Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14335

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کوچمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔

خَرَجَ ← أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ ← أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى ← جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14335

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14336

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ قَالَ مَحْمُودٌ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَوَاحِدٌ لَقَالَ وَوَاحِدٌ قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَاكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہو گا ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اگر کسی کے دو بچے فوت ہو جائیں تو ؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ ایک کا بھی یہی حکم ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمادیا واللہ میر ابھی یہی خیال ہے۔

قُلْنَا ← "مَنْ ماتَ له ثلاثَةٌ مِنَ الولدِ فاحْتَسَبهُمْ؛ دخَلَ الجنَّة". ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14336

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14337

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَنَفِدَ زَادُنَا فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فَجَعَلَهُ فِي مِزْوَدٍ فَكَانَ يُقِيتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَمَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ قَالَ قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ ذَهَبَتْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّاحِلِ فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ الْعَظِيمِ قَالَ فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُمَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ فَمَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ يُصِبْهَا شَيْءٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو افراد پر مشتمل ایک دستہ بھیجا اور ان پر حضرت ابوعبید بن جراح کو امیر مقرر کردیا راستے میں ہمارا زاد سفرختم ہوگیا حضرت ابوعبید نے تمام لوگوں کا توشہ ایک برتن میں اکٹھا کیا اور اس میں سے کھانے کے لئے دیتے رہے ہمیں روزانہ کی صرف ایک کھجور ملتی تھی ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوعبداللہ ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا یہ تو ہمیں اس وقت پتہ چلا جب وہ ایک کھجور بھی ملناختم ہو گئی اسی دوران ہمارا گذر بڑے ٹیلے کی مانند ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی لشکر اسے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے پھر حضرت عبید نے اس مچھلی کی دو پسلیاں لے کر انہیں نصب کیا پھر ایک سواری کو اس کے نیچے سے گذارا تو پھر بھی وہ اس کی پسلی سے نہیں ٹکرایا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14337

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14338

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى ح وَوَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْمَعْنَى قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اقْرَأْ فَقَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ قَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ

یحیی بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون ساحصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہاہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینہ تک غار حراکا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں حضرت جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ

الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14338

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14339

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَذَكَرَ أَيْضًا قَالَ فَنَظَرْتُ فَوْقِي فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

یحیی بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون ساحصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہاہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینہ تک غار حراکا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں حضرت جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ

الْحَدِيثَ إِلَّا ← يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ← سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14339

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14340

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ يُنْتَبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ فَتَوْرٌ مِنْ حِجَارَةٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر وہ مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14340

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14341

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال پوچھا تو آپ نے فرمایا ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلا دینا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14341

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14342

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14342

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14343

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کرے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14343

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14344

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَأَيْتُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ قَالَ لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِلَعِبِ الشَّيْطَانِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن ماردی گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیطان کے کھیل تماشوں کو " جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے " دوسروں کے سامنے کیوں بیان کرتے ہو؟

أَحَدُكُمْ بِلَعِبِ الشَّيْطَانِ ← لِمَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ رَأَيْتُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14344

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14345

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کے متعلق سوال کی گیا تو آپ نے " نہیں " کبھی نہیں فرمایا۔

مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14345

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14346

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَنْهَانِي قَوْمِي فَسَمِعَ بَاكِيَةً وَقَالَ مَرَّةً صَوْتَ صَائِحَةٍ قَالَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقَالُوا ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو قَالَ فَلِمَ تَبْكِينَ أَوْ قَالَ أَتَبْكِينَ فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوئے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھا گیا ان پر کپڑا ڈھانپ دیا گیا تھا تو میں ان کے چہرے پر سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کرنا شروع کردیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے رونے کی آواز سنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا بنت و عمر یا اخت عمرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو فرشتے اس پر مسلسل سایہ کئے رہے یہاں تک کہ اسے اٹھالیا گیا ۔

ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14346

chevron_left Previous
1…525354…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter