٹ اس کے مالک کے حوالے کردیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آسمان وزمین کے درمیان جتنی چیزیں ہیں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ← الأَجْلَحِ، ← مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14385

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14386

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیز نو ایجاد ہیں اور ہربدعت گمراہی ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرمانے لگے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی رہی پھر فرمایا قیامت تم پر آگئی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا تم پر صبح کو قیامت آ گئی ہے یا شام کو، جو شخص مال ودولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ دے وہ میرے ذمہ ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14386

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14387

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَسَمِعْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا بِهَا نَوْمَةً ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ فَلَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ کے ہم رکاب نجد کی طرف جہاد کے لئے گیا اور واپسی میں بھی ہم رکاب تھا واپسی پر ایک بڑی خاردار درختوں والی وادی میں دوپہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ وہیں اتر گئے سب لوگ ادھرادھر درختوں کے سایہ میں چلے گئے حضور ایک کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لئے اترے درخت سے تلوار لٹکا دی اور ہم سب سو گئے تھوڑی دیر سوئے تھے کہ بیدار ہو گئے کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ہم کو بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا ہے حضور نے فرمایا سوتے میں اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچی میں جاگ اٹھا دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا خوف کے مارے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا حالانکہ اس نے ایسا کیا تھا۔

أبو سلمة بن عبد الرحمن. أن جابر بن عبد الله الأنصاري ← سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← فِي مَوْضِعٍ آخَرَ ← وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14387

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14388

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَكَانَ الرَّاكِبُ يَمُرُّ تَحْتَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جیش خبط کے ساتھ جس کے امیر حضرت ابوعبیدہ تھے جہاد میں شریک ہوئے راستے میں بھوک کی شدت نے ہمیں بہت تنگ کیا اسی اثناء میں سمندر نے ہمارے لئے اتنی بڑی مچھلی باہر پھینک دی کہ ہم نے اس سے پہلے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ہم اسے نصف ماہ تک کھاتے رہے حضرت ابوعبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر اسے گاڑا توسوار بھی اس کے نیچے سے باآسانی سے گذر جاتا تھا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14388

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14389

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ خَبَرِ عَمْرٍو هَذَا وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ فَكُلُوا فَأَكَلْنَا فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ جَابِرٌ فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ قَالَ فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَأَكَلَ مِنْهُ

گذشتہ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا ۔ پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کاروغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14389

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14390

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا قَالَ نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنْ الْمَاءِ فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ قَالَ وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ قَالَ وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ يُدْعَى الْعَنْبَرُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا وَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ قَالَ وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ كَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا قَالَ فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی نکالی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کاروغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14390

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14391

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَهُ وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی زمین یاباغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے نہ ہو تو چھوڑ دے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ ← زُهَيْرٍ ← هَاشِمٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14391

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14392

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ ← زُهَيْرٍ ← هَاشِمٌ وَحَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14392

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14393

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ فَلَا تُفْسِدُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیدے توہ اسی کی ہوجاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14393

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14394

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہونے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دو کیونکہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تورات کی سیاہی دور ہونے تک شیاطین اترتے رہتے ہیں۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14394

chevron_left Previous
1…565758…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter