Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16740

قَالَ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى جُعِلْتَ نَبِيًّا قَالَ وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو کب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنایا گیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت جب کہ حضرت آدم ابھی روح اور جسم ہی کے درمیان تھے۔

قُلْتُ ← رَجُلٌ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← حَمَّادٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16740

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16741

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ شَيْخًا مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي سَبْيٍ أُصِيبَ لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَعَلَيْهِ حَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بِهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ عَلَيْهِ إِزَارُ قِطْرٍ لَهُ غَلِيظٌ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا يَقُولُ أَيْ فِي الْقَلْبِ

بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متلعق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتاہے، وہ اس پر ظلم کرتاہے اور نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔

الْحَسَنِ، ← المبارك ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16741

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16742

قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَعْرَابِيٌّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا قُلْتُ مَا لَهُمْ قَالَ أَشِحَّةٌ بَجَرَةٌ وَإِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ إِلَى هَذَا مَرَّةً وَإِلَى هَذَا مَرَّةً

ایک دیہاتی صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا مطلب؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔

مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا قُلْتُ مَا لَهُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَعْرَابِيٌّ أَنَّهُ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← بِلَالِ بْنِ يَحْيَی ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الحَفَرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16742

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16743

حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ أَوْ عَمِيرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي زَوْجُ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ فَقَالَ هَلْ مِنْ لَهْوٍ

بنت ابولہب کے شوہر کہتے ہیں کہ جب میں نے ابولہب کی بیٹی سے نکاح کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تفریح کا کوئی سامان ہے؟

هَلْ مِنْ لَهْوٍ ← دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ حِينَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي لَهَبٍ ← زَوْجُ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَوْ عَمِيرَةَ، ← مَعْبَدِ بْنِ قَيْسٍ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← الزُّبَيْرِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16743

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16744

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ وَالْعَيْنُ حَقٌّ وَأَصْدَقُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ

حیہ تیمی کے والد کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا مردے کی کھوپڑی میں کسی چیز کے ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ، نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے۔

لا شيء في الهام والعين حق وأصدق الطير الفأل ← النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← عَلِيٍّ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16744

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16745

قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ قَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر دوبارہ وضو کرو، دو مرتبہ یہ حکم دیا اور وہ ہر مرتبہ وضو کر کے آگیا، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ پہلے آپ نے اسے وضو کا حکم دیا پھر خاموش ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا۔

فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ مَا لَكَ ← فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ ← بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ ← بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← أَبَانُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16745

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16746

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ذِي الْغُرَّةِ قَالَ عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنَا الصَّلَاةُ وَنَحْنُ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ أَفَنُصَلِّي فِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا قَالَ لَا

حضرت ذی الغرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چہل قدمی فرما رہے تھے، اس نے پوچھا یا رسول اللہ! بعض اوقات ابھی ہم لوگ اونٹوں کے باڑے میں ہوتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو کیا ہم وہیں پر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کیا بکری کا گوشت کھانے کے بعد ہم نیا وضو کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔

عَرَضَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ يَسِيرُ فَقَالَ ← ذِي الْغُرَّةِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16746

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16747

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ لَا بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَفِيمَ نَعْمَلُ إِذًا قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

حضرت ذی اللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم ابتداء کوئی عمل کرتے ہیں یا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، پہلے سے لکھا جاچکا ہوتا ہے، عرض کیا پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کے لئے وہی اعمال آسان ہوں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو عُبَيْدَةَ يَعْنِي الْحَدَّادَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16747

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16748

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ فَقَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ

حضرت ذی اللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم ابتداء کوئی عمل کرتے ہیں یا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، پہلے سے لکھا جاچکا ہوتا ہے، عرض کیا پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کے لئے وہی اعمال آسان ہوں گے جن کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔

قُلْتُ ← ذي اللحية الكلابى. ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ ← سهل بن أسلم العدوي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16748

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16749

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ ذِي الْأَصَابِعِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ ابْتُلِينَا بَعْدَكَ بِالْبَقَاءِ أَيْنَ تَأْمُرُنَا قَالَ عَلَيْكَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَنْشَأَ لَكَ ذُرِّيَّةٌ يَغْدُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَسْجِدِ وَيَرُوحُونَ

حضرت ذی الاصابع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ کے بعد ہمیں مزید زندگی کے ذریعے آزمایا گیا تو آپ ہمیں کہاں رہنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس کو اپنے اوپر لازم کر لینا، ہوسکتا ہے کہ تمہارے یہاں کوئی نسل ایسی پیدا ہو جو صبح وشام اس مسجد میں آنا جانا رکھے۔

قُلْتُ ← ذِي الْأَصَابِعِ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16749

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16750

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ أَبِي أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ الضِّبَابِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا الْقَرْحَاءُ فَقُلْتُ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ أَقِيضَكَ فِيهَا الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ فَقُلْتُ مَا كُنْتُ لِأَقِيضَهُ الْيَوْمَ بِعُدَّةٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ثُمَّ قَالَ يَا ذَا الْجَوْشَنِ أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ أَهْلِ هَذَا الْأَمْرِ فَقُلْتُ لَا قَالَ لِمَ قُلْتُ إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَكَ وَلِعُوا بِكَ قَالَ فَكَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ قُلْتُ قَدْ بَلَغَنِي قَالَ فَإِنَّا نُهْدِي لَكَ قُلْتُ إِنْ تَغْلِبْ عَلَى الْكَعْبَةِ وَتَقْطُنْهَا قَالَ لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ تَرَى ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ يَا بِلَالُ خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْهُ مِنْ الْعَجْوَةِ فَلَمَّا أَدْبَرْتُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ فُرْسَانِ بَنِي عَامِرٍ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ النَّاسُ قَالَ وَاللَّهِ قَدْ غَلَبَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْكَعْبَةِ وَقَطَنَهَا فَقُلْتُ هَبِلَتْنِي أُمِّي وَلَوْ أُسْلِمُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا

حضرت ذی الجوشن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے، میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا ، میں نے آکر کہا کہ اے محمد! میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدر کی منتخب زرہیں دے سکتا ہوں ، میں نے کہا کہ آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن! تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ، میں نے عرض کیا کہ نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہے، کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آ کر اسے جھکا سکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھو گے۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بلال! ان کا تھیلا لے کر عجوہ کھجور سے بھردو تاکہ زارد راہ رہے، جب میں پشت پھیر کر واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بنو عامر کے شہسواروں میں سب سے بہتر ہے، میں ابھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غور میں ہی تھا کہ ایک سوار آیا، میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے کہا مکہ مکرمہ سے، میں نے پوچھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں ؟ اس نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر غالب آگئے ہیں ، میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر میں اسی دن مسلمان ہوجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیرہ نامی شہر بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی مجھے دے دیتے۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بَعْدَ ← ذي الجوشن الضبابي ← أَبِيهِ ← أَبِي ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16750

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16751

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُو الْجَوْشَنِ وَأَهْدَى لَهُ فَرَسًا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهُ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتَ بِعْتَنِيهِ أَوْ هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِيهِ بِالْمُتَخَيَّرَةِ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ أَنْ تَكُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ لَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ فَانْظُرْ مَا تَصْنَعُ فَإِنْ ظَهَرْتَ عَلَيْهِمْ آمَنْتُ بِكَ وَاتَّبَعْتُكَ وَإِنْ ظَهَرُوا عَلَيْكَ لَمْ أَتَّبِعْكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْجَوْشَنِ لَعَلَّكَ إِنْ بَقِيتَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوًا مِنْهُ

حضرت ذی الجوشن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے، میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا ، میں نے آکر کہا کہ اے محمد! میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدر کی منتخب زرہیں دے سکتا ہوں ، میں نے کہا کہ آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا اے ذی الجوشن! تم مسلمان کیوں نہیں ہوجاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہوجاؤ، میں نے عرض کیا کہ نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟ میں نےعرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہے، کیا آپ مکہ مکرمہ پر غالب آ کر اسے جھکا سکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھو گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی

قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ ذُو الْجَوْشَنِ وَأَهْدَى لَهُ فَرَسًا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16751

chevron_left Previous
1…313233…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter