Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16632

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا أَمَا وَاللَّهِ مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے، بخدا! میں یہ نہیں کہتا، یہ اللہ کا کہنا ہے۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ الْيَمَامِيِّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16632

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16633

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبَاهَا فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِالْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ وَبَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ يَا سَلَمَةُ بَايِعْنِي قَالَ قَدْ بَايَعْتُكَ فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايِعْ وَرَآنِي أَعْزَلًا فَأَعْطَانِي حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ أَلَا تُبَايِعُنِي قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَايَعْتُ أَوَّلَ النَّاسِ وَأَوْسَطَهُمْ وَآخِرَهُمْ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايِعْ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ دَرَقَتُكَ أَوْ حَجَفَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ أَعْزَلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ فَقَالَ إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ اللَّهُمَّ ابْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَضَحِكَ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ قَالَ وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَحُسُّ فَرَسَهُ وَأَسْقِيهِ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ الشَّجَرَةَ فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا وَاضْطَجَعْتُ فِي ظِلِّهَا فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا وَهُمْ مُشْرِكُونَ يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلْتُ عَنْهُمْ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا آلَ الْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَشَدَدْتُ عَلَى الْأَرْبَعَةِ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي أَكْرَمَ مُحَمَّدًا لَا يَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي يَعْنِي فِيهِ عَيْنَاهُ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِابْنِ مِكْرَزٍ يَقُودُ بِهِ فَرَسَهُ يَقُودُ سَبْعِينَ حَتَّى وَقَفْنَاهُمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَكُونُ لَهُمْ بُدُوُّ الْفُجُورِ وَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنْزِلَتْ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا يُقَالُ لَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ الْجَبَلَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ كَانَ طَلِيعَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ غُلَامِهِ رَبَاحٍ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے اور بیٹھ کر یا تو آپ نے دعا فرمائی اور یا اس میں آپ نے اپنا لعاب دہن ڈالا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا۔ پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے۔ پھر رسول اللہ نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ نے فرمایا سلمہ بیعت کرو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی (اس کے بعد) پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ نے فرمایا اے سلمہ! کیا تونے بیعت نہیں کی؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی۔ آپ نے فرمایا پھر کر لو۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ نے مجھے فرمایا اے سلمہ! وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی، اے اللہ! مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کر لی۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھروالوں اور اپنے مال واسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ کو برا بھلا کہنے لگا۔ مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے، وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین! ابن زنیم شہید کردئیے گئے، میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر بھی ابن مکرز کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ کی خدمت میں لائے رسول اللہ نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے، الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت مبارکہ) نازل فرمائی اور وہ اللہ کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا مکہ کی وادی میں اس کے بعد تم کو ان پر فتح اور کامیابی دے دی تھی، پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے، راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے مشرکوں کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لئے پہرہ دے، حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے، رسول اللہ نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ کا غلام تھا، میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا، جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فزاری نے رسول اللہ کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کر لے گیا اور اس نے آپ کے چرواہے کو قتل کردیا۔

أَبِي ← إِيَاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16633

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16634

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَاءَ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَتَصَبَّحُونَ فَدَعَوْهُ إِلَى طَعَامِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَكِبَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَذَهَبَ مُسْرِعًا لِيُنْذِرَ أَصْحَابَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَهُ وَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَغَنَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی (مہمان ظاہر کر کے) کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہو تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کرسکے، میں نے اس کا پیچھا کر کے اس کی سواری کو بٹھایا اور اس کی گردن اڑادی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سازوسامان مجھے بطور انعام کے دے دیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16635

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُونُ أَحْيَانًا فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي فِي قَمِيصِي فَقَالَ زُرَّهُ وَلَوْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بعض اوقات میں شکار میں مشغول ہوتا ہوں ، کیا میں اپنی قمیص میں ہی نماز پڑھ سکتاہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بٹن لگالیا کرو اگرچہ کانٹا ہی ملے۔

زُرَّهُ وَلَوْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً ← قُلْتُ لِلنَّبِيِّ أَكُونُ أَحْيَانًا فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي فِي قَمِيصِي ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16635

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16636

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب نماز عشاء اور رات کا کھانا جمع ہوجائیں تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16636

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16637

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَّافٌ عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ قَالَ فَزُرَّهُ وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بعض اوقات میں شکار میں مشغول ہوتا ہوں ، کیا میں اپنی قمیص میں ہی نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بٹن لگالیا کرو، اگرچہ کانٹا ہی ملے۔

قُلْتُ ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← عطاف ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16637

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16638

قَالَ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَضَحَّى وَعَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعَفَةٌ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ طَلَقًا عَنْ حَقَبِهِ فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ رَجُلٌ شَابٌّ ثُمَّ جَاءَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ وَرِقَّةَ ظَهْرِهِمْ خَرَجَ إِلَى جَمَلِهِ فَأَطْلَقَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ فَخَرَجَ يَرْكُضُ وَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ هِيَ أَمْثَلُ ظَهْرِ الْقَوْمِ فَأَتْبَعَهُ قَالَ وَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ وَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَأَضْرِبُ بِهِ رَأْسَهُ فَنَدَرَ فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا قَالَ مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ہوازن کے خلاف جہاد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی مہمان ظاہر کر کے کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوا تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کر سکے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے قبیلہ اسلم کا ایک آدمی بہترین قسم کی خاکستیری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے لگ گیا، میں بھی دوڑتا ہوا نکلا اور اسے پکڑ لیا، اونٹنی کا سر اونٹ کے سرین کے پاس تھا اور میں اونٹنی کے سرین کے پاس، میں تھوڑا سا آگے بڑھ کر اونٹ کے سرین کے قریب ہوگیا، پھر تھوڑا سا قریب ہو کر اس کے اونٹ کی لگام پکڑ لی، میں نے اس کی سواری کو بٹھایا اور جب وہ بیٹھ گئی تو میں نے اس کی گردن اڑادی، میں اس کی سواری اور اس کے سازوسامان کو لے کر ہانکتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا راستہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا ابن اکوع نے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا سازوسامان بھی اسی کا ہوگیا۔

أَبِي ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةَ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16638

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16639

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولُ أَحَدٌ عَلَيَّ بَاطِلًا أَوْ مَا لَمْ أَقُلْ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرتا ہے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16639

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16640

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَيْ عَامِرُ لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ قَالَ فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ وَيَذْكُرُ تَالَلَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَكَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا وَلَكِنْ لَمْ أَحْفَظْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ فَلَمَّا اصَّافَّ الْقَوْمُ قَاتَلُوهُمْ فَأُصِيبَ عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ بِقَائِمِ سَيْفِ نَفْسِهِ فَمَاتَ فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النَّارُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقَدُ قَالُوا عَلَى حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ قَالَ أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ذَاكَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا اے عامر! ہمیں حدی کے اشعار تو سناؤ، وہ اتر کر اشعار پڑھنے لگے اور یہ شعر پڑھا واللہ اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، اس کے علاوہ بھی انہوں نے اشعار پڑھے جو مجھے یاد نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ حدی خوان کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عامر بن اکوع، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے، تو ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے ہمیں اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا؟ بہرحال! جب لوگوں نے لڑائی کے لئے صف بندی کی تو دوران جنگ عامر کو اپنی ہی تلوار کی دھار لگ گئی، اور وہ اس سے جاں بحق ہوگئے، جب رات ہوئی تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیسی آگ ہے اور کس چیز پر جلائی گئی ہے؟ لوگوں نے بتایا پالتو گدھوں پر؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں جو کچھ ہے سب بہادو اور ہنڈیاں توڑ دو، ایک آدمی نے پوچھا کہ برتن میں جو کچھ ہے، اسے بہا کر برتن دوھ نہ لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کیا؟

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16641

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16641

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16642

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا قَالَ هَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا قَالُوا لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا ثَلَاثَ دَنَانِيرَ قَالَ ثَلَاثُ كَيَّاتٍ قَالَ فَأُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ دَيْنُهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، پھر دوسرا جنازہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بھی یہی پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں تین دینار، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جہنم کے تین داغ ہیں ، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب سابق پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں ! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا؟ لوگوں نے بتایا نہیں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر ایک انصاری صحابی جن کا نام ابوقتادہ تھا نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کا قرض میرے ذمے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دی۔

رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ ← صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ. ← لَا۔ ← هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ← نَعَمْ ← «هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟» ← فَأُتِيَ بِالثَّالِثَةِ ← ثَلاَثُ كَيَّاتٍ ← ثَلَاثَ دَنَانِيرَ ← هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ← لَا۔ ← «هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟» ← لَا فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ بَعْدَ ذَلِكَ ← هَلْ تَرَکَ عَلَيْهِ دَيْنًا ← لَا۔ ← هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلِّ عَلَيْهَا ← كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ: ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16642

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16643

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ ارْمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلُّكُمْ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے ایک گروہ کے پاس سے گذرے جو کہ بازار میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنی اسماعیل! تیر اندازی کرتے رہو کیونکہ تمہارے جد امجد (حضرت اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے، تیرا اندازی کرو اور میں بھی فلاں گروہ کے ساتھ شریک ہوجاتا ہوں ، اس پر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ کھینچ لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیر پھینکو، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ ان کے ساتھ تو آپ بھی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ تیر پھینکو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔

«ارْمُوا ← مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ»، فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ، ← ارْمُوا يَا بَنِي إسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16643

chevron_left Previous
1…222324…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter