Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16620

قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرتا ہے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← الضحاك بن مخلد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16621

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا وَلِيُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آچ کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھاپی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16621

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16622

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَدْوِ فَأَذِنَ لَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگل میں رہنے کی اجازت مانگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔

سَلَمَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ فِي الْبَدْوِ فَأَذِنَ لَهُ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16622

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16623

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ فِي الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ قَعَدْتُ مُتَنَحِّيًا فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَيْضًا قُلْتُ عَلَامَ بَايَعْتُمْ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پر دوسرے لوگوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ چھٹ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن اکوع! تم کیوں نہیں بیعت کر رہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں بیعت کر چکا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوبارہ سہی ، راوی نے پوچھا کہ اس دن آپ نے کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا موت پر۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16623

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16624

قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا نَعَمْ ثَلَاثَ دَنَانِيرَ قَالَ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا نَعَمْ قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی ، پھر دوسرا جنازہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بھی یہی پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا اس نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ! تین دینار، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا جہنم کے تین داغ ہیں ، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب سابق پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں ! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر ایک انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس کا قرض میرے ذمے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دی۔

صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَيَّ دَيْنُهُ ← لَا۔ ← هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ← نَعَمْ ← ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ ← فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ ← نَعَمْ ثَلَاثَ دَنَانِيرَ ← هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ← لَا۔ ← فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ ← لَا۔ ← هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ← لَا۔ ← كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ ← سَلَمَةَ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16624

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16625

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ كَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو قَالَ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدًى لَكَ مَا أَتَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا الْحَادِي قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ قَالَ فَأُصِيبَ ذَهَبَ يَضْرِبُ رَجُلًا يَهُودِيًّا فَأَصَابَ ذُبَابُ السَّيْفِ عَيْنَ رُكْبَتِهِ فَقَالَ النَّاسُ حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَزْعُمُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ وَمَنْ يَقُولُهُ قَالَ قُلْتُ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْهُمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ بِإِصْبَعَيْهِ وَإِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ وَقَلَّ عَرَبِيٌّ مَا مَشَى بِهَا يُرِيدُكَ عَلَيْهِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میرا بھائی) عامر ایک شاعر آدمی تھا، وہ ایک مقام پر پڑاؤ کر کے حدی کے یہ اشعار پڑھنے لگے اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، ہم صدقہ و خیرات کرتے اور نہ ہی نماز پڑھتے، ہم تیرے لئے قربان ہوں جب ہم آگئے ہیں تو ہماری مغفرت فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطاء فرما، اور ہم پر سکینہ نازل فرما، جب ہمیں آواز دے کر بلایا جاتا ہے تو ہم آجاتے ہیں اور لوگ صرف آواز دے کر ہم پر اعتماد اور بھروسہ کر لیتے ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ حدی خان کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن اکوع ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے، یہ سن کر ایک آدمی نے کہا واجب ہوگئی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے ہمیں اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا؟ راوی کہتے ہیں کہ اسی غزوے میں عامر شہید ہوگئے، وہ ایک یہودی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے تھے کہ ان کی تلوار کی دھار اچٹ کر انہیں کے گھٹنے پر آلگی اور وہ شہید ہو گئے۔

سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ: ← حَمَّادٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16626

قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُنَادِيَهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَنَّ مَنْ كَانَ اصْطَبَحَ فَلْيُمْسِكْ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ اصْطَبَحَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کردے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہونے تک اسی طرح مکمل کرے۔

سَلَمَةَ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16626

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16627

قَالَ صَفْوَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِيرَانًا تُوقَدُ فَقَالَ عَلَامَ تُوقَدُ هَذِهِ النِّيرَانُ قَالُوا عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ قَالَ كَسِّرُوا الْقُدُورَ وَأَهْرِيقُوا مَا فِيهَا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُهْرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوَذَاكَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم خیبر سے واپس آرہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متفرق مقامات پر کچھ آگ روشن دیکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کس مقصد کے لئے جلا رکھی ہے؟ لوگوں نے بتایا پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں الٹ دو اور جو کچھ اس میں ہے سب بہا دو، لوگوں میں سے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس میں جو کچھ ہے، اسے بہا کر برتن کو بھی دھوئیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کیا؟

فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ ← كَسِّرُوا الْقُدُورَ وَأَهْرِيقُوا مَا فِيهَا ← على لحوم الحمر الأهلية ← علام توقد هذه النيران ← لما قدمنا خيبر رأى رسول الله نيرانا توقد ← سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← صَفْوَانُ؛

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16627

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16628

قَالَ حَدَّثَنِي مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ ذَاهِبًا نَحْوَ الْغَابَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْغَابَةِ لَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ قُلْتُ وَيْحَكَ مَا لَكَ قَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ وفَزَارَةُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعَتْ مَنْ بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَا صَبَاحَاهْ يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتَّى أَلْقَاهُمْ وَقَدْ أَخَذُوهَا قَالَ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمٌ أَقْرَعُ قَالَ فَاسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَأَقْبَلْتُ بِهَا أَسُوقُهَا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّي أَعْجَلْتُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبُوا فَاذْهَبْ فِي أَثَرِهِمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ يُقْرَوْنَ فِي قَوْمِهِمْ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " غابہ " جانے کے لئے مدینہ منورہ سے نکلا، جب میں اس کی چوٹی پر پہنچا تو مجھے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک غلام ملا، میں نے اس سے پوچھا ارے کیا بات ہے؟ (کیوں گھبرائے ہوئے ہو؟) اس نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں چھین لی گئی ہیں ، میں نے پوچھا کہ کس نے چھینی ہیں ؟ اس نے بتایا کہ ابوغطفان اور بنو فزارہ نے ، اس پر میں نے تین مرتبہ اتنی بلند آواز سے " یا صباحاہ " کا نعرہ لگایا کہ مدینہ منورہ کے دونوں کانوں تک میری آواز پہنچ گئی۔پھر میں وہاں سے ان کے پیچھے روانہ ہوا یہاں تک کہ انہیں جا لیا، انہوں نے واقعتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹیاں پکڑ لی تھیں ، میں ان پر تیروں کی بارش کرنے اور یہ شعر پڑھنے لگا کہ میں ہوں اکوع کا بیٹا، آج کا دشمنوں کو کھٹکھٹانے کا دن ہے، بالآخر میں نے ان سے وہ انٹیاں بازیاب کرا لیں ، جبکہ ان لوگوں نے ابھی تک پانی بھی نہیں پیا تھا۔پھر انہیں ہانکتا ہوا لے کر واپس روانہ ہوگیا، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوگئی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ لوگ ابھی پیاسے ہی تھے کہ میں نے ان کے پانی پینے سے قبل تیزی سے انہیں جالیا، اس لئے آپ ان کے پیچھے روانہ ہوجائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن اکوع! تم نے ان پر قابو پالیا (اور اپنی چیز واپس لے لی) اب ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو، اب اپنی قوم میں ان لوگوں کی مہمان نوازی ہو رہی ہوگی۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16629

حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ قَالَ هَذِهِ ضَرْبَةٌ أُصِبْتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ يَوْمَ أُصِبْتُهَا قَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ قَالَ

یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع کی پنڈلی میں ضرب کا ایک نشان دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابومسلم! یہ نشان کیسا ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ ضرب غزوہ خیبر کے موقع پر لگی تھی، جب مجھے یہ ضرب لگی تو لوگ کہنے لگے کہ سلمہ تو گئے، لیکن پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ پھونک ماری، اور اب تک مجھے دوبارہ اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔

يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مكي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16629

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16630

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ يَقُولُ خَرَجْتُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَكِّيٍّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ وَزَادَ فِيهِ وَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ

یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع کی پنڈلی میں ضرب کا ایک نشان دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابومسلم! یہ نشان کیسا ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ ضرب غزوہ خیبر کے موقع پر لگی تھی، جب مجھے یہ ضرب لگی تو لوگ کہنے لگے کہ سلمہ تو گئے، لیکن پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ پھونک ماری، اور اب تک مجھے دوبارہ اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔

وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ وَزَادَ فِيهِ وَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ← خَرَجْتُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَكِّيٍّ إِلَّا أَنَّهُ ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16631

قَالَ حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي مَعَ الْأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَ هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلَاةَ عِنْدَهَا

یزید بن ابوعبید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں آتا تھا، وہ اس ستون کے پاس نماز پڑھتے تھے جو مصحف کے قریب تھا، میں نے پوچھا اے ابومسلم! میں آپ کو اس ستون کا خاص اہتمام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں ، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہتمام کے ساتھ اس ستون کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مكي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16631

chevron_left Previous
1…212223…232
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter