Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16752

حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ذی الجوشن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے، میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا ، میں نے آکر کہا کہ اے محمد! میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدر کی منتخب زرہیں دے سکتا ہوں ، میں نے کہا کہ آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن! تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ، میں نے عرض کیا کہ نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟ میں نےعرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہے، کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آ کر اسے جھکا سکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھو گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بَعْدَ ← ذِي الْجَوْشَنِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16752

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16753

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَةِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا شَيْبَةَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ وَرَجَعَ شَيْبَةُ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجِبْ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرْنًا فَغَيِّبْهُ قَالَ مَنْصُورٌ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّي عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُلْهِي الْمُصَلِّينَ

حضرت ام عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیبہ کو بلایا اور خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا، بیت اللہ میں داخل ہوئے، جب آپ فارغ ہو کر چلے گئے تو شیبہ بھی واپس چلے گئے، اس اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد شیبہ کو بلانے کے لئے دوبارہ آگیا، وہ دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے، تم اسے وہاں سے غائب کردو، اور ایک روایت میں یہ بھی اضافہ ہے کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نمازیوں کو غافل کردے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ ← أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَةِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16753

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16754

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيْ الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا

بنوسلیم کی ایک خاتون جس نے بنوشیبہ کے اکثر بچوں کی پیدائش کے وقت دائی کا کام کیا تھا، سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو قاصد کے ذریعے بلایا، یا یہ کہ خود انہوں نے عثمان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیوں بلایا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بیت اللہ میں داخل ہوا تھا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ وہاں دیکھے تھے، میں تمہیں یہ کہنا بھول گیا تھا کہ انہیں ڈھانپ دو، لہذا اب جا کر انہیں ڈھانپ دینا کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نماز کو غافل کردے، راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں سینگ خانہ کعبہ میں ہی رہے، اور جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے۔

صفية بنت شيبة أم منصور ← خَالَةِ مُسَافِعٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16754

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16755

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ لَمْ يُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کاہن (نجومی) کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہ ہوگی۔

لَمْ يُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ← «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا ← النَّبِيِّ ← بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ← صَفِيَّةَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16755

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16756

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتْ اللُّقْمَةُ فَقَالَ لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَكِ يَمِينًا أَوْ قَالَ قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكِ يَمِينَكِ قَالَ فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ

ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہی تھی، میں ایک تنگدست عورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا جس سے لقمہ گر گیا اور فرمایا جب اللہ نے تمہارا داہنا ہاتھ بنایا تو بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ، چنانچہ میں نے دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا، اور اس کے بعد کبھی بھی بائیں ہاتھ سے نہیں کھایا۔

فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ ← قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكِ يَمِينَكِ ← لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَكِ يَمِينًا أَوْ ← آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتْ اللُّقْمَةُ ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← امْرَأَةٍ مِنْهُمْ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16756

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16757

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مَوْلًى لَهُمْ يُقَالُ لَهُ مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ خُزَاعَةَ يُقَالُ لَهُ مُخَرِّشٌ أَوْ مُحَرِّشٌ لَمْ يَكُنْ سُفْيَانُ يُقِيمُ عَلَى اسْمِهِ وَرُبَّمَا قَالَ مُحَرِّسٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ لَيْلَةً فَاعْتَمَرَ ثُمَّ رَجَعَ وَأَصْبَحَ بِهَا كَبَائِتٍ فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍ

بنوخزاعہ کے ایک صحابی حضرت محرش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات کے وقت (عمرہ کی نیت سے) نکلے (رات ہی کو مکہ مکرمہ پہنچے) عمرہ کیا (اور رات ہی کو وہاں سے نکلے) او رجعرانہ لوٹ آئے، صبح ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات یہیں گذاری ہے، میں نے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کو دیکھا، وہ چاندی میں ڈھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أُسَيْدٍ ← مَوْلًى لَهُمْ يُقَالُ لَهُ مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16757

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16758

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ فَنَضَحَ فَرْجَهُ

بنوثقیف کے ایک آدمی کی اپنے والد سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مار لیے۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16758

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16759

قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ

ابوجبیرہ اپنے چچاؤں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو'۔

فَكَانَ إِذَا دَعَا بِلَقَبِهِ قُلْنَا ← عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ ← أبي جبيرة بن الضحاك الأنصاري. ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16759

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16760

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ شَيْخٌ صَالِحٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ مَدِينِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

معاذ بن عبداللہ اپنی سند سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ فَذَكَرَهُ ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← مُعَاذِ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ خُبَيْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ شَيْخٌ صَالِحٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ مَدِينِيٌّ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16760

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16761

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ مُحْتَبٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ لَهُ قِطْرٌ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ غَيْرَهُ وَهُوَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ يَقُولُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا

بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متلعق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتاہے، وہ اس پر ظلم کرتاہے اور نہ اسے بے یار ومددگار چھوڑتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ ← الْحَسَنِ، ← عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16761

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16762

قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَرَسٌ يَرْبِطُهُ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَثَمَنُهُ أَجْرٌ وَرُكُوبُهُ أَجْرٌ وَعَارِيَتُهُ أَجْرٌ وَعَلَفُهُ أَجْرٌ وَفَرَسٌ يُغَالِقُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَيُرَاهِنُ فَثَمَنُهُ وِزْرٌ وَعَلَفُهُ وِزْرٌ وَفَرَسٌ لِلْبِطْنَةِ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ سَدَادًا مِنْ الْفَقْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں (١) وہ گھوڑے جنہیں انسان کے راستہ میں جہاد کے لئے تیار کرے، اس کی قیمت بھی باعث اجر، اس کی سواری بھی باعث اجر، اسے عاریت پر دینا بھی باعث اجر اور اس کا چارہ بھی باعث اجر ہے۔ (٢) وہ گھوڑے جو انسان کو تکبر کے خول میں جکڑ دیں اور وہ شرط پر انہیں دوڑ میں شریک کرے، اس کی قیمت بھی باعث وبال اور اس کا چارہ بھی باعث وبال ہے۔ (٣) وہ گھوڑے جو انسان کے پیٹ کے کام آئیں ، عنقریب یہ گھوڑے اس کے فقروفاقہ کو دور کرنے کا سبب بن جائیں گے، انشاء اللہ۔

النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16762

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16763

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حُصَيْنِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَلَوْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا

یحیی بن حصین اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم پر کسی غلام کو بھی امیر مقرر کردیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق لے کر چلتا رہے تو تم اس کی بات بھی سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

وَلَوْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ← رَسُولِ اللَّهِ ← حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، ← يَحْيَى بْنُ حُصَيْنِ بْنِ عُرْوَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16763

chevron_left Previous
1…323334…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter