Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16716

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ قَالَ رَمَقَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ! میرے گناہ کو معاف فرما، میرے گھر میں کشادگی عطا فرما، اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔

رَمَقَ رَجُلٌ النَّبِيَّ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ ← رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ ← عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16716

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16717

قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا

ابو عمران رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیجیے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں ، جندب نے کہا مت جاؤ، میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ، میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں ، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تونے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔

قُلْتُ لِجُنْدُبٍ: إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلاءِ, يَعْنِي: ابْنَ الزُّبَيْرِ, وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16717

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16718

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزہ رکھتے رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید میں پہنچ کر پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَبُو نُوحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16719

قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوًّا لَكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو، لیکن خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا، اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر روزہ افطار کر لیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُمَيٍّ ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16719

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16720

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ

بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے لوگو! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلو تم کامیاب ہوجاؤ گے، اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے، یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات وعزی کو چھوڑ دو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے، ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں ، درمیانہ قد تھا، جسم گوشت سے بھرپور تھا، چہرہ نہایت حسین وجمیل تھا، بال انتہائی کالے سیاہ تھے، انتہائی اجلی سفید رنگت تھی، اور گھنے بال تھے۔

قلنا انعت لنا رسول الله ← وما يلتفت إليه رسول الله ← دينكم فإنما يريد لتتركوا آلهتكم وتتركوا اللات والعزى ← يا أيها الناس لا يغرنكم هذا ← وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا ← شيخ من بني مالك بن كنانة ← أَشْعَثَ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16720

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16721

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ أَصْحَابِي وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ صَاحِبُنَا وَهُوَ صَالِحٌ

اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جو حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا حضرت عثمان غنی اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک خلیفہ نہیں بن جاتے، ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی؟ تو وہ جواب دیتا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آج رت میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے تین صحابہ کا وزن کیا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا جھک گیا، پھر حضرت عمر کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا، پھر حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو ہمارے ساتھی کا وزن کم رہا اور وہ نیک آدمی ہے۔

كان ← رجل من قومه ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أَشْعَثَ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16721

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16722

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ قَالَ وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ

ایک شیخ سے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا، پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔

النَّبِيُّ بِهَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ← وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ← أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ ← خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ← شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ ← مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16722

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16723

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ فُلَانِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ

فلاں بن جاریہ انصاری سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے، لہذا اس کی نماز جنازہ پڑھو۔

فُلَانِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أبي وأبو بكر بن أبي شيبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16723

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16724

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ ابْنَةِ كَرْدَمَةَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي فَقَالَ إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا أَفَأَمْشِي عَنْهَا قَالَ نَعَمْ

حضرت کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا جو تین اونٹ ذبح کرنے کے حوالے سے انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت اگر کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی تو پھر نہیں ، اور اگر اللہ کے لئے مانی تو اسے پورا کرو، پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس بچی کی ماں پر پیدل چلنا واجب ہے، کیا میں اس کی طرف سے چل سکتاہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !

إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي ← أَبِيهَا، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنَةِ كَرْدَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16724

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16725

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نِمْرَانَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا شَوَّالًا فَسَأَلْتُهُ قَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ فَقَالَ قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ فَأُقْعِدَ

یزید بن نمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ایک اپاہج آدمی سے ہوئی میں نے اس کی وجہ اس سے پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گذر گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ہماری نماز توڑ دی، اللہ اس کے پاؤں توڑ دے، اس وقت سے میں اپاہج ہو گیا۔

قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ فَأُقْعِدَ ← مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ ← لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا شَوَّالًا فَسَأَلْتُهُ ← يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ← مولى ليزيد بن نمران ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16725

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16726

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ شَهْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ قَالَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا، میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہوجائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کرلینا، پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا، اور اس میں سے نہ تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔

الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ ← شَهْرٍ ← لَيْثٌ، ← أبو معاوية يعني شيبان ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16726

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16727

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنْ الْجَنَّةِ حَتَّى يَكُونَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ

بنت ابوحکم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض اوقات انسان جنت کے اتنا قریب پہنچ جاتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن پھر وہ کوئی ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنت سے اتنا دور چلا جاتا ہے مثلا مکہ مکرمہ کا صنعاء سے بھی زیادہ دور کا فاصلہ ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16727

chevron_left Previous
1…293031…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter