Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16692

قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيهِ وَضُوءَهُ فَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنْ اللَّيْلِ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَالْهَوِيِّ مِنْ اللَّيْلِ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارکہ میں سویا کرتا تھا تاکہ وضو کا پانی پیش کر سکوں ، میں سنتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز کے لئے بیدار ہوتے تو کافی دیر تک الحمد للہ رب العالمین کہتے رہتے، پھر کافی دیر تک سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہتے رہتے۔

رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16692

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16693

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَخَدَمْتُهُ مَا خَدَمْتُهُ ثُمَّ قَالَ لِي الثَّانِيَةَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ فَقُلْتُ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُصْلِحُنِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ أَعْلَمُ مِنِّي وَاللَّهِ لَئِنْ قَالَ تَزَوَّجْ لَأَقُولَنَّ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ فَقُلْتُ بَلَى مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ حَيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَ فِيهِمْ تَرَاخٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَذَهَبْتُ فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلَانَةَ فَقَالُوا مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِحَاجَتِهِ فَزَوَّجُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي الْبَيِّنَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ لِي مَا لَكَ يَا رَبِيعَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا فَزَوَّجُونِي وَأَكْرَمُونِي وَأَلْطَفُونِي وَمَا سَأَلُونِي بَيِّنَةً وَلَيْسَ عِنْدِي صَدَاقٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ هَذَا صَدَاقُهَا فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ هَذَا صَدَاقُهَا فَرَضُوهُ وَقَبِلُوهُ وَقَالُوا كَثِيرٌ طَيِّبٌ قَالَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِينًا فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ حَزِينٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَكْرَمَ مِنْهُمْ رَضُوا بِمَا آتَيْتُهُمْ وَأَحْسَنُوا وَقَالُوا كَثِيرًا طَيِّبًا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أُولِمُ قَالَ يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ شَاةً قَالَ فَجَمَعُوا لِي كَبْشًا عَظِيمًا سَمِينًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْ لَهَا فَلْتَبْعَثْ بِالْمِكْتَلِ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَقُلْتُ لَهَا مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَذَا الْمِكْتَلُ فِيهِ تِسْعُ آصُعِ شَعِيرٍ لَا وَاللَّهِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَيْرُهُ خُذْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا فَذَهَبْتُ إِلَيْهِمْ وَذَهَبْتُ بِالْكَبْشِ وَمَعِي أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ لِيُصْبِحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا وَهَذَا طَبِيخًا فَقَالُوا أَمَّا الْخُبْزُ فَسَنَكْفِيكُمُوهُ وَأَمَّا الْكَبْشُ فَاكْفُونَا أَنْتُمْ فَأَخَذْنَا الْكَبْشَ أَنَا وَأُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحْنَاهُ وَسَلَخْنَاهُ وَطَبَخْنَاهُ فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَوْلَمْتُ وَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أَرْضًا وَأَعْطَانِي أَبُو بَكْرٍ أَرْضًا وَجَاءَتْ الدُّنْيَا فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ فَقُلْتُ أَنَا هِيَ فِي حَدِّي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هِيَ فِي حَدِّي فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ كَلَامٌ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهَهَا وَنَدِمَ فَقَالَ لِي يَا رَبِيعَةُ رُدَّ عَلَيَّ مِثْلَهَا حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا قَالَ قُلْتُ لَا أَفْعَلُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لَتَقُولَنَّ أَوْ لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ قَالَ وَرَفَضَ الْأَرْضَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَقَالُوا لِي رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فِي أَيِّ شَيْءٍ يَسْتَعْدِي عَلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَالَ لَكَ مَا قَالَ فَقُلْتُ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ هَذَا ثَانِيَ اثْنَيْنِ وَهَذَا ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ إِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتُ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ فَيَغْضَبَ فَيَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ فَيَغْضَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِهِمَا فَيُهْلِكَ رَبِيعَةَ قَالُوا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ارْجِعُوا قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبِعْتُهُ وَحْدِي حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ كَمَا كَانَ فَرَفَعَ إِلَيَّ رَأْسَهُ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ كَذَا كَانَ كَذَا قَالَ لِي كَلِمَةً كَرِهَهَا فَقَالَ لِي قُلْ كَمَا قُلْتُ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا فَأَبَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ وَلَكِنْ قُلْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ الْحَسَنُ فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَبْكِي

حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! واللہ میں تو شادی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایک تو میرے پاس اتنا نہیں ہے کہ عورت کی ضروریات پوری ہوسکیں اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی چیز مجھے آپ سے دور کردے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر مجھ سے اعراض فرما لیا اور میں آپ کی خدمت کرتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ مجھ سے یہی فرمایا کہ ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ میں نے حسب سابق وہی جواب دے دیا لیکن پھر میں اپنے دل میں سوچنے لگا کہ مجھ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں میرے لئے کیا چیز بہتر ہے، اس لئے اب اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا تو میں کہہ دوں گا ٹھیک ہے یا رسول اللہ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔ چنانچہ جب تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ربیعہ تم شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ تو میں نے عرض کیا کیوں نہیں ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک قبیلے کا نام لے کر جن کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا، فرمایا ان کے پاس چلے جاؤ اور جا کر کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ لوگوں کے پاس بھیجا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگ فلاں عورت کے ساتھ میرا نکاح کردیں ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام سنا دیا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد اپنا کام مکمل کئے بغیر نہیں جائے گا، چنانچہ انہوں نے اس عورت کے ساتھ میرا نکاح کردیا اور میرے ساتھ خوب مہربانی کے ساتھ پیش آئے اور مجھ سے گواہوں کا بھی مطالبہ نہ کیا، وہاں سے لوٹ کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غمگین ہو کر حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ربیعہ! تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایک شریف قوم کے پاس پہنچا، انہوں نے میرا نکاح کرادیا میرا اکرام کیا اور مہربانی سے پیش آئے اور مجھ سے گواہوں کا بھی مطالبہ نہیں کیا (ایسے شریف لوگوں کی عورت کو دینے کے لئے) میرے پاس مہر بھی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ سے فرمایا اے بریدہ اسلمی! اس کے لئے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا جمع کرو، انہوں نے اسے جمع کیا اور میں وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سونا ان لوگوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ یہ اس لڑکی کا مہر ہے، چنانچہ میں نے ان کے پاس پہنچ کر یہی کہہ دیا کہ یہ اس کا مہر ہے ، انہوں نے رضامندی سے اسے قبول کر لیا اور کہنے لگے کہ بہت ہے، اور پاکیزہ (حلال) ہے۔ تھوڑی دیر بعد میں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غمگین ہو کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ربیعہ! اب کیوں غمگین ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے ان لوگوں سے زیادہ شریف لوگ کہیں نہیں دیکھے، میں نے انہیں جو دے دیا، وہ اسی پر راضی ہوگئے اور تحسین کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بہت ہے اور پاکیزہ (حلال) ہے، ایسے لوگوں کو دعوت ولیمہ کھلانے کے لئے میرے پاس کچھ نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت بریدہ سے فرمایا کہ اس کے لئے ایک بکری لاؤ، چنانچہ وہ ایک نہایت صحت مند اور بہت بڑا مینڈھا لے کر آئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ عائشہ کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ وہ تھیلی دے دیں جس میں غلہ رکھا ہوا ہے، چنانچہ میں نے ان کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا دیا، انہوں نے فرمایا کہ یہ تھیلی ہے، اس میں نو صاع جَو ہے، اور بخدا! اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، یہی لے جاؤ، چنانچہ میں وہ تھیلی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور حضرت عائشہ کا پیغام پہنچا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں چیزیں ان لوگوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ اس کی روٹیاں بنا لیں ، چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا اور وہ مینڈھا بھی ساتھ لے گیا، میرے ساتھ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ تھے وہاں پہنچ کر ان لوگوں سے کہا کہ اس آٹے کی روٹیاں پکالیں اور اس مینڈھے کا گوشت پکا لیں ، وہ کہنے لگے کہ روٹیوں کےمعاملے میں ہم آپ کی کفایت کریں گے اور مینڈھے کے معاملے میں آپ ہماری کفایت کرو، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے مل کر مینڈھے کو پکڑا، اسے ذبح کیا، اس کی کھال اتاری اور اسے پکانے لگے، اس طرح روٹی اور گوشت تیار ہوگیا، اور میں نے اپنا ولیمہ کر دیا اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ کچھ عرصے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زمین کا ایک ٹکڑا مرحمت فرمادیا، اور اس کے ساتھ ہی حضرت صدیق اکبر کو بھی ایک ٹکڑا دے دیا، جب دنیا آئی تو ایک مرتبہ ہم دونوں کے درمیان کھجور کے ایک درخت کے متعلق اختلاف رائے ہو گیا میں کہتا تھا کہ یہ درخت میری حدود میں ہے اور حضرت صدیق اکبر کا کہنا تھا کہ یہ میری حدود میں ہے میرے اور ان کے درمیان اس بات پر تکرار ہونے لگی تو حضرت ابوبکر نے مجھے ایک ایسا لفظ کہہ دیا جس پر بعد میں وہ خود پشیمان ہونے لگے اور فرمانے لگے ربیعہ! تم بھی مجھے اسی طرح کا لفظ کہہ دو تاکہ معاملہ برابر ہوجائے، میں نے کہا کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا، حضرت صدیق اکبر نے فرمایا یا تم یہ لفظ کہہ دو، ورنہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارے خلاف استغاثہ کروں گا، میں نے پھر کہا کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا۔ اس پر حضرت صدیق اکبر زمین چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ ہو گئے، میں بھی ان کے پیچھے روانہ ہونے لگا تو قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے، وہ کس بناء پر تمہارے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے استغاثہ کر رہے ہیں جبکہ خود ہی انہوں نے ایسی بات کہی ہے؟ میں نے انہیں جواب دیا کہ تم جانتے ہو یہ کون ہیں ؟ یہ ابوبکر صدیق ہیں ، یہ ثانی اثنین ہیں ، یہ ذو شیبۃ المسلمین ہیں ، تم لوگ واپس چلے جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں دیکھ لیں کہ تم میری مدد کے لئے آئے ہو اور وہ غضب ناک ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں ، انہیں غصے میں دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آجائے گا اور ان کے غصے کی وجہ سے اللہ کو غصہ آجائے گا اور ربیعہ ہلاک ہوجائے گا، انہوں نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ، پھر میں اکیلا ہی حضرت صدیق اکبر کے پیچھے روانہ ہوگیا، حضرت صدیق اکبر نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بعینہ بتا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا ربیعہ! صدیق کے ساتھ تمہارا کیا جھگڑا ہے؟ میں عرض کیا یا رسول اللہ! ایسی ایسی بات ہوئی تھی اور انہوں نے ایک ایسا لفظ کہہ دیا تھا جس پر بعد میں خود انہیں ناپسندیدگی ہوئی، اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم بھی میری طرح یہ جملہ مجھے کہہ دو تاکہ معاملہ برابر ہوجائے، لیکن میں نے انکار کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، تم وہی جملہ نہ دہراؤ، یہ کہہ دو کہ اے ابوبکر! اللہ آپ کو معاف فرمائے، چنانچہ میں نے یہی الفاظ کہہ دیئے اور حضرت صدیق اکبر روتے ہوئے واپس چلے گئے۔

قُلْتُ وَاللَّهِ ← كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَزَوَّجُ ← رَبِيعَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← الْمُبَارَكُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16693

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16694

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْنِي أُعْطِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْظِرْنِي أَنْظُرْ فِي أَمْرِي قَالَ فَانْظُرْ فِي أَمْرِكَ قَالَ فَنَظَرْتُ فَقُلْتُ إِنَّ أَمْرَ الدُّنْيَا يَنْقَطِعُ فَلَا أَرَى شَيْئًا خَيْرًا مِنْ شَيْءٍ آخُذُهُ لِنَفْسِي لِآخِرَتِي فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَاجَتُكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْفَعْ لِي إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيُعْتِقْنِي مِنْ النَّارِ فَقَالَ مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ وَلَكِنِّي نَظَرْتُ فِي أَمْرِي فَرَأَيْتُ أَنَّ الدُّنْيَا زَائِلَةٌ مِنْ أَهْلِهَا فَأَحْبَبْتُ أَنْ آخُذَ لِآخِرَتِي قَالَ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ

حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مانگو، میں تمہیں عطاء کروں گا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کچھ سوچنے کی مہلت دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سوچ بچار کر لو، میں نے سوچا کہ دنیا کی زندگی تو گذر ہی جائے گی، لہذا آخرت سے بہتر مجھے اپنے لئے کوئی چیز محسوس نہ ہوئی، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہاری کیا ضرورت ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اپنے پروردگار سے سفارش کر دیجئے کہ وہ مجھے جہنم سے آزادی کا پروانہ عطاء کردے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں یہ بات کس نے بتائی؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! مجھے یہ بات کسی نے نہیں سمجھائی، بلکہ میں نے خود ہی اپنے معاملے میں غور و فکر کیا کہ دنیا تو دنیا والوں سے بھی چھن جاتی ہے لہذا میں نے سوچا کہ آخرت کے لئے درخواست پیش کر دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سجدوں کی کثرت کے ساتھ میری مدد کرو۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ سَلْنِي أُعْطِكَ قُلْتُ ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ ← نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16694

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16695

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقُومُ لَهُ فِي حَوَائِجِهِ نَهَارِي أَجْمَعَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَأَجْلِسَ بِبَابِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ أَقُولُ لَعَلَّهَا أَنْ تَحْدُثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ فَمَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ حَتَّى أَمَلَّ فَأَرْجِعَ أَوْ تَغْلِبَنِي عَيْنِي فَأَرْقُدَ قَالَ فَقَالَ لِي يَوْمًا لِمَا يَرَى مِنْ خِفَّتِي لَهُ وَخِدْمَتِي إِيَّاهُ سَلْنِي يَا رَبِيعَةُ أُعْطِكَ قَالَ فَقُلْتُ أَنْظُرُ فِي أَمْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ أُعْلِمُكَ ذَلِكَ قَالَ فَفَكَّرْتُ فِي نَفْسِي فَعَرَفْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ زَائِلَةٌ وَأَنَّ لِي فِيهَا رِزْقًا سَيَكْفِينِي وَيَأْتِينِي قَالَ فَقُلْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآخِرَتِي فَإِنَّهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي هُوَ بِهِ قَالَ فَجِئْتُ فَقَالَ مَا فَعَلْتَ يَا رَبِيعَةُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَشْفَعَ لِي إِلَى رَبِّكَ فَيُعْتِقَنِي مِنْ النَّارِ قَالَ فَقَالَ مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا يَا رَبِيعَةُ قَالَ فَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ الَّذِي بَعَثَكِ بِالْحَقِّ مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ وَلَكِنَّكَ لَمَّا قُلْتَ سَلْنِي أُعْطِكَ وَكُنْتَ مِنْ اللَّهِ بِالْمَنْزِلِ الَّذِي أَنْتَ بِهِ نَظَرْتُ فِي أَمْرِي وَعَرَفْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ وَزَائِلَةٌ وَأَنَّ لِي فِيهَا رِزْقًا سَيَأْتِينِي فَقُلْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآخِرَتِي قَالَ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ لِي إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ

حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، اور سارا دن ان کے کام کاج میں لگا رہتا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء پڑھ لیتے اور اپنے گھر میں چلے جاتے تو میں ان کے دروازے پر بیٹھ جاتا اور یہ سوچتا کہ ہو سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام پڑ جائے، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلسل سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہوئے سنتا، حتی کہ تھک کر واپس آجاتا یا نیند سے مغلوب ہو کر سو جاتا، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری خدمت اور اپنے آپ کو ہلکان کرنے کو دیکھ کر مجھ سے فرمایا مانگو، میں تمہیں عطاء کروں گا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کچھ سوچنے کی مہلت دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سوچ بچار کر لو، میں نے سوچا کہ دنیا کی زندگی تو گذر ہی جائے گی، لہذا آخرت سے بہتر مجھے اپنے لئے کوئی چیز محسوس نہ ہوئی، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہاری کیا ضرورت ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اپنے پروردگار سے سفارش کر دیجئے کہ وہ مجھے جہنم سے آزادی کا پروانہ عطاء کردے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں یہ بات کس نے بتائی؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! مجھے یہ بات کسی نے نہیں سمجھائی، بلکہ میں نے خود ہی اپنے معاملے میں غور و فکر کیا کہ دنیا تو دنیا والوں سے بھی چھن جاتی ہے لہذا میں نے سوچا کہ آخرت کے لئے درخواست پیش کر دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر سجدوں کی کثرت کے ساتھ میری مدد کرو۔

رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ ← نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16695

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16696

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ ثُمَّ قَالُوا تَأْتِي عَلَيْهِمْ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِهَذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمْ الصَّلَاةَ قَالَ فَحَضَرَتْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السِّلَاحَ قَالَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ

حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے کہ مشرکین سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے، ان کے سردار خالد بن ولید تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی دوران ہمیں ظہر کی نماز پڑھانے لگے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ لوگ جس حال میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کرسکتے تھے، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ابھی ایک اور نماز کا وقت آنے والا ہے جو انہیں ان کی اولاد اور خود اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اس موقع پر ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے میں حضرت جبرائیل یہ آیات لے کر نازل ہوئے واذا کنت فیہم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ جب نماز عصر کا وقت آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا اور انہوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لئے پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا، آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھا لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف والوں کو ساتھ ملا کر سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر نگہبانی کرتے رہے، جب وہ سجدہ کر چکے اور کھڑے ہوگئے تو پیچھے والوں نے بیٹھ کر سجدہ کرلیا، پھر دونوں صفوں نے اپنی اپنی جگہ تبدیل کر لی اور ایک دوسرے کی جگہ پر آگئے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح سب نے اکٹھے رکوع کیا اور سر اٹھایا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے والی صف کے ساتھ سجدہ کیا اور پیچھے والے کھڑے ہو کر نگہبانی کرتے رہے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بھی بیٹھ کر سجدہ کر لیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور نماز سے فارغ ہوگئے اس طرح کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ پڑھائی تھی، ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنوسلیم کے کسی علاقے میں ۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16697

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ يُحَدِّثُ بِهِ وَلَكِنِّي حَفِظْتُهُ مِنْ الْكِتَابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَصَافِّ الْعَدُوِّ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ خَلْفَهُ قَالَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ لِرُكُوعِهِمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي مَقَامِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنْ الرُّكُوعِ سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ

حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے کہ مشرکین سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے، ان کے سردار خالد بن ولید تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی دوران ہمیں ظہر کی نماز پڑھانے لگے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ لوگ جس حال میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کرسکتے تھے، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ابھی ایک اور نماز کا وقت آنے والا ہے جو انہیں ان کی اولاد اور خود اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اس موقع پر ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے میں حضرت جبرائیل یہ آیات لے کر نازل ہوئے واذا کنت فیہم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چنانچہ جب نماز عصر کا وقت آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا اور انہوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لئے پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا، آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھا لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی صف والوں کو ساتھ ملا کر سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر نگہبانی کرتے رہے، جب وہ سجدہ کر چکے اور کھڑے ہوگئے تو پیچھے والوں نے بیٹھ کر سجدہ کرلیا، پھر دونوں صفوں نے اپنی اپنی جگہ تبدیل کر لی اور ایک دوسرے کی جگہ پر آگئے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح سب نے اکٹھے رکوع کیا اور سر اٹھایا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے والی صف کے ساتھ سجدہ کیا اور پیچھے والے کھڑے ہو کر نگہبانی کرتے رہے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بھی بیٹھ کر سجدہ کر لیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور نماز سے فارغ ہوگئے اس طرح کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ پڑھائی تھی، ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنوسلیم کے کسی علاقے میں ۔

بِهِ وَلَكِنِّي حَفِظْتُهُ مِنْ الْكِتَابِ ← بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدًا، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16697

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16698

قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ وَمَرَّةً بِعُسْفَانَ

حضرت ابوعیاش زرقی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی، اس وقت مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھے، اس طرح کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ پڑھائی تھی ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنو سلیم کے کسی علاقے میں۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16698

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16699

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ أَصْبَحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَانَ لَهُ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَكُتِبَ لَهُ بِهَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنْ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِذَا أَمْسَى مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا قَالَ صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ

حضرت ابوعیاش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہہ لے (جن کا ترجمہ یہ ہے) اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، تو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا، اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا، اور شام کے وقت کہے تو صبح تک محفوظ رہے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ! ابوعیاش آپ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوعیاش نے سچ کہا ہے۔

أَبِي عَيَّاشٍ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16699

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16700

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ فَلَمَّا قَدِمَ مِنْ جِعِرَّانَةَ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ قَالَ لَا قَالَ أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ قَالَ لَا قَالَ أَفَأُوصِي بِشَطْرِهِ قَالَ لَا قَالَ أَفَأُوصِي بِثُلُثِهِ قَالَ نَعَمْ وَذَاكَ كَثِيرٌ قَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَمُوتُ بِالدَّارِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا قَالَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللَّهُ فَيَنْكَأَ بِكَ أَقْوَامًا وَيَنْفَعَ بِكَ آخَرِينَ يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِيِّ إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَا هُنَا فَادْفِنْهُ نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا

حضرت عمرو بن قاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین کی طرف روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے حضرت سعد کو بیمار چھوڑ گئے، اور جب جعرانہ سے عمرہ کر کے واپس تشریف لائے اور ان کے پاس گئے تو وہ تکلیف کی شدت سے نڈھال ہو رہے تھے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے پاس مال ودولت ہے، میرے ورثاء میں صرف کلالہ ہے کیا میں اپنے سارے مال کے متعلق کوئی وصیت کردوں یا اسے صدقہ کردوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں انہوں نے دو تہائی مال کی وصیت کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں ، انہوں نے نصف مال کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرمادیا، انہوں نے ایک تہائی کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں اس سر زمین میں مروں گا جس سے میں ہجرت کر کے چلا گیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رفعتیں عطاء فرمائے گا اور تمہاری بدولت بہت سوں کو سرنگوں اور بہت سوں کو سربلند کرے گا، اے عمرو بن قاری! اگر میرے پیچھے سعد کا انتقال ہوجائے تو انہیں یہاں دفن کرنا اور یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے کی جانب اشارہ فرمایا۔

جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ ← أَبِيهِ ← عمرو بن القارئ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16700

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16701

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کردیا جائے، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16701

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16702

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي فَنَّجُ قَالَ كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ فَقَدِمَ يَعْلَي بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنْ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ أَتَضْمَنُ لِي غَرْسَ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ فَقَالَ الرَّجُلُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرَتِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ فَنَّجُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَّجُ فَأَنَا أَضْمَنُهَا قَالَ فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ

فنج کہتے ہیں کہ میں 'دینباذ' (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے، ان کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی آئے تھے، ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا، میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا، اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے، وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا، اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا، پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضروریات کا خیال رکھتا رہے تا آنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا، وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا۔ فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں ! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے اخروٹ مشہور ہیں۔

فَنَّجُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← داود بن قيس الصنعاني ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16703

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسَبَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا و قَالَ رَوْحٌ عَنْ أَبِيهِ و قَالَ ابْنُ بَكْرٍ عَنْ أُمْهِ

عبدالرحمن بن طارق اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی دار یعلی سے کس جگہ تشریف لے جاتے تو قبلہ رخ ہو کر دعاء ضرور فرماتے۔

عَمِّہٖ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16703

chevron_left Previous
1…272829…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter