Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16824

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ

حضرت ضرار بن ازور سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے اہل خانہ نے ایک دودھ دینے والی اونٹنی دے کر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دودھ دوہنے کا حکم دیا، میں اسے دوہن لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔

دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ ← بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا فَحَلَبْتُهَا ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16824

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16825

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٌ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا فَدَفَعْتُ عَنْهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ فَقُلْتُ نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبْعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ أَوْ أَطْوَلْتَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتُوهُ إِلَيْكَ وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعْ النَّاسَ مِنْهُ خَلِّ عَنْ زِمَامِ النَّاقَةِ

مغیرہ بن سعد اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میدان عرفات میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، لوگ مجھے ہٹانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کوئی ضرورت ہے جو اسے لائی ہے، میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کردے اور جہنم سے دور کردے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا اگرچہ تمہارے الفاظ مختصر ہیں لیکن بات بہت بڑی ہے، اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، حج بیت اللہ کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، لوگوں کے پاس اس طرح جاؤ جیسے ان کا تمہیں اپنے پاس آنا پسند ہو اور جس چیز کو تم اپنے حق میں ناگوار سمجھتے ہو، اس سے لوگوں کو بھی بچاؤ اور اب اونٹنی کی رسی چھوڑ دو۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِعَرَفَةَ فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا فَدَفَعْتُ عَنْهُ ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← المغيرة بن سعد، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16826

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَثْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ يُونُسَ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صَوْمِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ

حضرت یونس بن شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

يُونُسَ بْنِ شَدَّادٍ ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← محمد بن عثمة ← أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16826

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16827

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ مُطَيْرٍ ومُطَيْرٌ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ مَقَالَتَهُ قَالَ كَيْفَ كُنْتُ أَخْبَرْتُكَ قَالَ يَا أَبَتَاهُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ لَقِيَكَ ذُو الْيَدَيْنِ بِذِي خُشُبٍ فَأَخْبَرَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُمَا مُبْتَدٍ فَلَحِقَهُ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ مَا قَصُرَتْ وَلَا نَسِيتُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَا صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ حَدَّثْتُ سِتَّ سِنِينَ أَوْ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ سَلَّمَ وَشَكَكْتُ فِيهِ وَهُوَ أَكْثَرُ حِفْظِي

معدی بن سلیمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مطیر نے اپنے بیٹے شعیث بن مطیر سے کہا کہ میں نے تمہیں وہ روایت کیسے بتائی تھی؟ شعیث نے جواب دیا کہ ابا جان! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ مقام ذی خشب میں حضرت ذوالیدین آپ سے ملے تھے، انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر غالباً عصر کی نماز پڑھائی، اور دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، جلد باز قسم کے لوگ یہ دیکھ کر نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں کہتے ہوئے مسجد سے نکل گئے۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوئے اور حضرت ابوبکر وعمر بھی پیچھے پیچھے چلے کہ ذوالیدین سامنے سے آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ سچ کہہ رہے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس آگئے اور لوگ بھی واپس آگئے اور دو رکعتیں مزید پڑھائیں اور سلام پھیر کر سجدہ سہو کر لیا۔

يَا أَبَتَاهُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ لَقِيَكَ ذُو الْيَدَيْنِ بِذِي خُشُبٍ فَأَخْبَرَكَ ← كَيْفَ كُنْتُ أَخْبَرْتُكَ ← أَبِيهِ مُطَيْرٍ ومُطَيْرٌ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ مَقَالَتَهُ ← شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ ← مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16828

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنِي مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ مُطَيْرًا لِأَسْأَلَهُ عَنْ حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يُنْفِذُ الْحَدِيثَ مِنْ الْكِبَرِ فَقَالَ ابْنُهُ شُعَيْثٌ بَلَى يَا أَبَتِ حَدَّثَتْنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالَ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ قَالَ مَا قَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَلَا نَسِيتُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَا صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَابَ النَّاسُ وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ

معدی بن سلیمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مطیر نے اپنے بیٹے شعیث بن مطیر سے کہا کہ میں نے تمہیں وہ روایت کیسے بتائی تھی؟ شعیث نے جواب دیا کہ ابا جان! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ مقام ذی خشب میں حضرت ذوالیدین آپ سے ملے تھے، انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر غالباً عصر کی نماز پڑھائی، اور دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، جلد باز قسم کے لوگ یہ دیکھ کر نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں کہتے ہوئے مسجد سے نکل گئے۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کھڑے ہوئے اور حضرت ابوبکر وعمر بھی پیچھے پیچھے چلے کہ ذوالیدین سامنے سے آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں ؟ دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ سچ کہہ رہے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس آگئے اور لوگ بھی واپس آگئے اور دو رکعتیں مزید پڑھائیں اور سلام پھیر کر سجدہ سہو کر لیا۔

أَتَيْتُ مُطَيْرًا لِأَسْأَلَهُ ← مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16828

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16829

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فَقَالَ مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْزِلَتُهُمَا السَّاعَةَ

ابن ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر وعمر کا کیا مقام ومرتبہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو انہیں اس وقت حاصل ہے۔

مَنْزِلَتُهُمَا السَّاعَةَ ← مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْ النَّبِيِّ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16829

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16830

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ نُحْلًا أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ

حضرت عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی باپ نے اپنی اولاد کو عمدہ ادب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← عامر بن أبي عامرٍ الخزاز، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16830

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16831

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ قَالَ دَخَلْتُ الْأَسْوَاقَ وَقَالَ فَأَثَرْتُ وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً فَأَخَذْتُ دُبْسَتَيْنِ قَالَ وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا قَالَ فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَنَزَعَ مِتِّيخَةً قَالَ فَضَرَبَنِي بِهَا فَقَالَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا مَرْيَمُ لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِهِ وَمِنْ تَكْسِيرِ الْمِتِّيخَةِ فَقَالَ لِي أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ

یحیی بن عمارہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ریتلی جگہ پر پہنچا، وہاں میں نے دو چھوٹے پرندے پکڑ لیے، ان کی ماں یہ دیکھ کر اپنے پر پھڑپھڑانے لگی، اس اثناء میں ابوحسن آگئے، انہوں نے اپنی لاٹھی نکالی اور مجھے اس سے مارنے لگے، ہمارے خاندان کی ایک عورت جس کا نام مریم تھا، کہنے لگی کہ تم اس کا بازو توڑ ڈالو گے یا چھڑی، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کو حرم قرار دیا ہے۔

أُرِيدُ ← وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا، ← الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً فَأَخَذْتُ دُبْسَتَيْنِ ← فَأَثَرْتُ ← دَخَلْتُ الْأَسْوَاقَ ← جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16831

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16832

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ ضُمَيْرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ نِكَاحَ السِّرِّ حَتَّى يُضْرَبَ بِدُفٍّ وَيُقَالَ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيِّيكُمْ

حضرت ابوحسن سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے، یہاں تک کہ دف بجائے جائیں اور یہ کہا جائے کہ ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمارے پاس آئے، تم ہمیں مبارک دو، ہم تمہیں مبارک دیں۔

جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← وَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ ضُمَيْرَةَ ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْمَرْوَزِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16832

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16833

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ وَكَانَ ثِقَةً رَجُلًا صَالِحًا قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا فَرَآنِي أَبُو حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ فَقَالَ تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ وَاللَّهِ لَأَحْلِقَنَّهَا فَحَلَقَهَا

عمرو بن یحیی اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میرے سر کے بال بہت بڑے تھے، میں جب سجدہ کرتا تھا تو انہیں اپنے ہاتھ سے اوپر کرتا تھا، ایک مرتبہ حضرت ابوحسن نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمانے لگے کہ تم انہیں اس لئے اوپر کرتے ہو کہ انہیں مٹی نہ لگ جائے، بخدا! میں انہیں کاٹ کر رہوں گا، چنانچہ انہوں نے وہ بال کاٹ دیئے۔

تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ وَاللَّهِ لَأَحْلِقَنَّهَا فَحَلَقَهَا ← كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا فَرَآنِي أَبُو حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ ← أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ وَكَانَ ثِقَةً رَجُلًا صَالِحًا ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16833

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16834

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْحَنَفِيُّ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَرِيفٌ مِنْ عُرَفَاءِ قُرَيْشٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْ فَلْقِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالَ وَالْأَرْبِعَاءَ وَالْخَمِيسَ دَخَلَ الْجَنَّةَ

قریش کے ایک سردار اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن دہن مبارک سے سنا کہ جو شخص ماہ رمضان، شوال، بدھ جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھا کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

من صام رمضان وشوال والاربعاء والخميس دخل الجنة ← أَبِيهِ سَمِعَهُ مِنْ فَلْقِ فِي رَسُولِ اللَّهِ ← عريف من عرفاء قريش ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← أَبُو مَالِكٍ الْحَنَفِيُّ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16834

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16835

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ خَرْمَاءَ وَعَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُمْسِكٌ بِخِطَامِهَا وَهَلَكَ قَيْسٌ أَيَّامَ الْمُخْتَارِ

حضرت قیس بن عائذ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا جس کا کان چھدا ہوا تھا، اور ایک حبشی نے اس کی لگام تھام رکھی تھی، یاد رہے کہ حضرت قیس مختار کے ایام آزمائش میں فوت ہوئے تھے۔

قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16835

chevron_left Previous
1…383940…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter