Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16812

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيِّ عَنْ مِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَهَلَّا ذَكَّرْتَنِيهَا

حضرت مسور بن یزید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جہری نماز پڑھائی اور اس میں کوئی آیت چھوڑ دی، نماز کے بعد ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑ دی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلائی؟

صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ وَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ ← مِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ ← یَحْیَی بْنُ کثیر الکاھلی ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16812

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16813

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ مَوْلًى لِآلِ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَقِيلَ لِي فِي هَذِهِ الْكَنِيسَةِ رَسُولُ قَيْصَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَدَخَلْنَا الْكَنِيسَةَ فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ كَبِيرٍ فَقُلْتُ لَهُ أَنْتَ رَسُولُ قَيْصَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ حَدِّثْنِي عَنْ ذَلِكَ قَالَ إِنَّهُ لَمَّا غَزَا تَبُوكَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ كِتَابًا وَبَعَثَ بِهِ مَعَ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَهُ وَضَعَهُ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ وَبَعَثَ إِلَى بَطَارِقَتِهِ وَرُءُوسِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ بَعَثَ إِلَيْكُمْ رَسُولًا وَكَتَبَ إِلَيْكُمْ كِتَابًا يُخَيِّرُكُمْ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تَتَّبِعُوهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ تُقِرُّوا لَهُ بِخَرَاجٍ يَجْرِي لَهُ عَلَيْكُمْ وَيُقِرَّكُمْ عَلَى هَيْئَتِكُمْ فِي بِلَادِكُمْ أَوْ أَنْ تُلْقُوا إِلَيْهِ بِالْحَرْبِ قَالَ فَنَخَرُوا نَخْرَةً حَتَّى خَرَجَ بَعْضُهُمْ مِنْ بَرَانِسِهِمْ وَقَالُوا لَا نَتَّبِعُهُ عَلَى دِينِهِ وَنَدَعُ دِينَنَا وَدِينَ آبَائِنَا وَلَا نُقِرُّ لَهُ بِخَرَاجٍ يَجْرِي لَهُ عَلَيْنَا وَلَكِنْ نُلْقِي إِلَيْهِ الْحَرْبَ فَقَالَ قَدْ كَانَ ذَاكَ وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَفْتَاتَ دُونَكُمْ بِأَمْرٍ قَالَ عَبَّادٌ فَقُلْتُ لِابْنِ خُثَيْمٍ أَوَلَيْسَ قَدْ كَانَ قَارَبَ وَهَمَّ بِالْإِسْلَامِ فِيمَا بَلَغَنَا قَالَ بَلَى لَوْلَا أَنَّهُ رَأَى مِنْهُمْ قَالَ فَقَالَ ابْغُونِي رَجُلًا مِنْ الْعَرَبِ أَكْتُبْ مَعَهُ إِلَيْهِ جَوَابَ كِتَابِهِ قَالَ فَأَتَيْتُ وَأَنَا شَابٌّ فَانْطُلِقَ بِي إِلَيْهِ فَكَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ لِي مَهْمَا نَسِيتَ مِنْ شَيْءٍ فَاحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثَ خِلَالٍ انْظُرْ إِذَا هُوَ قَرَأَ كِتَابِي هَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَهَلْ يَذْكُرُ كِتَابَهُ إِلَيَّ وَانْظُرْ هَلْ تَرَى فِي ظَهْرِهِ عَلَمًا قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ وَهُوَ بِتَبُوكَ فِي حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِينَ فَسَأَلْتُ فَأُخْبِرْتُ بِهِ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ الْكِتَابَ فَدَعَا مُعَاوِيَةَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى قَوْلِهِ دَعَوْتَنِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ فَأَيْنَ النَّارُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ فَأَيْنَ النَّهَارُ قَالَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ كَتَبْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَخَرَّقَهُ فَخَرَّقَهُ اللَّهُ مُخَرَّقَ الْمُلْكِ قَالَ عَبَّادٌ فَقُلْتُ لِابْنِ خُثَيْمٍ أَلَيْسَ قَدْ أَسْلَمَ النَّجَاشِيُّ وَنَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ إِلَى أَصْحَابِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ قَالَ بَلَى ذَاكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَهَذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَدْ ذَكَرَهُمْ ابْنُ خُثَيْمٍ جَمِيعًا وَنَسِيتُهُمَا وَكَتَبْتُ إِلَى كِسْرَى كِتَابًا فَمَزَّقَهُ فَمَزَّقَهُ اللَّهُ تَمْزِيقَ الْمُلْكِ وَكَتَبْتُ إِلَى قَيْصَرَ كِتَابًا فَأَجَابَنِي فِيهِ فَلَمْ تَزَلْ النَّاسُ يَخْشَوْنَ مِنْهُمْ بَأْسًا مَا كَانَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ ثُمَّ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ تَنُوخٍ قَالَ يَا أَخَا تَنُوخٍ هَلْ لَكَ فِي الْإِسْلَامِ قُلْتُ لَا إِنِّي أَقْبَلْتُ مِنْ قِبَلِ قَوْمٍ وَأَنَا فِيهِمْ عَلَى دِينٍ وَلَسْتُ مُسْتَبْدِلًا بِدِينِهِمْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَبَسَّمَ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَاجَتِي قُمْتُ فَلَمَّا وَلَّيْتُ دَعَانِي فَقَالَ يَا أَخَا تَنُوخٍ هَلُمَّ فَامْضِ لِلَّذِي أُمِرْتَ بِهِ قَالَ وَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُهَا فَاسْتَدَرْتُ مِنْ وَرَاءِ الْحَلْقَةِ وَيَلْقَى بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيْهِ عَنْ ظَهْرِهِ فَرَأَيْتُ غُضْرُوفَ كَتِفِهِ مِثْلَ الْمِحْجَمِ الضَّخْمِ ُ

سعید بن ابوراشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرقل کے ایلچی بن کر آئے تھے، وہ میرے پڑوسی تھے، انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے اور سٹھیا جانے کی عمر تک پہنچ چکے تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہرقل کے خط اور ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے بارے کچھ بتاتے کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تشریف لائے ہوئے تھے، آپ نے حضرت دحیہ کلبی کو ہرقل کے پاس بھیجا، جب ہرقل کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط پہنچا تو اس نے رومی پادریوں اور سرداروں کو جمع کیا اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا، اور ان سے کہنے لگا کہ یہ آدمی میرے پاس آیا ہے جیسا کہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے، مجھے جو خط بھیجا گیا ہے، اس میں مجھے تین میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے، یا تو میں ان کے دین کی پیروی کر لوں یا انہیں زمین پر مال کی صورت میں ٹیکس دوں اور زمین ہمارے پاس ہی رہے، یا پھر ان سے جنگ کروں ، اللہ کی قسم! آپ لوگ جو کتابیں پڑھتے ہو، ان کی روشنی میں آپ جانتے ہو کہ وہ میرے ان قدموں کے نیچے کی جگہ بھی حاصل کر لیں گے، تو کیوں نہ ہم ان کے دین کی پیروی کرلیں یا اپنی زمین کا مال کی صورت میں ٹیکس دے دیا کریں ۔ یہ سن کر ان سب کے نرخروں سے ایک جیسی آواز نکلنے لگی، حتی کہ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتاردیں اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں عیسائیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں یا یہ کہ ہم کسی دیہاتی کے جو حجاز سے آیا ہے، غلام بن جائیں ، جب ہرقل نے دیکھا کہ اگر یہ لوگ اس کے پاس سے اسی حال میں چلے گئے تو وہ پورے روم میں اس کے خلاف فساد برپا کردیں گے تو اس نے فورا پینترا بدل کر کہا کہ میں نے تو یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ اپنے دین پر تمہارا جماؤ اور مضبوطی دیکھ سکوں ۔ پھر اس نے عرب تجیب کے ایک آدمی کو جو نصار عرب پر امیر مقرر تھا، بلایا اور کہا کہ میرے پاس ایسے آدمی کو بلا کر لاؤ جو حافظہ کا قوی ہو اور عربی زبان جانتاہو، تاکہ میں اسے اس شخص کی طرف اس کے خط کا جواب دے کر بھیجوں ، وہ مجھے بلا لایا، ہرقل نے اپنا خط میرے حوالے کردیا اور کہنے لگا کہ میرا یہ خط اس شخص کے پاس لے جاؤ، اگر اس کی ساری باتیں تم یاد نہ رکھ سکو تو کم از کم تین چیزیں ضرور یاد رکھ لینا، یہ دیکھنا کہ وہ میری طرف بھیجے ہوئے اپنے خط کا کوئی ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ یہ دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھتے ہیں تورات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کی پشت پر دیکھنا، تمہیں کوئی عجیب چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں؟ میں ہرقل کا خط لے کر روانہ ہو اور تبوک پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان پانی کے قریبی علاقے میں اپنی ٹانگوں کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ انہوں نے مجھے اشارہ سے بتادیا، میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، انہیں خط پکڑایا جسے انہوں نے اپنی گود میں رکھ لیاور اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے کہا کہ میں ایک تنوخی آدمی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں ملت حنیفیہ اسلام جو تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے میں کوئی رغبت محسوس ہوتی ہے؟ میں نے کہا میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور ایک قوم کے دین پر ہوں ، میں جب تک ان کے پاس لوٹ نہ جاؤں اس دین سے برگشتہ نہیں ہوسکتا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر یہ آیت پڑھنے لگے کہ ، جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ اللہ جسے چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اے تنوخی بھائی! میں نے ایک خط کسری کی طرف لکھا تھا، اس نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کردے گا، میں نے نجاشی کی طرف بھی خط لکھا تھا، اس نے اسے پھاڑ دیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو توڑ پھوڑ دے گا، میں نے تمہارے بادشاہ کو بھی خط لکھا لیکن اس نے اسے محفوظ کرلیا، لہذا جب تک زندگی میں کوئی خیر رہے گی، لوگوں پر اس کا رعب ودبدبہ باقی رہے گا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ تین میں سے پہلی بات ہے جس کی مجھے بادشاہ نے وصیت کی تھی، چنانچہ میں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات لکھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خط اپنی بائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو دے دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں ، بہرحال! ہمارے بادشاہ کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دیتے ہیں جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے، تو جہنم کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات بھی لکھ لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خط پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا ہم پر حق بنتا ہے کیونکہ تم قاصد ہو، اگر ہمارے پاس کوئی انعام ہوتا تو تمہیں ضرور دیتے لیکن ابھی ہم سفر میں پراگندہ ہیں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا کہ میں اسے انعام دوں گا، چنانچہ اس نے اپنا خیمہ کھولا اور ایک صفوری حلہ لے آیا اور لا کر میری گود میں ڈال دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ انعام دینے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اسے اپنا مہمان بنائے گا؟ اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ میں بناؤں گا، پھر وہ انصاری کھڑا ہوا اور میں بھی کھڑا ہوگیا، جب میں مجلس سے نکل گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اے تنوخی بھائی! ادھر آؤ میں دوڑتا ہوا گیا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں میں پہلے بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا یہاں دیکھو، اور تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو، چنانچہ میں گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف آیا، میں نے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو پھولے ہوئے غدود کی مانند تھی۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ مَوْلًى لِآلِ مُعَاوِيَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي الْمُهَلَّبِيَّ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16813

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16814

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ إِمْلَاءً عَلَىَّ قَالَ أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ قَيْصَرَ جَارًا لِي زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَيْصَرَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى قَيْصَرَ وَكَتَبَ مَعَهُ إِلَيْهِ كِتَابًا فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ وَأَحْسَنُ اقْتِصَاصًا لِلْحَدِيثِ وَزَادَ قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ رَسُولُ قَوْمٍ وَإِنَّ لَكَ حَقًّا وَلَكِنْ جِئْتَنَا وَنَحْنُ مُرْمِلُونَ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَنَا أَكْسُوهُ حُلَّةً صَفُورِيَّةً وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَيَّ ضِيَافَتُه

سعید بن ابوراشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرقل کے ایلچی بن کر آئے تھے، وہ میرے پڑوسی تھے، انتہائی بوڑھے ہوچکے تھے اور سٹھیا جانے کی عمر تک پہنچ چکے تھے، میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہرقل کے خط اور ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے بارے کچھ بتاتے کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تشریف لائے ہوئے تھے، آپ نے حضرت دحیہ کلبی کو ہرقل کے پاس بھیجا، جب ہرقل کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط پہنچا تو اس نے رومی پادریوں اور سرداروں کو جمع کیا اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا، اور ان سے کہنے لگا کہ یہ آدمی میرے پاس آیا ہے جیسا کہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے، مجھے جو خط بھیجا گیا ہے، اس میں مجھے تین میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے، یا تو میں ان کے دین کی پیروی کر لوں یا انہیں زمین پر مال کی صورت میں ٹیکس دوں اور زمین ہمارے پاس ہی رہے، یا پھر ان سے جنگ کروں ، اللہ کی قسم! آپ لوگ جو کتابیں پڑھتے ہو، ان کی روشنی میں آپ جانتے ہو کہ وہ میرے ان قدموں کے نیچے کی جگہ بھی حاصل کر لیں گے، تو کیوں نہ ہم ان کے دین کی پیروی کرلیں یا اپنی زمین کا مال کی صورت میں ٹیکس دے دیا کریں ۔ یہ سن کر ان سب کے نرخروں سے ایک جیسی آواز نکلنے لگی، حتی کہ انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتاردیں اور کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں عیسائیت چھوڑنے کی دعوت دے رہے ہیں یا یہ کہ ہم کسی دیہاتی کے جو حجاز سے آیا ہے، غلام بن جائیں ، جب ہرقل نے دیکھا کہ اگر یہ لوگ اس کے پاس سے اسی حال میں چلے گئے تو وہ پورے روم میں اس کے خلاف فساد برپا کردیں گے تو اس نے فورا پینترا بدل کر کہا کہ میں نے تو یہ بات محض اس لئے کہی تھی کہ اپنے دین پر تمہارا جماؤ اور مضبوطی دیکھ سکوں ۔ پھر اس نے عرب تجیب کے ایک آدمی کو جو نصار عرب پر امیر مقرر تھا، بلایا اور کہا کہ میرے پاس ایسے آدمی کو بلا کر لاؤ جو حافظہ کا قوی ہو اور عربی زبان جانتاہو، تاکہ میں اسے اس شخص کی طرف اس کے خط کا جواب دے کر بھیجوں ، وہ مجھے بلا لایا، ہرقل نے اپنا خط میرے حوالے کردیا اور کہنے لگا کہ میرا یہ خط اس شخص کے پاس لے جاؤ، اگر اس کی ساری باتیں تم یاد نہ رکھ سکو تو کم از کم تین چیزیں ضرور یاد رکھ لینا، یہ دیکھنا کہ وہ میری طرف بھیجے ہوئے اپنے خط کا کوئی ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ یہ دیکھنا کہ جب وہ میرا خط پڑھتے ہیں تورات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور ان کی پشت پر دیکھنا، تمہیں کوئی عجیب چیز دکھائی دیتی ہے یا نہیں؟ میں ہرقل کا خط لے کر روانہ ہو اور تبوک پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان پانی کے قریبی علاقے میں اپنی ٹانگوں کے گرد ہاتھوں سے حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ انہوں نے مجھے اشارہ سے بتادیا، میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، انہیں خط پکڑایا جسے انہوں نے اپنی گود میں رکھ لیاور اور مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے کہا کہ میں ایک تنوخی آدمی ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں ملت حنیفیہ اسلام جو تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے میں کوئی رغبت محسوس ہوتی ہے؟ میں نے کہا میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور ایک قوم کے دین پر ہوں ، میں جب تک ان کے پاس لوٹ نہ جاؤں اس دین سے برگشتہ نہیں ہوسکتا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر یہ آیت پڑھنے لگے کہ ، جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے ، البتہ اللہ جسے چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو زیادہ جانتا ہے۔ اے تنوخی بھائی! میں نے ایک خط کسری کی طرف لکھا تھا، اس نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کردے گا، میں نے نجاشی کی طرف بھی خط لکھا تھا، اس نے اسے پھاڑ دیا، اللہ اسے اور اس کی حکومت کو توڑ پھوڑ دے گا، میں نے تمہارے بادشاہ کو بھی خط لکھا لیکن اس نے اسے محفوظ کرلیا، لہذا جب تک زندگی میں کوئی خیر رہے گی، لوگوں پر اس کا رعب ودبدبہ باقی رہے گا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ تین میں سے پہلی بات ہے جس کی مجھے بادشاہ نے وصیت کی تھی، چنانچہ میں اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اس سے اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات لکھ لی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خط اپنی بائیں جانب بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو دے دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں ، بہرحال! ہمارے بادشاہ کے خط میں لکھا ہوا تھا کہ آپ مجھے اس جنت کی دعوت دیتے ہیں جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے جو متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے، تو جہنم کہاں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں جاتی ہے؟ میں نے اپنے ترکش سے تیر نکال کر اپنی تلوار کی جلد پر یہ بات بھی لکھ لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خط پڑھ کر فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا ہم پر حق بنتا ہے کیونکہ تم قاصد ہو، اگر ہمارے پاس کوئی انعام ہوتا تو تمہیں ضرور دیتے لیکن ابھی ہم سفر میں پراگندہ ہیں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک آدمی نے پکار کر کہا کہ میں اسے انعام دوں گا، چنانچہ اس نے اپنا خیمہ کھولا اور ایک صفوری حلہ لے آیا اور لا کر میری گود میں ڈال دیا، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ انعام دینے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اسے اپنا مہمان بنائے گا؟ اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ میں بناؤں گا، پھر وہ انصاری کھڑا ہوا اور میں بھی کھڑا ہوگیا، جب میں مجلس سے نکل گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا اے تنوخی بھائی! ادھر آؤ میں دوڑتا ہوا گیا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں میں پہلے بیٹھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا یہاں دیکھو، اور تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو، چنانچہ میں گھوم کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کی طرف آیا، میں نے کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی جو پھولے ہوئے غدود کی مانند تھی۔

كتاب رسول الله إلى قيصر فقال ← كان رسول قيصر جارا لي زمن يزيد بن معاوية فقلت له ← سعيد بن أبي راشد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو عَامِرٍ حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ إِمْلَاءً عَلَىَّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16814

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16815

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عَبْسٍ قَالَ كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً قَالَ فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا يَا آلَ ذَرِيحٍ قَوْلٌ فَصِيحٌ رَجُلٌ يَصِيحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ

حضرت ابن عبس فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھروالوں کی ایک گائے چرایا کرتا تھا، ایک دن میں نے اس کے شکم سے یہ آواز سنی اے آل ذریح! ایک فصیح بات ایک شخص اعلان کر کے کہہ رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کے بعد جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کردیا ہے۔

شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عَبْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16815

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16816

قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنْزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا قَالَ ثُمَّ حَثَّ فَقَالَ عُثْمَانُ عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا قَالَ ثُمَّ نَزَلَ مَرْقَاةً مِنْ الْمِنْبَرِ ثُمَّ حَثَّ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا يُحَرِّكُهَا وَأَخْرَجَ عَبْدُ الصَّمَدِ يَدَهُ كَالْمُتَعَجِّبِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا

حضرت عبدالرحمن بن خباب سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو مالی تعاون کی ترغیب دی، حضرت عثمان غنی کہنے لگے کہ ایک سو اونٹ مع پالان اور پائتابہ کے میرے ذمے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح ترغیب دی اور ہر مرتبہ حضرت عثمان غنی ایک ایک سو اونٹ اپنے ذمے لیتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ ہلا کر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کرے، وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ← عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا ← ثُمَّ نَزَلَ مِرْقَاةً مِنَ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ حَثَّ، ← عُثْمَانُ: عَلَيَّ مِائَةٌ أُخْرَى بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا ← ثُمَّ حَثَّ، ← عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا، ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ فَحَثَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ ← عبد الرحمن بن خباب السلمى ← فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، ← الوليد بن أبي هشام ← سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16816

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16817

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَحَضَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَذَكَرَهُ

حضرت عبدالرحمن بن خباب سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو مالی تعاون کی ترغیب دی، حضرت عثمان غنی کہنے لگے کہ ایک سو اونٹ مع پالان اور پائتابہ کے میرے ذمے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسی طرح ترغیب دی اور ہر مرتبہ حضرت عثمان غنی ایک ایک سو اونٹ اپنے ذمے لیتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ ہلا کر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کرے، وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ خَطَبَ فَحَضَّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَذَكَرَهُ ← عبد الرحمن بن خباب السلمى ← أَبِي طَلْحَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ← سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16817

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16818

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْعَنَزِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى مَاءً فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ قَالَ فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ فِي جُرُبَّانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ قَالَ قُلْتُ وَأَيَّ يَدٍ كَفَتَاهُ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ

کلثوم بن حبر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ شہر واسط میں عبدالاعلی بن عامر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران وہاں موجود ایک شخص جس کا نام ابوغادیہ تھا نے پانی منگوایا، چنانچہ چاندی کے ایک برتن میں پانی لایا گیا لیکن انہوں نے وہ پانی پینے سے انکار کردیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ حدیث ذکر کی کہ میرے پیچھے کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ اچانک ایک آدمی دوسرے کو برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے لشکر میں مجھے تیرے اوپر قدرت عطاء فرمائی (تو تجھ سے حساب لوں گا) جنگ صفین کے موقع پر اتفاقا میرا اس سے آمنا سامنا ہوگیا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، لیکن میں نے زرہ کی خالی جگہوں سے اسے شناخت کرلیا، چنانچہ میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کردیا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو حضرت عمار بن یاسر تھے، تو میں نے افسوس سے کہا کہ یہ کون سے ہاتھ ہیں جو چاندی کے برتن میں پانی پینے پر ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ انہی ہاتھوں نے حضرت عمار کو شہید کردیا تھا۔

كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أبو موسى العنزي محمد بن المثنى ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16818

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16819

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي غَادِيَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ

حضرت ابوغادیہ جہنی سے مروی ہے کہ یوم عقبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو! قیامت تک تم لوگوں کی جان ومال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ لوگوں نے تائید کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، یاد رکھو! میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ← أبى غادية الجهنى ← أَبِي ← رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16819

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16820

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيَةَ الْجُهَنِيَّ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِمَاءَكُمْ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابوغادیہ جہنی سے مروی ہے کہ یوم عقبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو! قیامت تک تم لوگوں کی جان ومال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ لوگوں نے تائید کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، یاد رکھو! میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا۔

مِثْلَہُ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِمَاءَكُمْ ← بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ ← أَبَا غَادِيَةَ الْجُهَنِيَّ ← أَبِي ← رَبِیعَۃَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16821

قَالَ حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْعَاصِ بْنَ عَمْرٍو الطُّفَاوِيَّ قَالَ خَرَجَ أَبُو الْغَادِيَةِ وحَبِيبُ بْنُ الْحَارِثِ وَأُمُّ أَبِي الْعَالِيَةِ مُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِيَّاكِ وَمَا يَسُوءُ الْأُذُنَ

عاص بن عمرو طفاوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوغادیہ، حبیب بن حارث اور ام غادیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مہاجر بن کر روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر اسلام قبول کرلیا، اس موقع پر خاتون (ام غادیہ) نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمایئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی باتوں سے بچو جو کانوں کو سننا ناگوار ہوں۔

الْمَرْأَةُ أَوْصِنِي ← حَبِيبُ بْنُ الْحَارِثِ وَأُمُّ أَبِي الْعَالِيَةِ مُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَأَسْلَمُوا ← خَرَجَ أَبُو الْغَادِيَةِ ← العاص بن عمرو الطُّفَاوى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16822

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَحْلِبُ فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ

حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گذرے، وہ اس وقت دودھ دوہ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے تھنوں میں اتنا دودھ رہنے دو کہ دوبارہ حاصل کر سکو۔

ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16822

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16823

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ جَارُنَا قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ ضِرَارٌ ثُمَّ قُلْتُ تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غُبِنَتْ صَفْقَتُكَ يَا ضِرَارُ

حضرت ضرار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہاتھ بڑھائیے، میں اسلام پر آپ کی بیعت کرلوں ، پھر میں نے چند اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ یہ ہے) کہ میں پیالے، گلوکاراؤں کے گانے اور شراب کو چھوڑ آیا ہوں ، گو کہ مجھے اس کی تکلیف برداشت کرنا پڑی ہے لیکن میں نے عاجزی سے یہ کام کئے ہیں اور رات کے اندھیرے میں عمدہ جگہوں کو چھوڑ آیا ہوں اور مشرکین پر قتال کا بوجھ لاد آیا ہوں ، لہذا اے پروردگار! میری اس تجارت کو خسارے سے محفوظ فرما کہ میں اس کے عوض اپنے اہل خانہ اور مال ودولت کو بیچ آیا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ضرار! تمہاری تجارت میں خسارہ نہیں ہوگا۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقَارِئُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَاهِلِيُّ الْأَثْرَمُ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ جَارُنَا ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16823

chevron_left Previous
1…373839…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter