مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16752
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت ذی الجوشن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے، میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا ، میں نے آکر کہا کہ اے محمد! میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدر کی منتخب زرہیں دے سکتا ہوں ، میں نے کہا کہ آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن! تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ، میں نے عرض کیا کہ نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟ میں نےعرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہے، کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آ کر اسے جھکا سکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھو گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی
أَتَيْتُ النَّبِيَّ بَعْدَ ← ذِي الْجَوْشَنِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،
Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16752
